عارف حسین طیبی ارریاوی
رمضان المبارک کا مہینہ سب سے با برکت اور عظیم الشان فضیلتوں والا مہینہ ہے ماہ رمضان المبارک کو دیگر تمام مہینوں پر ایک خاص فضیلت حاصل ہے اس کے اول عشرے میں حق تعالی شانہ کی طرف رحمتیں برستی ہیں جس کے انوارو اسرار کے ذریعے ہمیں گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے نکلنا میسر ہوتا ہے اور اس مبارک ماہ کا درمیانی حصہ گناہوں سے مغفرت کا سبب ہے اور اس ماہ کے آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی نصیب ہوتی ہے اور دنیا و آخرت کی ساری بھلائی اس شہر مبارک میں اسطرح پرو دی گئی ہے کہ اس ماہ با برکت کو پانے والا کبھی بھی خیرو برکت سے محروم نہیں رہتا انسان چاہے تو ہر آن اور ہر لمحہ اس مہینے کی فضیلت و برتری سے بہرو ور ہو سکتا ہے یہ مہینہ خدا وحدہ لاشریک لہ کے طرف سے انکے بندوں کے لئے کسی نعمت بےبہا سے کم نہیں اس مبارک مہینے کی تقدیس و تکریم اور رفعت و بلندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہیکہ اللہ نے قرآن حکیم کو اسی ماہ با برکت میں نازل فرمایا جيسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن
رمضان کا مہینہ جسمیں قرآن پاک نازل کیا گیا (البقرہ)
جو رہتی دنیا تک ساری انسانیت کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے اور اسکے احکام اوامر میں چلنے والا فلاح و بہبود کی اس کنجی کو پا لیتا ہے جہاں ناکامی اور نامرادی کا کوئی خوف اور تذبذب نہیں رہتا اور اللہ نے اسی قرآن حکیم میں اس ماہ مقدس کے روزے کی فرضیت کا بھی اعلان کیا اللہ پاک ارشاد ہے اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ اس پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقوی اختیار کرو (البقرہ)
اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس سے پہلے بھی امتوں میں روزے فرض کئے گئے تھے یہ الگ بات ہیکہ اس روزے کی نوعیت اور کمیت الگ تھی دوسری بات اس آیت کریمہ میں جو بتلائی گئی کہ روزے کا اصل مقصد تقوی اور قرب الہی ہے تاکہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہوسکے اسکی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو اور اسکے ذریعے سے مومن سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے اور تزکیہ نفس اور خود احتسابی کے ذریعے اپنے آپکو معصیت کے چنگل سے آزاد کرنے میں کامیاب ہوسکے اور مومن اپنے آپکو بارگاہ ایزدی میں اسطرح سپرد کرے کہ آخری سانس تک احکام الہی سے روگردانی کا خیال تک نہ آئے، اور اسی طرح روزے دار اپنے آپ کو اس بات کا پابند بنائے کہ روزے نام و نمود تصنع و شہرت سے پاک و صاف اور رضائے الہی اور آخرت میں بہتر اجر کی امید سے لبریز ہو کیونکہ روزے کا اصل مقصد ہی مومن میں تقوی اور خشیت الہی پیدا کر نا ہے جو صاحب ایمان کی سب بڑی خوبی ہے کیوں کہ تقوی ہی مومن کو اللہ کی نظر میں سب سے ممتاز اور لائق اکرام بناتا ہے جو ایک طرح سے مومن بندے کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں بہ صورت دیگر اگر انسان روزہ رکھنے کے باوجود بھی تقوی حاصل نہیں کرتا یا اسمیں کسی طرح کی دینی اسلامی و شرعی تبدیلی کے آثار نمایا نہیں ہوتے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ ہم روزے کی حقیقی مقصد کو پانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جبکہ دینی تبدیلی کا احساس ہمیں اس بات کی خبر دیتا ہے کہ ہمارے اندر معرفت الہی ، خوف خدا اور امن و عافیت سے معمور دنیاوی حیات اور آخرت میں رضائے الہی کی نعمت کبری سے سرفرازی کا مستحق بناتا ہے اسلئے روزے کی حقیقی مقصد کے پانے کے لئے ہمیں اپنے ہر عمل میں اخلاص کو جگہ دینی ہوگی کیوں کہ روزے کا حقیقی محرک رضائے الہی کا حصول ہے اور ان شرائط کی تکمیل پر انعام واکرام، دنیاوی واخروی فلاح کی یقین دہانی کے ساتھ عدم تکمیل پر دنیاوی خسران اور آخرت میں عذابِ عظیم سے دوچار ہونے کا خدشہ بھی ہے ایک اور آیت میں باری تعالی کا پاک ارشاد ہے پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے اسکے روزے ضرور رکھیں ( البقرہ)
اس آیت کریمہ میں روزہ رکھنے کا حکم ہر اس صاحب ایمان کو دیا گیا ہے جو اپنی زندگی میں اس مقدس مہینے کو پاتا ہے اسکے لئے ضروری ہیکہ وہ وقت کو غنیمت جانے اور اپنے رب کے احکام کی بجا آوری میں بالکل تاخیر نہ کرے کیوں کہ زندگی اور موت اس دار فانی کا حصہ ہے نہ جانے کب ہماری موت کا دن آجائے اور ہم ھمیشہ ہمیشہ کے لئے اس شہر بابرکت کی فضیلت سے محروم ہوجائیں روزے کی فضیلت پر کتب احادیث میں بڑی تعداد میں روایتیں وارد ہوئی ہیں ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کا روزہ رکھے انکے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ( بخاری )
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت کے ساتھ اہل ایمان کو اس بات کی خبر دی ہے کہ جو شخص احتساب یعنی خلوص و للہیت اور طلب ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور حالت صوم میں صبر و استقلال کا مظاہرہ اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے گا تو اس شخص کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ایک اور روایت میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان اور احتساب سے رمضان المبارک کے روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جس طرح ابھی اپنےماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ( سنن نسائی )
ایک روایت میں ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور (بڑے بڑے) شیطانوں کو زنجیڑوں میں جکڑ دیا جاتا ہے ( بخاری )
ایک اور روایت میں ہیکہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے جنت کے دروازہ کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازہ بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کردیا جاتا ہے ( مسلم )
ایک اور روایت میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے باری تعالی فرماتا ہے روزہ اس سے مستثنی ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں اسکا اجر دونگا ( ابن ماجہ )
اس حدیث سے پتا چلتا ہیکہ بعض اعمال کا ثواب اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے لیکر سات سوگنا تک بڑھ جاتا ہےبلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ لیکن روزہ ایک ایسا عمل ہے جسکا ثواب عنداللہ بے حد ، بے اندازہ اور بے شمار ہے یہ کسی ناپ تول اور حساب کا محتاج نہیں یہ صرف اللہ کو معلوم ہے یقینا رمضان المبارک کا مہینہ اللہ کے طرف ایک ایسی نعمت ہے جہاں اللہ اور اسکے رسول کو راضی کرنے کے لئے ایمان والوں کو اس سے بہتر موقع سال کے کسی مہینے میں میسر نہیں ہوتی اسلئے اس عظیم شہر مبارک کا ہر لمحہ قیمتی ہے ہر گھڑی مغفرت طلب کرنے کا ذریعہ ہے یہ مہینہ مومن بندوں کے لئے ایک موسم بہار کی طرح ہے جہاں انسان دنیا کی ہولناکیوں سے نکل کر رحمت الہی کے سدا بہار چھاؤں میں سکون محسوس کرتا ہے یہ مہینہ ایمان والوں کو ظلمت و ضلالت کی تاریک کوٹھریوں سے نکال کر نور ایمانی سے روح کو تازگی عطا کرتا ہے یہ مہینہ ہمدردی اور غمگساری کا ہے جسکا اجر ایک بہترین انعام کی شکل میں اللہ نزدیک موجود ہے یہ مہینہ انفاق فی سبیل اللہ کا ہے جس سے غربا اور مساکین کی اعانت ہوتی ہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک رہتے ہیں یہ مہینہ بھائی چارگی اور مساوات کا ہے جہاں معاشرے کا ہر فرد بلا تخصیص مذہب و ملت کے یکساں اہمیت کے حامل ہیں یہ مہینہ اپنی معصیت اور گناہوں سے توبہ کرکے روٹھے رب کو راضی کرنے کا ہے یہ مہینہ شب بیداری اور رب کے حضور میں گریہ زاری کا ہے جہاں ہماری ساری خطائیں معاف کردئیے جاتے ہیں اسلئے
آگر ہم یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ پورے مہینے عبادت میں گزارتے ہیں تو ہمیں جہنم کی آگ سے خلاصی کا پروانہ ملتا ہے اور دنیا میں جینے کا جو ہمارا مقصد ہے اسمیں کامیابی ملتی ہے اور روزہ اللہ کے نزدیک اتنا محبوب عمل ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اپنے سے قریب تر کر لیتا ہے جیسا کہ ایک روایت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا : جس کے قبضے میں نبی اکرم صلی اللہ کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بد بو اللہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ محبوب ہے ( مسلم) اسی طرح روزےدار کے لئے دوخوشییاں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
للصائم فرحتان يَفْرَحُهُما: إذا أفْطَرَ فَرِحَ، وإذا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بصَوْمِهِ.
روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جن سے اسے فرحت ہوتی ہے ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے باعث خوش ہو گا( بخاری )
اسمیں سے ایک روزانہ روزے دار کو افطار کے وقت میسر ہوتی ہے جب ہم کڑے دن کی بھوک اور پیاس کے بعد لذت طعام و شرب سے آسودہ ہوتے ہیں دوسری خوشی اسوقت نصیب ہوگی جب عالم آخروی میں دیدار باری تعالی کی نعمت عظمی سے ہم نوازے جائینگے مذکور بالا ساری روایتیں مسلمانوں کو اس بات کی دعوت دے رہی ہے کہ یہ برکت والا مہینہ ہم سب کے لئے ایک انمول خزانہ کی طرح ہے جس سے دنیا اور عالم آخرت کی تیاری کے لئے پوری خلوص و للہیت کے ساتھ عمل میں لایا جاسکتا ہے اور اسکی ناقدری دنیا اور آخرت کےلئے خسارے کا باعث ہے جو ناکامی اور محرومی کی دلدل میں لاکر چھوڑ دیتا ہے ایک ایک روزے کی فضیلت اس مہینے میں اتنی ہیکہ اگر کوئ شخص ایک بھی روزہ جان بوجھ کر چھوڑ دے اور اسکے کفارے میں سال بھر بھی روزہ رکھے تو اس رمضان المبارک کے ایک روزے کی فضیلت کو نہیں پہونچ سکتا اسلئے روزوں کی حفاظت بھی ہماری سب بڑی شرعی ذمہ داری ہے جو باری تعالی نے ہم مسلمانوں پر فریضہ کی شکل میں اتاری ہے اور حالت صوم میں ہماری ذمہ داری بنتی ہیکہ لایعنی اور لغویات سے ہم پوری طرح محفوظ رہیں کیوں کہ لغویات چاہے فعلا ہو یا قولا دونوں طرح کے اعمال قبیحہ ہمارے روزوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں جس سے ہم روزے کا اصل مقصد اور اور اسکے برکات و ثمرات سے محروم کردیئے جاتے ہیں جو عنداللہ مطلوب نہیں ہے موجودہ وقت میں ہماری معاشرتی زندگی منکرات اور فحاشیات سے عبارت ہے ہم اکثر ایسے گناہوں میں لت پت اور آلودہ نظر آتے ہیں جس سے پورا معاشرہ ہماری ان گناہوں کی وجہ گھن کرنے لگتا ہے اسلئے اگر حالت صوم میں ہم سے اس طرح کی سماجی اور معاشرتی برائیاں غیبت ، چغل خوری ، بغض و حسد گالی گلوچ جیسے گناہ سرزد ہوتے ہیں تو اس روزے سے کسی بھی طرح کے ثواب اور آخرت میں اسکے ذریعے بہتر جزاء کی امید رکھنا فضول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے من لم یدع قول الزرو والعمل به فلیس للہ حاجة في ان يدع طعامه وشرابه (رواہ البخاری)
جو شخص حالت صوم میں چھوٹ گوئی اور اسپر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو کوئی ضرورت نہیں وہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے اس حدیث میں صاف صاف یہ پیغام دیا گیا ہے کہ روزہ فرض کرنے کا مقصد صرف روزے دار کو بھوکا پیاسا رکھنا نہیں بلکہ دنیاوی لذتوں اور جملہ خواہشات اور برے اعمال جیسے جھوٹ بولنا غیبت کرنا چغل خوری گالی گلوچ سے بچانا بھی ہے کیوں کہ یہ ایسے امور رذیلہ اور قبیحہ ہیں جس سے روزے کا مقصد مفقود ہوجاتا ہے اور روزے دار روزے کی برکات و ثمرات سے محروم کردیا جاتا ہے ایک اور روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو تو بیہودہ گوئی نہ کرے اور نہ فحش کلامی اگر کوئی شخص گالی دے یا جھگڑا کرے تو کہہ دو میں روزے سے ہوں ( ابن حبان ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو بہت ہی نرالے انداز میں اس بات کی تعلیم دی ہیکہ حالت صوم میں لغویات سے ہر حال میں پرہیز کرے کیوں کہ اگر نیکیوں کی حفاظت کرنی ہے تو زبان کو لا یعنی باتوں سے روکنا ہوگا ایک روایت میں نبی صلی اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسکے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ( بخاری) زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی وجہ سے جہاں جنت کی ضمانت دی گئی ہے وہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمیں کوتاہی اور بے دریغ لغویات کے استعمال پر جہنم لے جانے والا عمل بتلایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کیا تم جانتے ہو لوگوں کے سب سے زیادہ کیا چیز جہنم میں داخل کرے گی : وہ دو کھوکھلی چیزیں زبان اور شرمگاہ ( ترمذی ) معلوم ہوا کہ زبان کا غلط استعمال انسان کے اعمال نماز ، روزہ ، حج ، زکات کا برباد کرسکتا ہے اسلئے اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کوبھی اس بات کی تعلیم کریں کہ وہ حتی الامکان فحش کلامی اور منکرات سے بچنے کی کوشش کریں اسکے باوجود بھی اگر کوئی نہیں مانتا اور فحش کلامی کرتا ہے تو ان سے کہیئے کہ میں روزے سے ہوں ہوسکے انکے دل میں روزہ اور روزے دار کی عظمت پیدا ہوجائے اور وہ شخص بدکلامی سے باز آجائے۔
سحری کی فضیلت
سحری اس کھانے کو کہتے ہیں جو رات کے آخری حصے کھایا جائے حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی بڑی تاکید فرمائی ہے بخاری شریف میں سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تسحروا فان فی السحور برکة سحری کھایا کرو کیوں کہ سحری میں برکت ہے علماء نے لکھا ہیکہ سحری مستحب ہے ہمیں ضرور کرنا چاہئے کیوں کہ یہ رات کے آخری حصے کا کھانا ہوتا ہے جس سے ہمیں جسمانی قوت حاصل ہوتا ہے اور ہمیں روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے سارا دن ہمارا جسم طاقت محسوس کرتا ہے اور دن بھر کام میں ہمیں ضعف و نقاہت محسوس نہیں ہوتی۔
بہت سے لوگ سحری کو مستحب جان کر کھانے کے لئے بیدار تو ہوتے ہیں اور پھر سحری کھانے کے بعد فجر کی نماز پڑھے بنا سوجاتے ہیں یہ بہت بڑی بد نصیبی کی بات ہے رمضان جیسے فضیلت والے مہینے میں بھی فجر کی نماز ادا کرنے سے غافل ہوجاتے ہیں یاد رکھئے سحری کی سنت ادا کرکے فجر کی فرض کو ترک کردینا کسی طرح جائز نہیں یہ سحری کے فضیلت و برکات سے محرومی کی باعث ہے
یاد رکھئے روزہ ایک فرض عبادت ہے یہ سال میں ایک دفعہ صرف ایک مہینے کے لئے ہم مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے اسلئے اس عبادت کو کرنے میں جتنا صبر استقلال کا مظاہرہ کرینگے جتنی اپنی خواہشات کو اس روزے کے لئے قربان کرینگے ان شاءاللہ اتنی ہی فضائل و برکات سے ہم مستفیض ہونگے اور آخرت میں بےپناہ اجروثواب اور دنیاوی زندگی میں ہر طرح کے مسائل من جانب اللہ حل ہونگے اور کامیابی اور کامرانی ہماری مقدر بنے گی۔
اللہ سے دعا ہیکہ اس با برکت مہینہ میں ہم سب کو رمضان کے پورے روزے اور سارے امور کو بہتر ڈھنگ سے انجام دہی نصیب کرے آمین۔

Leave a Reply