طالبات کا الزام تھا کہ بیت الخلا میں سینیٹری پیڈ کس نے پھینکا، یہ جانچ کرنے کے لئے وارڈن نے تقریباً ایک درجن طالبات کے زبردستی کپڑے اتروا دئیے
پنجاب کے بھٹنڈا میں واقع اکال یونیورسیٹی میں ہوئے سینیٹری پیڈ تنازعہ کے بعد یونیورسیٹی انتظامیہ نے دو خاتون وارڈن اور دو خاتون سیکورٹی گارڈز کو برخاست کر دیا ہے۔ بتا دیں کہ منگل کو بھی پورے دن طالبات نے احتجاج کیا۔ ان کا الزام تھا کہ بیت الخلا میں سینیٹری پیڈ کس نے پھینکا، یہ جانچ کرنے کے لئے وارڈن نے تقریبا ایک درجن طالبات کے زبردستی کپڑے اتروا دئیے۔ معاملہ کو طول پکڑتا دیکھ کر یونیورسیٹی انتظامیہ نے اب یہ قدم اٹھایا ہے۔بتا دیں کہ وارڈن کا یہ رویہ سامنے آنے کے بعد طالبات نے یونیورسیٹی انتظامیہ سے اس کی شکایت کی اور کارروائی کرنے کی مانگ کی۔ لیکن اسے محض غلطی بتا کر معاملہ کو رفع دفع کر دیا گیا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں طالبات کے احتجاج کے بعد چار ملازمین کو برخاست کر دیا گیا۔طالبات نے انتظامیہ پر تاخیر سے کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ساتھ ہی ان کا الزام ہے کہ کیمپس کے اندر دقیانوسی ماحول ہے اور ان کے طلبہ سے بھی بات چیت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
Bathinda: Girl students at Akal University continued protests yesterday after girls in one of the hostels on the campus were allegedly asked to strip by warden to check who among them had allegedly dumped a sanitary pad in toilet. 2 security guards & 2 wardens terminated. #Punjab pic.twitter.com/P6OLbROfMg
— ANI (@ANI) May 1, 2019
غور طلب ہے کہ تلونڈی سابو کی یونیورسیٹی میں دو دن پہلے ٹوائلٹ میں استعمال کئے گئے سینیٹری پیڈ ملے تھے۔ الزام ہے کہ ہاسٹل وارڈن نے مبینہ طور پر دو خاتون سیکورٹی گارڈوں کی مدد سے تقریباً 12 طالبات کے کپڑے اتروائے۔

Leave a Reply