مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی کانگریس سرکار خطرے میں ۔ ممبران اسمبلی پر خصوصی نظر

کانگریس نے 29 مئی شام 6 بجے دارالحکومت بنگلور میں اپنے پارٹی اراکین کی میٹنگ بلائی ہے۔ کانگریس کے اس اقدام کے بعد ایک بار پھر ریزورٹ سیاست کے امکانات دیکھنے کو مل سکتی ہیں
بنگلور (ملت ٹائمز)
لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کی عفریتی فتح کے بعد جنوبی ریاست کرناٹک میں جے ڈی ایس کانگریس حکومت کا تخت ہلنے لگا ہے۔ ریاست میں کئی ممبران اسمبلی کے بی جے پی کے رابطے میں ہونے کی خبریں ہیں۔ جس کے بعد کانگریس اپنے ممبران اسمبلی کو بچانے میں لگ گئی ہے. کانگریس نے 29 مئی شام 6 بجے دارالحکومت بنگلور میں اپنے پارٹی اراکین کی میٹنگ بلائی ہے۔ کانگریس کے اس اقدام کے بعد ایک بار پھر ریزورٹ سیاست کے امکانات دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔کانگریس پارٹی اراکین کی میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پارٹی کے اندر عدم اطمینان گہرا رہا ہے۔ پارٹی کے ممبران اسمبلی رمیش کچھ وقت سے بی جے پی کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں اور انہوں نے لوک سبھا انتخابات کے بعد کچھ ممبران اسمبلی کے ساتھ استعفیٰ بھی دینے کی دھمکی دی ہے۔ بی جے پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس اور کانگریس کے کئی رکن اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں۔ واضح ہو کہ کانگریس نے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی کراری شکست اور پارٹی میں بڑھتے عدم اطمینان کے درمیان پارٹی اراکین کی میٹنگ بلائی ہے۔کانگریس پارٹی اراکین کے لیڈر سد ارمیا نے ودھان پریشد ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان اور پارٹی ممبران اسمبلی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ موجودہ سیاسی واقعات پر بحث کرنے کے لئے یہاں 29 مئی کو شام چھ بجے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تمام ممبران اسمبلی کو اجلاس میں ضرور موجود رہنا چاہئے اور قیمتی تجاویز کرنا چاہئے۔ دوسری طرف مدھیہ پردیش میں حالات اچھے نہیں ہیں ۔ وزیر اعلی کمل ناتھ نے تمام وزراءکو حکم دیاہے کہ وہ اپنے علاقے کے ممبران پر نظر رکھیں ۔