جسمانی طور پر آپ کمزور ہوسکتے ہیں لیکن دماغی طور پر آپ ذہین اور طاقتور ہیں
آئی او ایس اور جے آئی ٹی کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی اور نوجوان “ کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے دانشوران کا اظہار خیال
بارہ بنکی: (پریس ریلیز) معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نئی دہلی او رجہانگیر آباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (بارہ بنکی )کے زیر اہتمام آج جے آئی ٹی کے سیمنارہال میں ٹیکنالوجی اور نوجوان کے موضوع پر یک روزہ سمینار کا انعقاد عمل میں آیاجس میں ملک بھر کے دانشوران اور آئی ٹی کے ماہر ین نے ٹیکنالوجی کی اہمیت اور نوجوانون کیلئے اس کے مثبت استعمال پر اپنا مقالہ پیش کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
سمینار کے افتتاحی سیشن میں ڈاکٹر محمد منظور عالم چیرمین آئی او ایس نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ ٹیکنالوجی کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ٹیکنالوجی کی شروعات انسانی تخلیق کے ساتھ ہوگئی تھی ۔ سب سے پہلے انسان نے روشنی کیلئے آگ کا استعمال کیا ۔ آگ پر گوشت کو گرم کرکے کھانا سیکھا ۔آج ٹیکنالوجی اتنی بڑھ گئی ہے کہ انسان نے خطرناک اسلحے بنالئے ہیں اور جوہری ہتھیاروں سے دنیا مسلح ہوگئی ہے جو انسانیت کیلئے خطرناک ہے ۔ ٹیکنالوجی نے جہاں پہلے جانوروں سے کھیتی کے استعمال اور سواری کے استعمال کا طریقہ بتایا آج اس مقصد کیلئے جدید ترین گاڑیاں دستیا ب ہوگئی ہیں ۔اسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے یورپ میں معاشی خوشحالی آئی ہے ۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم نے مزید کہاکہ اسی ٹیکنالوجی سماجی زندگی میں ہی نہیں بلکہ انسان کے اخلاقی اقدار میں بھی اس کا دخل ہوگیاہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یورپ میں صنعتی انقلاب آنے کے بعد دنیا کا نقشہ بھی بدل گیا۔آج آئی ٹی ٹیکنالوجی سے پوری دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں بچی ہے جہاں کی برآمدات آئی ٹی کی وجہ سے انقلاب نہ آیا ہو ۔یہاں جو چیز یاد رکھنے کی ہے کہ وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ایسی ترقی کیلئے کیا جائے جس کا فائدہ سبھی کو مل سکے ۔انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ٹیکنالوجی سے کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں اور اس کا بیجا استعمال کیا جاتاہے ۔نوجوانوں سے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایک ایسے وقت سے گزررہے ہیں جب ہمارے سامنے متعدد طرح کے چیلنجز ہیں ۔نئی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں نوکریاں بھی چلی گئی ہے ۔ پرانی چیزیں آ ج کے پس منظر میں بیکار ثابت ہورہی ہیں ۔ مشنیں انسانوں کا کام کررہی ہے اس لئے اسی کو مستقبل بناتے ہوئے ہمیں ٹیکنالوجی کے سہارے انقلاب برپا کرنا ہوگا ۔ڈاکٹر منظور عالم نے اپنے خطاب کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعر سے کیاکہ ؎
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
جہانگیر آباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر بریگڈیر سید احمد علی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ جے آئی ٹی نے اس خطے میں ایک تعلیمی ماحول پیدا کردیاہے ۔جہانگیر آباد کا یہ قلعہ اب ٹیکنالوجی کا مرکز بن چکاہے اور یہ لگاتار ترقی کی جانب گامز ن ہے۔ وہ دن دور نہیں جب اس کا شمار ہندوستان کے ٹیکنالوجی اداروں میں سرفہرست ہوگا اور وہی مقام ملے گا جو اس وقت پلانی انسٹی ٹیوٹ کو حاصل ہے ۔ آج ٹیکنالوجی اتنی بڑھ گئی ہے کہ روزانہ پرانی چیزیں ناقابل استعمال ہوجاتی ہے اور نئی چیزیں آجاتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جسمانی طور پر آپ کمزور ہوسکتے ہیں لیکن دماغی طور پر آپ ذہین اور طاقتور ہیں ۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے آپ انقلاب برپا کرسکتے ہیں ۔آپ بدلنے کا جذبہ اور حوصلہ پیدا کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی ۔ جو قومیں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیںرکھتی ہیں وہ تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں ۔آپ جدوجہد کریں عزم کریں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب لائیں کچھ بھی مشکل نہیں رہ گیا ہے شرط یہ ہے کہ آپ کا عزم اور جذبہ کتنا بلندہے ۔
پروفیسر محمد مزمل سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر یونیورسیٹی آگر ہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ نوجوان او رٹیکنالوجی دونوں میں تبدیلیاں ہورہی ہیں ۔ پہلے بجلی کوئلہ کے ذریعہ پیدا کی جاتی تھی اس کے بعد آگ اور پانی کے ذریعہ بجلی پیدا کی گئی اور اب دھوپ اور ہوا سے بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ بجلی کا استعمال اپنی صلاحیت کے اعتبار سے لوگ کررہے ہیں او رمختلف طرح کی ایجادت اس بجلی کی سہارے ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک سائنس اور ٹیکنالوجی ہے دوسری چیزسوشل سائنس ہے ۔معاشرہ اور سماج کی ترقی کیلئے دونوں چیزیں ضروری ہے کہ کیوں کہ سوشل سائنس راستہ دکھاتاہے کہ فلاں چیز ہمارے کام کی ہوسکتی ہے اور پھر ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے حاصل کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے ہمارے لئے سہولتیں پیدا کردی ہے ۔ انسانیت میں تخلیقی صلاحیت آئی ہے ۔ انسان کے اندر مہارات پیدا ہوئی ہے ۔ٹیکنالوجی صحت مند ی کو یقینی بناتی ہے ۔
پروفیسر منظور احمد ریٹائرڈ آئی پی ایس (سابق ڈائریکٹر جے آئی ٹی ) نے اپنے خطاب میں کہاکہ جدید ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے ۔ اس کا استعمال دنیا کو تباہی کی طرف بھی لے جاسکتاہے اور بے مثال ترقی سے بھی ہمکنار کرسکتاہے ۔ نوجوانوں کیلئے اس کا مثبت استعمال ضرروی ہونے کے ساتھ انہیں اس کے ذریعہ انقلاب برپا کرنا ہوگا ۔پروفیسر ایس ایم رضوی صدر شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ جمہوریت کی تعریف کی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذریعہ لوگوں کیلئے منتخب کردہ حکومت لیکن حقیقی جمہوریت اور ڈیموکریسی انٹرنیٹ ہے جہاں لوگوں کے ذریعہ لوگوں کیلئے معلومات فراہم کئے جاتے ہیں اور اس کا استعمال کرکے نوجوانوں کامیابی کی منزلیں طے کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت پیداکرنا اور نئی ایجادات جدید دور میں سب سے اہم ہے او رجوجتنا ماہرہے وہاں کا سماج اتناہی زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔
پروفیسر عقیل احمد وائس چانسلر انٹیگرل یونیورسیٹی لکھنو نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے دنیا کو قریب کردیاہے ۔ عوام سہولت پسند ہوگئے ہیں اور اس کے ذریعہ معاشی ،تعلیمی میدان میں مزید انقلاب پیدا کیا جاسکتاہے ۔ نوجوانونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت پیدا کریں اور نئی ایجادات کریں ۔ پروفیسر زیڈ ایم خان جنرل سکریٹری آئی او ایس نے سمینار کے موضوع کی وضاحت کی اور بتایاکہ ٹیکنالوجی دنیا کی ترقی کی علامت بن چکی ہے اور اس میں سب سے بڑا کردار ہمارے نوجوانوں کا ہے ۔آئی او ایس اور جے آئی ٹی نے اس موضوع پر سمینار کرکے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی اہمیت سے روشنا س کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ نوجوان زیادہ سے زیادہ ا س کا مثبت استعمال اوراس میں مہارت پیدا کرکے ملک اور سماج کی ترقی کا ذریعہ بنیں ۔
سمینار کے افتتاحی سیشن میں پروفیسر اشیاق دانش کی کتاب مقابلاتی دنیا میں نوجوانوں کے سامنے چیلنجز کا اجراءبھی عمل میں آیا ۔ نظامت کا فریضہ پروفیسر اشتیا ق دانش نے انجام دیا ۔قبل ازیں تلاوت قرآن سے سمینا رکا آغاز ہوا ۔

Leave a Reply