جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون کا بابرنامہ کے حوالہ پر اعتراض، کہا کہ بابرنامہ کے کچھ صفحات غائب ہیں
نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی حتمی سماعت سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ کررہی ہے، گزشتہ ایک ہفتہ سے رام للا اور نرموہی اکھاڑہ کے وکلاء بحث کررہے ہیں، آج صبح ساڑھے دس بجے جب اس معاملہ کی سماعت شروع ہوئی تورام للا کے وکیل سی،ایس ودیاناتھن نے انگریز،جرمن اورچائنیزسیاحوں کے ذریعہ لکھے گئے سفر ناموں پر مشتمل کتابیں پیش کیں اور ان میں سے چند اقتباسات پڑھتے ہوئے عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان سیاحوں نے اپنے سفر ناموں میں بابری مسجد کی موجودگی کاکو ئی ذکر نہیں کیا ہے بلکہ یہ لکھاہے کہ یہ رام کا جنم استھان ہے اور ہندووں کواس پر بہت زیادہ آستھا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی والی پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو بتایا کہ سیاح ولیم فلنچ نے 1608 سے 1611 کے درمیان ایودھیا کا سفر کیا تھا لیکن اس کے سفر نامے میں بابری مسجد کی موجودگی کا کوئی ذکر نہیں ہے جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ بابری مسجد کا وجود تھا ہی نہیں۔ دوران سماعت اس وقت عجیب صورت حال پیدا ہوگئی جب جسٹس ایس بوبڑے نے ایڈوکیٹ سی ایس ودیاناتھن سے دریافت کیا کہ سیاح ولیم فلنچ کا تعلق کس ملک سے تھا جس کا جواب ویدیا ناتھن دے نہیں سکے اور کہا کہ وہ چیک کرکے بتائیں گے، ودیاناتھن کے معاون وکلاء نے کہا کہ ولیم فلنچ کا تعلق فرانس سے تھا، یہ سنتے ہی جسٹس بوبڑے نے کہا کہ نام سے تو نہیں لگتا ولیم فلنچ کا تعلق فرانس سے تھا۔ اسی بیچ جمعیۃعلما ہند کے وکیل،ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے کہا کہ ولیم فلنچ ایک انگریز مرچنٹ تھا جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں کام کرتاتھا جس پر ویدناتھن نے کہا کہ یہ صحح لگتا ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ ودیاناتھن نے جب بابر نامہ پڑھنا شروع کیا تو جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے اس پر اعتراض کیا اور عدالت کو بتایا کہ اس کتاب کے چند صفحات موجود نہیں ہیں لہذا اس پر عدالت کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رام للا کے وکیل نے عدالت میں مزید ایک کتاب پیش کی جس میں لکھا ہے کہ رام مندر کو بابر یا اورنگ زیب نے منہدم کیا تھا لیکن عدالت نے اس کتاب پر زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ مصنف نے کتاب میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اس بات کا گواہ نہیں ہے کہ مندر اس کے سامنے منہدم کی گئی تھی بلکہ اس نے دیگر لوگوں کی باتوں کو سننے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ رام مندر کو منہدم کرکے بابری مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔ اسی درمیان جسٹس چندر چوڑ نے ایڈوکیٹ ویدیاناتھن سے سوال کیا کہ ابتک جو بھی کتابیں پڑھی گئی ہے اس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ کس نے مندر توڑ کر مسجد بنائی تھی، آیا وہ بابر تھا یااورنگ زیب جس پر ودیاناتھن نے جواب دیا کہ اس سے بات کھل کرسامنے آتی ہے کہ مندر منہدم کی گئی تھی۔جس پر جسٹس بوبڑے نے بھی سوال کیا کہ بابر نامہ اس تعلق سے خاموش ہے۔ تاریخی حوالوں سے رام للاکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیسے شہر کانام ایودھیاپڑا۔انہوں کہا کہ مسلمانوں کے دل میں مکہ کا جو مقام ہے ہندوؤں کے لئے ایودھیا وہی درجہ رکھتا ہے۔دوران بحث یہ مدعہ بھی زیربحث آیا کہ مسجد کی تعمیر میر باقی نے کرائی تھی لہذایہ مسجد شیعہ کی ملکیت ہے، واضح رہے کہ شیعہ وقف بورڈ نے 1946میں ٹرائل کورٹ میں سنی سینٹرل وقف بورڈ کے خلاف ایک دعویٰ کیا تھا کہ یہ مسجد شیعہ کی ہے کیونکہ میر باقی شیعہ تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے 30/07/1946اس دعویٰ کو خارج کردیا تھا، اس فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹرراجیودھون نے کہا کہ بابری مسجد کسی مندرکو توڑکر نہیں بنائی گئی اور شیعہ وقف بورڈ کا یہ دعویٰ کرنا کہ میر باقی ایک شیعہ تھا اس لئے وہ شیعہ مسجد ہے اب اس پے بحث کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے کہ ان کا دعویٰ 70سال پہلے ہی خارج کردیا گیا تھا۔،اس عنوان پر بحث چل ہی رہی تھی کہ عدالت کا وقت ختم ہوگیا اورمعاملہ کی سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر10866-10867?/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ محمد عبداللہ، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاو دیگر موجود تھے۔

Leave a Reply