یہ سچ ہے کہ ہم نے کشمیر کے مسئلہ پر مودی حکومت کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا، سارے نمائندے سرکار کے ساتھ ہیں: مسلم تنظیموں کی میٹنگ میں شریک ڈاکٹر ظفر محمود کا اعتراف




نئی دہلی: (ملت ٹائمز) کشمیر بحران پر مسلم قیادت کی میٹنگ کے حوالے سے گذشتہ کل ملت ٹائمز نے جو خبر شائع کی تھی اس پر آج میٹنگ میں شریک اور آل انڈیا زکوٰۃ فاونڈیشن کے صدر ڈاکٹر ظفر محمود نے مہر لگادی ہے۔ پریس ریلیز میں 370 پر مسلم قیادت نے اپنا موقف واضح کرنے کے بجائے مبہم رکھا تھا اور لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ ابھی انتظار کرنا چاہیے. ملت ٹائمز نے اس خبر کی سرخی لگائی تھی کہ کشمیر سے آرٹیکل 370 منسوخ کرنے پر مسلم تنظیمیں حکومت کے ساتھ. ملت ٹائمز کی اس سرخی پر کچھ لوگوں نے ہنگامہ کیا لیکن آج میٹنگ میں شریک ایک رہنما نے خود اس کا اعتراف کرلیا ہے دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت. آل انڈیا ملی کونسل اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سمیت کئی تنظیموں کو دعوت تک نہیں دی گئی۔

زکوۃ فانڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر ظفر محمود نے ای ٹی وی بھارت کے بیورو چیف سہیل اختر قاسمی کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران مسلم تنظیموں کی 22 اگست کی منعقدہ میٹنگ کی تفصیلات بتائی۔’ مسلم تنظیموں نے دفعہ 370 پر بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا ہے’واضح رہے کہ گذشتہ 22 اگست کو مسلم تنظیموں کی جانب سے ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی، جس میں مسلم تنظیموں نے دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلے کی حمایت کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ڈاکٹر ظفر محمود ان افراد میں سے ہیں جو 22 اگست کی منعقدہ میٹنگ میں موجود تھے، انہوں نے کہا کہ ‘دفعہ 370 پر مسلم تنظیموں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم نے کشمیر کے مسئلہ پر مودی حکومت کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی اہم وجوہات قومی سلامتی اور کشمیر کا مستقبل ہے۔ڈاکٹر ظفر محمود نے تسلیم کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے فیصلہ سے کشمیر کے مسلمانوں میں تھوڑی مایوسی ہو مگر ہمارے لیے کشمیر کی آنے والی نسل بھی عزیز ہے، ان کے تحفظ اور ترقی کو نگاہ میں رکھ کر مسلم جماعتوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی حمایت کی’۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ظفر محمود نے کہا کہ ‘ آرٹیکل 370 سے کشمیریوں کو کوئی فائدہ نہیں، برسوں سے خصوصی درجہ ملا رہا مگر سیاسی لوگوں کے علاوہ کسی کو فائدہ نہیں ہو، اب حکومت نے کشمیر کی اقتصادی ترقی کا وعدہ کیا ہے، خدا کرے یہ شروع ہو تاکہ وہاں کشمیریوں کی حالت بہتر ہو۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلم جماعتوں کے سارے نمائندے اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ہیں، بس اعتراض اس بات پر ہے کہ اس معاملہ میں عوام کی رائے ضرور لی جانی چاہیے تھی، مگر اب جبکہ فیصلہ لیا جا چکا ہے اور ترقی اور خوشحالی کی بات ہو رہی ہے تو پھر اسی نظریہ پر کام ہونا چاہئے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *