کلاسیکی شعر و ادب پر حالی کی جارحانہ تنقید وقت کی اہم ضرورت تھی: پروفیسر ابن کنول




کلاسیکی شعر و ادب کے زوال کے اثرات پر از سر نو غور و فکر کی ضرورت ہے: پروفیسر معین الدین جینا بڑے

شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ”مثنوی: فن اور روایت“ پر سہ روزہ قومی سمینار کا دوسرا دن

نئی دہلی: (پریس ریلیز) سپاٹ حقیقت نگاری سے حسن اور شعریت مجروح ہوتی ہے۔ مبالغے کے بغیر کسی بھی فن پارے میں زور بیان اور توانائی پیدا نہیں ہوتی۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے یو جی سی، ڈی آر ایس فیز III ، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ’مثنوی: فن اور روایت‘ پر سہ روزہ قومی سمینار کے پہلے اجلاس کے صدارتی کلمات میں کیا۔ اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر نسیم احمد نے کلاسیکی سرمائے کی جانکاہ تحقیق و تنقید پرابھارتے ہوئے نوخیز ذہنوں سے کہا کہ قصیدہ ، مرثیہ ، مثنوی ، غزل اور داستان وغیرہ ایسی اصناف ہیں جن کا ایک ایک لفظ ہم سے خون جگر کا مطالبہ کرتا ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے دوسرے اجلاس کے صدارتی خطاب میں کہا کہ انھیں اپنی نو دہائیوں کو محیط زندگی میں یاد نہیں کہ کبھی مثنوی پر باضابطہ سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا ہو۔ لہٰذا یہ شعبہ ¿ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نہایت اہم اور تاریخی پیش رفت ہے۔ پروفیسر شہناز انجم نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ربط، تسلسل کلام ، واقعات کا بیان اور شعریت کے حوالے سے مثنوی کو ہماری کلاسیکی شاعری میں امتیاز حاصل ہے۔ تیسرے اجلاس کے صدر پروفیسر م ن سعید نے کہا کہ اردو مثنویاں گنگا جمنی تہذیب کا سنگم ہیں۔ ان میں موجود قصہ اور معاشرتی زندگی قومی یکجہتی کا استعارہ ہے۔ اس اجلاس میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ حالی، شبلی یا علی گڑھ تحریک کے حوالے سے یہ کہنا کہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا سراسر غلط ہے، بلکہ کلاسیکی شعر و ادب پر حالی کی جارحانہ تنقید وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ہر تحریک اور ہر رجحان اپنے وقت کے ساتھ بپا ہوتی ہے اور ختم بھی ہوجاتی ہے۔ یہ تاریخ کا ایک فطری عمل ہے اس کو روکا نہیں جاسکتا۔ چوتھے اجلاس کے صدر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کہا کہ کلاسیکی شعر و ادب کے زوال کے اثرات پر از سر نو غور و فکر کی ضرورت ہے ۔ اس اجلاس کے صدر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اس سمینار میں مثنوی پر بہت سے نئے مباحث نے جنم لیا ہے اور اس پر دانشوران ادب نئے سرے سے غور و فکر کر رہے ہیں۔ یہ اس سمینار کی کامیابی کی دلیل ہے۔ سمینار کے پہلے اجلاس میں قاضی حبیب احمد نے ’صوبہ مدراس میں مثنوی کی روایت‘، پروفیسر رئیس انور نے ’مثنوی رنجیت رانی رمبھا ایک مطالعہ‘ اور ڈاکٹر سلمیٰ محمد رفیق نے ’مثنوی کے اصول نقد : حالی اور شبلی، کے حوالے سے مقالات پیش کیے۔ دوسرے اجلاس میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی ’مثنوی:اصل ہیئت اور حدود‘، پروفیسر احمد حسن دانش نے ’شاد عظیم آبادی کی مثنوی نگاری‘ اور ڈاکٹر ثاقب عمران نے ’مثنوی بوستان خیال: ایک نئی قرا ¿ت‘ کے عنوان سے مقالے پیش کیے۔ تیسرے اجلاس میں ڈاکٹر احمد کفیل نے ’شوق نیموی اور مثنوی سوز و گداز‘ ڈاکٹر عمیر منظر نے ’سید اصغر اکبر آبادی کی مثنوی ”بہار خرد“ کا مطالعہ‘ اور ڈاکٹر جاوید حسن نے ’ اردو مثنوی میں ڈرامائی عناصر‘ کے موضوع پر اپنے مقالات پیش کیے۔ چوتھے اجلاس میں ڈاکٹر جاوید نسیمی نے ’رام پور کی ایک اہم مثنوی کا مخطوطہ‘ ، ڈاکٹر محمد ذاکر حسین نے ’ایک اہم مخطوطہ نکہت دہلوی کی مثنوی نل دمن‘ اور ڈاکٹر محمد مقیم نے ’مثنویات دلگیر‘ کے حوالے سے اپنے مقالات پیش کیے۔ آج کے چاروں اجلاس میں مثنوی کے حوالے سے مختلف نظری مسائل پر گرما گرم بحثیں ہوئیں۔ ان مباحث میں پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر احمد حسن دانش، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر رئیس انور ، ڈاکٹر احمد خان، ڈاکٹر احمد کفیل، ڈاکٹر سرور الہدیٰ، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر سعود عالم، امتیاز رومی، توحید حقانی اور فیضان الحق نے بھرپور حصہ لیا۔

سمینار کے مختلف اجلاس میں ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر مشیر احمداور ڈاکٹر محضر رضا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ سمینار میں ڈاکٹر خالد جاوید، ڈاکٹر سید تنویرحسین، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر حنا آفرین، ڈاکٹر نوشاد عالم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر ابوالکلام عارف، ڈاکٹر سلطانہ واحدی، ڈاکٹر نعمان قیصر، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر فیضان شاہد، ڈاکٹر محمد آدم ، ڈاکٹر زاہد ندیم، ضیا انصاری، امیر حمزہ اور سلمان عبدالصمد کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *