دربھنگہ ضلع کے پنڈا سرائے سے تعلق رکھنے والے افضل علی, پرویز علی اور محمد آزاد کو اس وقت مسلمان ہونا مہنگا پڑا جب وہ قربانی کا گوشت لیکر تاج پور کے ایک رشتہ دار کے یہاں جا رہے تے. اسی بیچ راستے میں سونو یادو, منوج یادو اور ببلو یادو بائیک سے آکر انہیں پریشان کر نے لگے منع کرنے پر کچھ اور لوگوں کے ساتھ ملکر انہوں نے ان تینوں کی پٹائی شروع کر دی. اس حادثہ کے بعد جب وہ لوگ بشن پور تھانہ میں شکایت کرنے پہونچے تو تھانہ کے انچارج بھی کئی پولیس والوں کے ساتھ ملکر انکی پٹائی کر نے لگے. 15 اگست کو جب پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ٹیم مظلومین سے ملنے پہونچی تو تحقیق میں سامنے آیا کے بعد میں یادوں کی بھیڑ تھانہ آئی اور تھانہ انچارج کئی پولیس والوں اور بھیڑ کے ساتھ ملکر تینوں نوجوان کو بری طرح سے پیٹے. جب گاؤں والوں کو پتا چلا تو انہوں نے ایس. پی و دیگر ضلع افسران کو کال لگا نا شروع کیا لیکن وہ افسران بھی کال ریسیو نہیں کئے. اسی سے شک پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں کے لنچنگ کا ملی بھگت سے منصوبہ بنا یا گیا تھا. لیکن جب گاؤں والوں کے زبردست مظاہرے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا. پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ٹیم نے ملاقات کر لنچنگ کے شکار لڑکوں کو لیگل مدد دینے کی یقین دہانی کرائی اور انہیں بے خوف ہوکر ایف. آئی. آر (F I R) کر نے کو تیار کیا پاپولر فرنٹ دربہنگہ ضلع صدر محمد ثناء اللہ نے کہا کہ ہم مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی پوری کوشش کرینگے ساتھ ہی ہم بہار سرکار سے مانگ کر تے ہیں کہ تھانہ انچارج و انکے ساتھی پولیس والوں پر جلد از جلد مضبوط کاروائی کرے. ایس. ڈی. پی. آئی (SDPI) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا دربہنگہ ضلع جنرل سیکریٹری محمد محبوب عالم نے کہا کہ یہی بہار سرکار کا بہار ماڈل ہے آگے انہوں نے کہا کہ آج پورا بہار جنگل راج بن چکا ہے لہٰذا اسی جنگل راج کے خلاف عوام کو سڑک پر اترنا ہوگا اور اس لڑائی کے لئے بہار کی عوام کی قیادت کرنے کیلئے اور رہبری کے لئے SDPI تیار ہے. ٹیم میں شامل ڈاکٹر شارق رضا. محمد اشتیاق. محمد صادق. مظفر حسین وغیرہ.

Leave a Reply