حامد اقبال صدیقی
چند روز قبل میں نے سوشیل میڈا پر جاری پوسٹر کے ذریعہ اپیل کی تھی کہ رمضان المبارک میں اپنی زکوۃ، صدقاتت اور عطیات اردو اسکولوں کے غریب طلبہ کو دیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب اردو اسکولوں میں زیادہ تر طلبہ نہایت غریب گھروں سے آتے ہیں، تھوڑی سی بھی بہتر مالی حالت کے حامل والدین اب اپنے بچوں کو انگلش اسکولوں میں پڑھارہے ہیں۔ اردو اسکولوں کے ان غریب بچوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اکثر بھوکے پیاسے اسکول آجاتے ہیں کہ ان کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ بہت ہی ذہین بچے کاپی، کتاب، یونیفارم، جوتے، برساتی، چھتری، قلم، ڈرائنگ اور جیومیٹری باکس، اسکول بیگ اور دیگر ضروری اشیا کی عدم دستیابی کی وجہ سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کی ذہانت رفتہ رفتہ ماند پڑ جاتی ہے، وہ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے اساتذہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ان بچوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اپنے اسکول کے ضرورت مند بچوں کو اپنی جانب سے ضروری چیزیں فراہم بھی کرتے رہتے ہیں، یہ قابلِ ستائش و تقلید کام ہے لیکن اساتذہ کی یہ نجی کوششیں ناکافی ہوتی ہیں۔
نیا تعلیم سال شروع ہونے والاہے۔ اب غریب والدین کو اسکول فیس یا متفرق فیس، یونفارم اور کاپیوں وغیرہ کے اخراجات کی فکر لاحق ہے۔ ایسے حالات میں تو وہ اور ان کے بچے کس طرح سے عید منائیں گے اس کے تصوّر سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔
رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے، رحمتوں بھرے اس مہینے میں اللہ کے فضل و کرم سے ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق زکوۃ، عطیات اور خیراۃ میں جی کھول کر خرچ بھی کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اردو اسکولوں کے یہ غریب بچے ہماری توجّہ اور اعانت کے بہت زیادہ مستحق ہیں۔
میں سبھی محبّانِ اردو سے انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ استدعا کرتا ہوں کہ اس ماہِ مبارک میں پنی زکوۃ، عطیات اور خیراۃ اپنے قریبی اردو اسکول میں جاکر ذمے داروں کے پاس جمع کروائیں تاکہ اسکول کھلتے ہی ان غریبوں کی عید کی خوشیاں دوبالاہوجائیں اور وہ بھی ذی حیثیت طلبہ کی طرح ذوق و شوق سے تعلیم حاصل کریں۔
ایک اور اہم بات!
ہم انگلش اسکولوں میں بڑی بڑی رقمیں بطور ڈونیشن دے دیتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ان اسکولوں میں نت نئے حیلوں بہانوں سے سال بھر والدین سے رقمیں اینٹھی جاتی ہیں۔ ہمارے ہی پیسوں سے ان اسکولوں کی چکا چوند ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بہت سے اردو اسکولوں میں مالی دشواریوں کے سبب ڈھنگ کا انفرا اسٹرکچر نہیں ہوتا، ہم اپنے ان اسکولوں کو کچھ نہیں دیتے بلکہ ان کی بدحالی اور معیار پر انگلی اٹھاتے رہتے ہیں۔
اردو سے محبت کرنے والے ذی حیثیت افراد سے میں استدعا کرتا ہوں کہ اپنے قریبی اردو اسکول کو بھی عطیات دیں، ٹوٹا پھوٹا، پرانا فرنیچر، بلیک بورڈ، اکھڑے ہوئے پلاسٹر والی سیلن زدہ دیواریں، بد ترین بیت الخلا، پنکھوں اور ٹیوب لائٹوں سے محروم کلاس روم، بوسیدہ اسٹاف روم، پھٹے ہوئے ڈرینیج پائپ، ضروری آلات سے محروم لیباریٹری، نئی اور کارآمد کتابوں سے محروم لائبریری، یہ سب کچھ ہمیں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں، دیکھو یہ ہیں وہ اردو اسکول جن کے معیارِ تعلیم کا تم مذاق اڑاتے ہو، اساتذہ کی محنتوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہو، ایسے اساتذہ کا جو اس بدحالی کے ماحول میں سال بھر گزارتے ہیں، لوگوں کی، افسران کی، انتظامیہ کی لعن طعن برداشت کرتے ہیں اور ان سب کے باوجود بالکل ناخواندہ اور غریب گھرانوں کے بچوں کو اس لائق بنادیتے ہیں کہ وہ ایس ایس سی میں اسّی نوّے فیصد مارکس لے آتے ہیں۔
(★ چیئرمین: کوئیز ٹائم ممبئی۔ )

Leave a Reply