امیٹھی ،یکم جون (آئی این ایس انڈیا)
لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش کی امیٹھی سیٹ سے راہل گاندھی کی شکست نے کانگریس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پارٹی کی روایتی نشست مانی جانے والی امیٹھی سے بی جے پی کی اسمرتی ایرانی نے تقریبا 55 ہزار ووٹوں سے جیت درج کی تھی۔ امیٹھی سے راہل گاندھی کی ہار کی وجوہات کی تلاش کر رہی کانگریس کی دو رکنی کمیٹی نے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی)کی طرف سے عدم تعاون کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ دونوں ہی پارٹیوں کی مقامی یونٹ نے کانگریس کا ساتھ نہیں دیا اور ان کے ووٹ بی جے پی کے اکاو¿نٹ میں چلے گئے تھے۔ کمیٹی کے رکن کانگریس سیکرٹری زبیر خان اور کے ایل شرما نے ہفتہ کو واضح طور پر کہا کہ امیٹھی میں ایس پی اور بی ایس پی کی مقامی یونٹ نے کانگریس کو تعاون نہیں دیا اور اس کی وجہ سے ان پارٹیوں میں سے زیادہ تر ووٹ بی جے پی کے اکاو¿نٹ میں منتقل ہو گیا۔ اس بات کو تھوڑا اور مناسب طریقے سے سمجھاتے ہوئے امیٹھی کے ایک مقامی کانگریسی نے کہا کہ راہل گاندھی کو سال 2014 کے مقابلے اس بار زیادہ ووٹ ملے تھے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں جہاں انہیں 4.08 لاکھ ووٹ ملے تھے، وہیں اس بار انہیں 4.13 لاکھ لوگوں نے ووٹ دیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں یہاں سے بی ایس پی امیدوار کو 57 ہزار ووٹ ملے تھے اور 2019 کے انتخابات میں راہل گاندھی کی ہار 55 ہزار ووٹوں سے ہوئی ہے۔ اگر بی ایس پی کا ووٹ کانگریس کے کھاتے میں آ جاتا تو راہل گاندھی نہیں ہارتے۔ امیٹھی کے کانگریس کے سربراہ یوگیندر مشرا بھی اس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی کہا کہ ایس پی-بی ایس پی کا عدم تعاون ہی راہل کی شکست کی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ہی پارٹیوں کے لیڈروں نے امیٹھی میں کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن پھر بھی کانگریس کو ان کا ساتھ نہیں ملا۔ مشرا نے بتایا کہ ایس پی لیڈر اور سابق وزیر گایتری پرجاپتی کے بیٹے انل پرجاپتی نے کھلے عام اسمرتی ایرانی کے لئے تشہیر کی تھی۔ اس کے علاوہ گوری گنج سے ایس پی ممبر اسمبلی راکیش سنگھ نے اپنے بلاک سربراہان اور ضلع پنچایت اراکین کو بچانے کے لئے بی جے پی کا ساتھ دیا۔






