بہار میں محافظ ہی قاتل بنے ہوئے ہیں، سیتامڑھی میں حراست کے دوران مسلم نوجوانوں کے قتل پر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے نتیش حکومت کو نشانہ بنایا




نئی دہلی: (ملت ٹائمز) بہار میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوتی جا رہی ہے،مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں مختلف بہانوں سے قتل کرایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ ریاست میں محافظ ہی قاتل بنے ہوئے ہیں اور بہار کے مکھیا نتیش کمار جو کبھی سوساشن بابو کہے جاتے تھے وہ اور ان کی حکومت یہ تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین و ملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی چیئرمین سیمانچل ڈیولپمنٹ فرنٹ بہار نے کہا۔

گزشتہ 5 مارچ کو بہار کےضلع سیتامڑھی میں پولیس حراست کے دوران چمپارن کے باشندے غفران عالم اور محمد تسلیم کی موت پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نےنتیش حکومت کی سخت تنقید کی۔انہوں نے کہاکہ پولیس حراست کے دوران نوجوانوں پر تشددکی یہ انتہا ہے ۔بہار پولیس نے مظالم ڈھانے میں بدمعاشوں اور پیشہ ورمجرموں کو بھی پیچھےچھوڑ دیا۔

انہوں نے کہاکہ ملزمین پولیس اہلکار کو اسی طرح سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جس طرح سے اسی ضلع میں 20 اکتوبر۲۰۱۸ء کوسرعام قتل کردیے گئے 80 سالہ بزرگ شخص زین الانصاری کے قاتلوں کو بچایا گیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہاکہ جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات کے ایام قریب آتے جارہے ہیں ایسا محسوس ہوتاہےکہ حکومت بہار کا لاء اینڈ آڈر پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ، سرکار کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے مجرموں اور شرپسندوں کے حوصلے بلند ہیں اور آئے دن اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے اپیل کی کہ مظلوم غفران عالم اور محمد تسلیم کے تمام قاتلوں کو سخت سزا دی جائے ،اہل خانہ کو مناسب معاوضہ اورگھر کے ایک فرد کو ملازمت دی جائے ،نیز اس واقعہ میں ملوث پولس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کاروئی کی جائے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *