مایاوتی نے پھر دیا موقع پرستی کا ثبوت ۔ دس سیٹیں جیتنے کے بعد سماجوادی کے ساتھ اتحاد کو کہا الوداع

ہم اتر پردیش میں 11 اسمبلی سیٹوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات اکیلے ہی لڑیں گی“۔
انہوں نے کہا ”قنوج میں ڈمپل، بدایوں میں دھرمیندر یادو اور فیروزآباد سے اکشے یادو کی شکست نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا ہے
لکھنو (ایم این این )
بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے سماجوادی پارٹی سے فلی الحال رشتہ توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آج انہوں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان انتخابات میں یادوو¿ں نے اپنی ہی سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب یادوو¿ں نے اپنی ہی پارٹی کو ووٹ نہیں دیئے تو ہماری پارٹی کو ووٹ کیا دیتے۔ انہوں نے اس موقع پر سماجوادی پارٹی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی میں بڑے اصلاحات کی ضرورت ہے۔صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ”ہم اتر پردیش میں 11 اسمبلی سیٹوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات اکیلے ہی لڑیں گی“۔
انہوں نے کہا ”قنوج میں ڈمپل، بدایوں میں دھرمیندر یادو اور فیروزآباد سے اکشے یادو کی شکست نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ان قدآور امیدواروں کی شکست سے ہمیں بھی بہت افسوس ہوا ہے لیکن اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یادو اکثریتی سیٹوں پر بھی یادو سماج کا ووٹ سماجوادی پارٹی کو نہیں ملا“۔
مایاوتی نے آگے کہا ”اکھیلیش اور ڈمپل مجھے عزت دیتے ہیں۔ ہمارے رشتے ہمیشہ کے لئے ہیں لیکن سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتر پردیش کے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سب پر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے اس سے قبل بی ایس پی نے پیر کو لوک سبھا کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیا تھا۔ اس اجلاس میں بی ایس پی عہدیداران اور ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی تھی اور اجلاس کے بعد مایاوتی نے کہا تھا کہ اتحاد کو سماجوادی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ واضح رہے ملائم سنگھ یادو اس اتحاد کے حق میں نہیں تھے۔

SHARE