موتیہاری: ( فضل المبین ) ڈھاکہ حلقہ کے پھلوریا گاؤں میں جہیز کے لالچ میں ایک نئی نویلی دلہن کے قتل کا معاملہ سامنے آیا جس سے ناراض و متشدد گاؤں والوں نے ڈھاکہ گاندھی چوک کو جام کردیا۔ جام کی وجہ سے سے تقریباً دو گھنٹے تک آمدورفت متاثر ہیں وہیں احتجاج کرنے والوں نے ٹائر جلا کر مظاہرہ کیا اور انتظامیہ سے انصاف کی گہار لگائی ۔
واضح رہے کہ متوفی پنکی کماری کے والد رام ایودھیا رام بڑہڑوا لکھنسین ڈھاکہ کی شادی 1 سال قبل ڈھاکہ بلاک کے پھلواریا گاؤں میں دھرمندر رام ولد بدری رام کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی شدہ زندگی کچھ دن خوشی خوشی گزری۔ لیکن کچھ مہینوں کے بعد 50 ہزار کی نقدی رقم اور فرنیچر کی اشیاء دستیاب ہونے کے مطالبات ہونے لگے ۔ حالانکہ کے لڑکی کے گھر والوں نے اپنے مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے کچھ دنوں کا وقت مانگا ۔ وقت گزرتا رہا ہے اور بات چلتی رہی ۔ تبھی 29 اگست کو رات 9 بجے کے قریب پنکی کماری کے بھائی سبھاش کے فون پر کسی نے یہ اطلاع دی کے آپ کے بہن پنکی کا قتل اس کے سسرال والوں نے کر دیا ہے ۔ یہ خبر سن کر پنکی کماری کا کنبہ پھلووریا پہنچا۔ پنکی کے سسرال والوں نے پنکی کے ماموں سمیت دیگر لوگوں پر حملہ کیا جس میں پنکی کے چچا کا سر پھٹا ، جس کا علاج ڈھاکہ ریفرل اسپتال میں ہوا ہے۔ اس سارے معاملے سے مشتعل ،پنکی کے ماموں دادا نے پنکی کی لاش کو ڈھاکہ گاندھی چوک پر رکھا اور گھنٹوں ٹائروں کو جام کردیا۔ اس معاملے میں پنکی کے شوہر دھرمیندر رام ، سسر بدری رام ، منورما دیوی، سدھا کماری، اور پوجا کماری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ڈھاکہ پولیس ملزم کی گرفتاری میں مصروف ہے۔

Leave a Reply