انڈین مجاہدین مقدمہ :اب تک ایک ہزار سے زائد کاری گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل

جمعیة کے وکلاءکا پینل ملزمین کے دفاع میں مصروف
ممبئی،31 مئی (آئی این ایس انڈیا)
ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے پہلے ایسے مقدمہ جس میں ۵۳ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت کی جارہی ہے کی جاری سنوائی میں ابتک ۸۲ سو سرکاری گواہان میں سے 1041 سرکاری گواہان سے مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاءنے جرح کی ہے ۔جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست گجرات کے تجارتی شہروں احمد آباد اور سورت میں سال ۹۰۰۲ ءمیں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات کی سماعت احمد آبا د کی خصوصی عدالت میں جاری ہے اور ابتک اس معاملے میں ۶۲ سو سرکاری گواہوں میں سے ایک ہزار سے زائد سو سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج عمل میںآچکا ہے جس میں فریادی، زخمی، ڈاکٹرس ، پنچ ، حادثوں کے مقامات پر موجود عینی شاہدین ، حکومت گجرات کے افسران و دیگر شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ججوں کے تبادلے کی وجہ سے معاملے کی سماعت اس تیزی سے نہیں ہوپارہی تھی لیکن نئے جج اے آر پٹیل کے چارج سنبھالنے کے بعد سے سرکاری گواہان کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کیا جارہا ہے اور ہفتہ میں تین دن مقدمہ کی سماعت کا شیڈول بنایا گیا ہے ، حالانکہ گجرات حکومت کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 268 کے نفاذ کے بعد سے ملزمین کی عدالت میں حاضری پر روک لگی ہوئی ہے لیکن بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ انہیں عدالت کی کارروائی میں شریک کیا جارہا ہے ۔انہوں نے نے مزید کہا کہ بھوپال منتقل کیئے گئے دس ملزمین کو واپس احمد آباد بلانے کے لیئے احمد آباد ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے نیز احمد آباد کی سابرمتی جیل میں مقید ملزمین پر سے دفعہ 268 ہٹانے کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ ملزمین کو دیگر ریاستوں میں ان کے خلاف جاری میں حصہ لینے کے لیئے بھیجا جائے لیکن حکومت گجرات اس کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔گلزار اعظمی نے اس ضمن میں مزیدکہا کہ اس معاملے میں ملک کے مختلف شہروں سے گرفتار۵۸ اعلی تعلیم یافتہ ملزمین میں سے ۵۶ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی جمعیة علماءکررہی ہے نیز ملزمین کے دفاع میں وکلاءایڈوکیٹ ایل آر پٹھان، ایڈوکیٹ ایم ایم شیخ، ایڈوکیٹ این اے علوی، ایڈوکیٹ جے ایم پٹھان ، ایڈوکیٹ الطاف شیخ، ڈی ڈی پٹھان اور ایڈوکیٹ خالد شیخ اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔ گلزار اعظمی نے مزید بتلایا کہ کہ گجرات مقدمہ میں ماخوذین میں سے ۳۱ ، ملزمین کو ممبئی انڈین مجاہدین مقدمہ اور ۷ ملزموں کو دہلی انڈین مجاہدین مقدمہ میں ماخوذ بتا یا گیا ہے نیز اسی طرح انہیں ملزمین کو حیدار آباد اور بنگلور کے بھی بم دھماکوں کے سلسلے میں ماخوز بتایا گیا ہے نیز جمعیة علماءملک کے دیگر صوبوں میں بھی ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے لیکن ملزمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے احمد آباد کو چھوڑ کر دیگر شہروں کے مقدمات سست روی کا شکا رہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ انڈین مجاہدین معاملے کا سامنا کررہے ملزمین جنہیںبھوپال سینٹرل جیل میں رکھا گیاہے کو احمدآباد کی سابر متی جیل لانے کے لیئے کوشش کی جارہی ہے کیونکہ بھوپال جیل انتظامیہ ملزمین کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیئے ہوئے ہے۔اس تعلق سے احمد آباد ہائیکورٹ اور نچلی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور عدالت سے ملزمین کی جیل منتقلی کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود بھوپال جیل انتظامیہ انہیں بھوپال جیل سے احمد آباد جیل منتقل نہیں کررہی ہے۔