مولانا عبدالمتین نعمانی نیک صفت انسان کا نام تھا: مفتی محفوظ الرحمن عثمانی مولانا عبدالمتین نعمانی اور محبوب منصوری کے انتقال پر جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ میں تعزیتی اجلاس




سہرسہ : موت برحق ہے اور ہر شخص کو اپنے وقت متعین پر جانا ہے، کل من علیھا فان کا بھی یہی حاصل ہے کہ چھٹکارا کسی کو نہیں، مگر قابل رشک ہے وہ جس پر زمانہ افسوس کرے، یہ باتیں معروف عالم دین مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ مدہوبنی سپول نے مولانا عبدالمتین نعمانی امام وخطیب جامع مسجد فاربس گنج و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے انتقال پر کہا انہوں نے شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کا انتقال اس حلقہ کےلئے عظیم خسارہ ہے۔ مولانا امامت و خطابت، وعظ و نصیحت کے ساتھ سماج میں پھیلی برائیوں کے سدباب کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہرطبقہ میں مقبول تھے، وہ بےتکلف، سادہ اور نیک صفت انسان تھے۔ انتقال کی خبر سنتے ہی جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں مفتی محمد انصار قاسمی نےکہاکہ اعمال صالحہ اور اچھے افکار ہمیشہ باقی رہتے ہیں مولانا عبدالمتین نعمانی امام و خطیب جامع مسجد فاربس گنج متواضع، متوازن اور بااثر لوگوں میں سے تھے، وہ بہترین خطیب تھے۔ مفتی عقیل انورمظاہری نے کہا کہ انسان مسافر ہے اور عالم بقا کی طرف کوچ کررہا ہے عقلمند انسان وہ جو اپنی آخری منزل کو یاد رکھیں۔ واضح رہے کہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی صاحب کے ایما پر جامعۃ کا ایک وفد مفتی محمد انصار قاسمی کی قیادت میں جنازہ میں شرکت کیلئے ان کے آبائی وطن پھینساہا سمری بختیار سہرسہ روانہ ہوا۔ اس موقع پر الحاج اسلام بھائی منصوری بمبئی کے بھائی محمد محبوب جن کاآج ہی انتقال ہوا مولانا حمیدالدین مظاہری نے کہا کہ وہ مخلص اور سچے تاجر تھے علماء. حفاظ اور دینی کام کرنے والوں سے بہت محبت کرتے تھےآخر میں مغفرت. بلندی درجات اور پسماندگان کے صبر جمیل کےلئے دعا کی گئی ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *