موب لنچنگ کے سدّ باب کیلئے حکومتیں سپریم کورٹ کے گائیڈ لائن کے مطابق قانون سازی کرے: ملی کونسل
پٹنہ: ہندستان جو ایک کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک ہے اس ملک میں ہر دور میں فراخدلی اور اعلی ظرفی کے ساتھ دنیا کے تمام مذاہب کا نہ صرف استقبال کیا بلکہ سرزمین نے ہر مذہب کو پھلنے پھولنے اور فروغ پانے کا حسین موقع بھی عنایت کیا ہے۔ ہندستان دنیا کا اکیلا ایسا ملک ہے جہاں دنیا کے تمام مذاہب پائے جاتے ہیں، اور ان کے مذاہب کے ماننے والے اس ملک میں شیر و شکر بن کر رہتے آئے ہے۔ لیکن افسوس کے گذشتہ چند سالوں میں اس ملک کی پاکیزہ اور بھائی چارگی سے پر فضا کو شر پسندوں نے مسموم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندو مسلمان جو صدیوں سے بھائی بھائی بن کررہ رہے تھے ان کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں۔ ایک مخصوص نظریہ کے لوگ ہندستان کی ایکتا اور اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ہجوم کی شکل میں لوگ غریب اور کمزور مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کی جان لے لیتے ہیں انسان بھیڑیا بن رہا ہے۔نفرت اس قدر بڑھا دی گئی ہے گویا ہندستان آگ کے انگارے پر ہے ،ہجومی تشدد کے لگاتار ہورہے واقعات کے سد باب اور حکومت کی غفلت کے خلاف آل انڈیا ملی کونسل،بہار نے آج بہار اردو اکیڈمی کے حال میں ایک پروگرام منعقدکیا جس کی صدارت امارت شرعیہ بہار اڑیسہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کی۔ انہوں نے ہجومی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس ملک میں صدیوں سے رہتے آئے ہیں تاجر بن کر آنے والے مسلمان اپنی معاشرت کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ واقعات ہمیشہ ہوتے رہے ہیں بیماری کا علاج ضروری ہے، حکومتیں کتنی آئیں اور گئیں لیکن اس طرح کے حالات کبھی پیدا نہیں ہوئے تھے ، ہجومی تشدد کے شکار زیادہ تر مسلمان ہے ، جبکہ دلت اور سکھ بھی بھیڑ کے ظلم سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے ہیں۔ ظلم کا ننگا ناچ اور خونی کھیل جاری ہے،انہوں نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اگر اس پر قابو نہیں پایا تو ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائیگی۔ ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری مولانا محمد عالم قاسمی نے سکریٹری رپورٹ پیش کرتے ہوئے ہجومی تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا اور ملک کے مختلف حصوں میں ہو رہے ان ظالمانہ حرکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس پر قابو پانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اللہ کے حکم کے تابعدار ہیں اور انہیں ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع ہونے کی تعلیم اللہ کے نبی نے دی ہے۔ ایسی مصیبتوں کی گھڑی میں صرف اللہ ہی سے لو لگانا ہمارے لئے ذریعہ نجات بنے گی۔ معروف صحافی خورشید انور عارفی نے بہار میں ملی کونسل کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا ابولکلام قاسمی شمسی نے ملی کونسل کے اجلاس کو سنگ میل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی دفاع کے لئے پریشر گروپ بنایا جائے اور حکومت پر دباو ڈالا جائے۔ جبکہ مولانا شکیل قاسمی نے ملی کونسل کی روشن تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اس تنظیم کی افادیت سے حاضرین کو روشناس کرایا ۔نیز انہوں نے موب لنچنگ کی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے قائدین سے گذارش کی کہ وہ آگے آکر ہمت مردانہ کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں ۔ اس پروگرام کی نظامت مولانا نورالسلام ندوی نے کی، انہوں نے ہجومی تشدد کے واقعات کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہوئے اعداد شمار کی روشنی میں فرمایا کہ یہ واقعات ہندستان کیلئے نئے نہیں ہے لیکن گذشتہ چار پانچ سالوں میں موب لنچنگ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص اپنی گائے لے کر جارہا ہوتا ہے اور ہجوم اس پر جان لیوا حملہ کرتا ہے ، کسی کو صرف اس لئے مار دیا جاتا ہے کہ اس پر گائے کے گوشت کھانے کا شک ہوتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ ایسے ظالموں کی پشت پناہی اقتدار میں بیٹھے لوگ کررہے ہیں۔ اس لئے ہر ہندستانی کا فریضہ ہے کہ ملک کی بقاء کیلئے موب لنچنگ کے خلاف پر زور تحریک چلائے ۔ مولانا رضوان احمد اصلاحی امیر جماعت اسلامی بہار نے موب لنچنگ کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم مخلوط سماج میں رہتے ہیں اس لئے تمام مذہبی رہنماؤں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس وقعات پر ایکشن لے ۔ غیر مسلموں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں اور انسانی اور جمہوری قدروں کو رواج دی جائے۔ مولانا عتیق الرحمن قاسمی نے اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے دل برداشتہ نہ ہو اور صبر تحمل کے ساتھ حوصلے سے کام لیں۔ مولانا حسن احمد قادری ناظم جمعیہ علمائے بہار نے موب لنچنگ کے سدباب پر روشنی ڈالی اور کہا کہ حکومت ایسے افراد کے خلاف دہشت گردی والی دفعہ لگاکر سخت سزا دے۔ اس جلسے کو جن لوگوں نے مخاطب کیا ان میں مولانا خورشید مدنی ،طفیل احمد فاروقی خازن ملی کونسل بہار ، معروف صحافی انوارالہدی ،مولانا وصی احمد شمسی ،جاوید اقبال ایڈوکیٹ، سلام الحق، بہارشریف ، مولانا قطب الدین قاسمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔ اخیر میں اجلاس میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں مندرجہ ذیل نکات پر توجہ دینے کی حکومت سے اپیل کی گئی ہے۔
(۱) یہ اجلاس ملک اور صوبہ بہار میں بڑھتے ہجومی تشدد کے وقعات پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق اس کے روک تھام کیلئے سخت قانون بنائے جس میں مجرمین کی سزا کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کو ذمہ دار بنایا جائے، نیز متاثرین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔
(۲) فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ اس کی سماعت کرائی جائے، یہ اجلاس تمام ہندستانیوں سے اپیل کرتا ہے کہ ہجومی تشدد اور ہر طرح کے ظلم کے خلاف اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
(۳) یہ اجلاس سیاسی سماجی کام کرنے والوں اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے اہلکار نیز مذہبی قائدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ آپسی میل ملاپ اور یکجہتی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(۴)یہ اجلاس ہجومی تشدد کے متاثرین کے اہل خانہ سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

Leave a Reply