افطار پارٹی




فیروز عالم ندوی

اسلام دین فطرت ہے ، اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو عبادت قرار دیا ہے ، اگر روزمرہ کے تمام معمولات کو اس کے بتائے ہوئے طریقے سے انجام دیا جائے تو وہ عبادت قرار پائے گی اور  اس کے لیے اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ اس کے برعکس دنیا کے تمام مذاہب میں عبادت ان چند رسوم اور حرکات و سکنات کا نام ہے جو مخصوص عبادت گاہوں میں کیے جاتے ہیں ، اس سے ہٹ کر نہ صرف یہ کہ شب و روز کی تمام سرگرمیاں عبادت کے دائرہ سے باہر تصور کی جاتی ہیں بلکہ ان کا دین سے کوئی تعلق بھی نہیں سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی ان معاملات میں دین کو اثر انداز ہونے دیا جاتا ہے۔

اب اگر صرف ان اعمال کی بات کریں جسے محض عبادت کے طور پر کیا جاتا ہے تو اس میں بھی اسلام تمام مذاہب سے بالکل ممتاز نظر آتا ہے۔ دیگر ادیان کی عبادات پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ وہ تمام رسومات اور حرکات و سکنات جو عبادت کے نام پر کئے جا رہے ہیں ان کا انتہائی اور واحد مقصد اپنے معبود کو خوش اور راضی کرنا ہے، اپنے زندگی کے سفر میں اس کے غضب سے بچنا ہے اور کسی ناگہانی سے خود کو دور رکھنا ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے خالص عبادت کے طور پر کیے جانے والے اعمال کو بہت وسعت کے ساتھ متعین کیا ہے، مثلاً: نماز؛ اس عبادت کو اللہ تعالی نے جماعت کے ساتھ خاص وقتوں میں فرض کیا ہے۔ لہذا یہ نمازیں ہمیں اجتماعیت  کے ساتھ ساتھ وقت کا پابند اور اس کی قدر و قیمت جاننے والا بناتی ہیں۔ 

زکوۃ؛ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کو ادا کرنے سے اللہ کی رضا کے ساتھ ساتھ معاشرے سے غربت اور افلاس دور ہوتا ہے ۔ معاشرہ میں جاری معاشی ناہمواری ختم ہوتی ہے۔

حج؛ اس عبادت کو ادا کرنے والا جہاں ہاں اللہ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے وہیں دوسری جانب نفس کشی  اور عالمی اخوت کے احساس سے مالامال ہوتا ہے۔

ٹھیک اسی طرح اللہ جل شانہٗ نے رمضان کے مہینے میں میں روزہ کو فرض قرار دے کر جہاں اسے اپنی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے وہیں دوسری جانب اس کے چند چند فوائد بھی رکھے ہیں جو خود قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں۔ 

تقویٰ؛ یہ روزہ کا سب سے اہم اور بنیادی مقصد ہے، اللہ تبارک و تعالی نے اپنی کتاب میں اس عبادت کی فرضیت کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مقصد صاف لفظوں میں واضح کیا کہ “تاکہ تم متقی بن جاؤ”۔ اس کے دوسرے فوائد جو جو کتب حدیث میں مذکور ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں:  صبر و ضبط، تحمل و بردباری، اخلاص اور غمگساری و بہی خواہی جیسے فوائد کا حصول ۔ 

ماہ رمضان میں ہر طرح کے نیک اعمال کا اجر وثواب کئی گنا زیادہ کر دیا جاتا ہے وہیں ایک خاص عمل کو انتہائی اجر و ثواب کا حامل قرار دیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو افطار کرانا۔ اس عمل میں غرباء اور مساکین کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں افطار پارٹی نے ایک فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بڑی بڑی دعوتیں دی جاتی ہیں اور ان میں شرفاء، مالدار ، صاحب رسوخ اور چودھری قسم کے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس میں ناداروں اور مسکینوں کو نہیں پوچھا جاتا ہے۔

مسئلہ ان سیاسی افطار پارٹیوں کا نہیں ہے جو غیر مسلم شخصیات کی جانب سے دی جاتی ہیں ، خواہ ان کی نیت کچھ بھی ہو مگر دعویٰ بین المذاھب انسانی رواداری کا ہو تا ہے جسے کچھ وقت کے لیے قبول کیا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ ان مسلمان صاحب ثروت حضرات اور چودھریوں کا ہے جو اسلام کے نام پر اس کی روح کو مجروح کرتے ہیں ، سر عام مقاصد شریعت کا مذاق اڑاتے ہیں، اس کی نافعیت کو مجروح کرتے ہیں، اس کی شفافیت کو گدلا کرتے ہیں اور بالواسطہ اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں۔

دینی حمیت کا یہ تقاضا ہے کہ اس طرح کی غیر واقعی مجالس کا بائیکاٹ کریں یا کم از کم خود کو اس سے دور رکھیں، کیونکہ مقاصد شریعت کا مذاق بنانا ایک انتہائی سنگین جرم ہو گا اور ایسی دعوتوں میں شریک ہو کر اس جرم کا ساتھ دینا بھی ایک جرم قرار پائے گا۔

(مضمون نگار ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی کے معاون اڈیٹر ہیں) 


Posted

in

by

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *