نئی دہلی: آسام این آرسی کی حتمی فہرست آج منظرعام پر آگئی ہے مرکزی وزیر داخلہ کے اعلان کے مطابق تین کروڑتیرہ لاکھ لوگوں میں سے تقریباً 19 لاکھ 96 ہزار 657 لوگوں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں، انہیں ابھی غیر ملکی نہیں سمجھاجائے گا بلکہ فارن ٹربیونل اب ان کی قسمت کا فیصلہ کرے گا، جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے اس حوالہ سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ این آرسی میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں ان شاء اللہ وہ بھی اپنا ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ کی طرح مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کے بنیاد پر تمام لوگوں کی قانونی مدد کرے گی، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اگر اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا تعاون نہ ہوتا تو فہرست سے باہر ہونے والوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی، انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سپریم کورٹ کی نگرانی اور وقت وقت پر دی جانے والی ہدایت اور جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے یہ تعداد تقریباً بیس لاکھ تک محدودرہ گئی، ہم امید کرتے ہیں کہ آگے چل کرفہرست سے باہر ہوئے تمام لوگوں کے نام بھی فہرست میں شامل ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔ انہوں نے ایک بار پھر آسام کے تمام متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور فارن ٹربیونل میں مضبوطی کے ساتھ اپنامقدمہ لڑیں، جمعیۃ علماء ہند اور آسام کے وکلاء تمام متاثرین کی مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر ہر طرح کی قانونی مدد کریں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ بھی جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوگی جمعیۃ علماء ہند متاثرین کی مدد کے لئے ہمیشہ موجود رہے گی،واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہندنے ہمیشہ مذہب و ملت سے اوپر اٹھ کر کام کیا ہے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارا موقف بالکل صاف ہے کہ جو لوگ واقعی غیر ملکی ہیں انہیں ریاست سے نکالا جانا چاہئے، لیکن جو حقیقی ہندوستانی شہری ہیں ان کے خلاف تعصب اور امتیاز کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہونی چاہئے، خواہ ہندو ہوں یا مسلمان ہماری قانونی لڑائی اس رویہ کے خلاف ہے اور جمعیۃ علماء ہند ایک ایسی واحد تنظیم ہے جو آسام شہریت کے مسئلہ کو لیکر ابتدائی ہی سے قانونی جدوجہد میں مشغول ہے۔ آخر میں مولانا مدنی نے کہا کہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی اس لئے بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آسام میں این آرسی میں نام نہ شامل ہونے والوں کے پاس کم ازکم تین متبادل موجود ہیں ایک یہ کہ فارن ٹربیونل میں ایک سو بیس دن کے اندر وہ اپیل کرسکتے ہیں، حکومت نے اس کے لئے ایک ہزار ٹربیونل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، دوسرے فارن ٹربیونل میں بھی ناکامی کے بعد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے، تیسرے ہائی کورٹ سے ناکامی کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے، لیکن یہ بات بھی اطمینان بخش ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ اور آسام کے وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پریشان نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ حقیقی ہندستانی شہریوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے حکومت مکمل تعاون دے گی اور غریب لوگوں کو قانونی لڑائی میں قانونی مدد بھی فراہم کرے گی اور حکومت نے یہ بھی کہا کہ این آرسی میں کسی کا نام آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں غیر ملکی قرار دیدیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علماء آسام اور صدر مولانا مشتاق عنفر آسام شہریت معاملہ میں روز اول سے پیش پیش ہیں وہ اس کے لئے نہ صرف قانونی جدوجہد کرتے رہے ہیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اس کے رضا کار متاثرین کی ہر طرح کی مدد کررہے ہیں۔

Leave a Reply