کولکاتہ 28مئی ( آئی این ایس انڈیا )
مغربی بنگال میں لوک سبھا انتخابات دھچکا لگنے اور پارٹی کے کئی رہنماو¿ں کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ممتا بنرجی اپنی حکومت میں کئی اہم تبدیلیاں کی تیاری میں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کابینہ سے کچھ وزراءکی چھٹی کر سکتی ہیں۔ ممتا بنرجی اپنے رہنماو¿ں کے حلقہ میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں گی اس کے بعد وزراءکے پورٹ فولیو میں تبدیلی کا فیصلہ کریں گی۔ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی اپنے کئی وزرا کا شعبہ بھی بدل سکتی ہیں۔ بی جے پی کی کارکردگی بھوانی پور اسمبلی حلقہ میں بھی اچھا رہا ہے، جہاں ممتا انتخابات لڑتی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی رودرناتھ گھوش سمیت شمالی بنگال کے اپنے کئی لیڈروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ممتا کابینہ میں ردوبدل کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب ٹی ایم سی کے دو رکن اسمبلی اور 50 سے زیادہ کونسلر منگل کو دہلی میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ اس میں بی جے پی لیڈر مکل رائے کے بیٹے بھی شامل ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں مو¿ثر کارکردگی کے بعد بی جے پی ریاست میں اپنی پوزیشن اور مضبوط بنانے میں لگی ہے۔غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ گھمسان کے باوجود 22 سیٹیں جیت کر اپنی عزت برقرار رکھی۔ بی جے پی کو 18 اور کانگریس کو 2 سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی کی اس جیت میں مکل رائے اور بنگال بی جے پی کے انچارج کیلاش وجے ورگی کا بڑا رول ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی کے لئے زبردست نتائج مغربی بنگال سے آئے جہاں اس نے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے پسینے چھڑا دیئے ۔






