نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آج ایودھیا کیس میں ھندو فریق کی بحث کو جاری رکھتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سی ویدناتھن نے کورٹ کو کسوٹی کھمبوں کے وہ فوٹوگرافر دکھائے جو ۱۹۹۰ میں آثار قدیمہ نے لئے تھے اور بطور خاص ان کھمبوں کو پیش کیا جن پر گیروا رنگ لگا ہوا تھا یا جہاں کچھ کھرچا ہوا تھا اور یہ کہا کہ یہاں مورتیوں کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ کورٹ نے ان سےپوچھا کیا آپ نے اس پر گواہوں سے بھی پوچھا تھا، اس پر وکیل صاحب خاموش رہے۔ کورٹ نے مسٹر ویدناتھن سے پھر پوچھا کہ آپ ہمیں ۱۹۵۰ یا اس سےُپہلےکےفوٹوگراف دکھائیں، بطور خاص ایڈیشنل کمشنر بشیر محمد نے جولئے تھے، اس پر بھی مسٹر ویدناتھن خاموش رہے۔
جسٹس بو بڑے نے مسٹر ویدناتھن سے دریافت کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ مسجد کے طور پر عمارت کا بننا الگ ہے اور مسجد کے طور پر کسی عمارت کا استعمال ہونا الگ ہے ۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے یہ بتائیے ؟ لیکن ویدناتھن نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کے برعکس مسٹر ویدناتھن نے ۲۰۰۳ کی ASI کی رپورٹ پیش کی اور اس سے متعلق فوٹوگراف کورٹ کے سامنے پیش کئے۔ مسلم فریقین اور یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے جو اعتراضات اس رپورٹ پر داخل کئے گئے تھے ان کے بارے میں کہا کہ عدالت نے ان کو مسترد کردیا لیکن عدالت نے جن اعتراضات پر ڈائریکشن دئے تھے انھیں نہیں پیش کیا۔ کورٹ نے ان سے پوچھا کہ کیا ASI کی کھدائی میں کسی ھندو عبادت گاہ کے بھی کچھ ثبوت ملے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ASI رپورٹ ہمارے دعوے کو ثابت کرتی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں مذہبی تعمیرات تھیں ۔ کورٹ نے پوچھا فرش ۱،۲،۳،۴کس دور کے ہیں ۔ انہوں نے کہا الگ الگ دور کے ہیں۔
مسٹر ویدناتھن نے فوٹو دکھا کر کہا کہ یہان سے پر نالہ بہتا تھا ۔ کورٹ نے پوچھا پرنالہ کی کیا اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہان شیو کا بھی مندر تھا۔ مسٹر ویدناتھن نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے کہا کہ ASI کے ماہرین کے رائے کو مان لینا چاہیے۔ مسٹر ویدناتھن کی بحث نامکمل رہی جسے وہ پیر کے روز بھی جاری رکھیں گے۔
اس دوران مسلم فریقوں کی طرف سے پیش ہورہے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے مسٹر ویدناتھن کی بحث پر کئی اعتراضات اٹھائے۔ آج کورٹ میں مسلم پرسنل بورڈ اور جمیعت علماء کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون اور مسلم پرسنل بورڈ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مسز میناکشی اروڑا کورٹ میں موجود رہیں ۔ ان کے علاوہ سینئر ایڈوکیٹ اور مسلم پرسنل بورڈ کے سیکریٹری ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈز ایڈوکیٹ شکیل سید، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی کے علاوہ ان کے تمام جونیئر وکلاء اور اسسٹنٹ بھی موجود رہے۔

Leave a Reply