اے ایم یو میں کشمیری طلبہ کا احتجاج، پولس نے انتظامیہ کو خط لکھ کر جواب طلب کیا 




علی گڑھ: (ایم این این) علیگڑھ کے ایس ایس پی نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے رجسٹرار کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کشمیری طلبا کا احتجاج کب اور کس مقصد کے لیے ہوا تھا؟ اس کی تفصیلات سے آگاہ کرائیں۔

واضح رہے کہ کل علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں کشمیری طلبہ وطالبات نے یونیورسٹی لائبریری کینٹین سے باب سید تک پر امن احتجاج مارچ نکالا تھا جس میں تقریبا 300 طلبہ وطالبات شامل تھے۔کشمیری طلبہ کے احتجاج کو علیگڑھ پولیس نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ حالانکہ احتجاج آئینی طریقے سے ہوا مگر جس جگہ پر احتجاج ہوا وہاں کسی بھی طرح کا احتجاج ہائی کورٹ کے مطابق اجازت کے بغیر منع ہے۔ (الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی رہائش گاہ اور ایڈمنسٹریٹیو بلاک کے سو میٹر تک کسی بھی طرح کے احتجاج کی اجازت نہیں ہے) کشمیری طلبہ کے احتجاج پر پولیس نے رپورٹ طلب کرکے کشمیری طلبہ کے احتجاج پر پولیس نے رپورٹ طلب کیاے ایم یو پراکٹر کی جانب سے چار طلبہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں تین کشمیری اور ایک غیر کشمیری طالب علم شامل ہے۔

۱۔شفاعت مقبول۔

۲۔ سجاداحمد ڈار

۳۔ ماجد بھٹ

۴۔ خالد۔اے ایم یو انتظامیہ مصروفیت کی وجہ سے احتجاج پر کسی بھی طرح کی بیان بازی سے بچتی ہوئی نظر آئی۔علیگڑھ ایس ایس پی نے اے ایم یو رجسٹرار سے اس پر رپورٹ مانگی ہے کہ آخر کیا اور کیسے ہوا کون لوگ اس میں شامل تھے، اس کے بعد اے ایم یو انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ ملنے پر پوری تفصیلات انتظامیہ کو بھیجی جائے گی۔اے ایم یو میں کشمیر کے موجودہ حالات کے خلاف کل دوپہر میں اچانک بنا کسی اطلاع یا بنا کسی اجازت کے احتجاج کیا گیا یہ طلبہ جلوس کی شکل میں باب سید تک گئے تھے اس دوران خبر پر حرکت میں آئی اے ایم یو پراکٹوریل ٹیم نے آنا فانا میں موقع پر پہنچ کر باب سید کو بند کیا اور طلبہ کو وہاں سے سمجھا کر ہٹایا مگر اس احتجاج کو لے کر یہ سوال کھڑے ہو رہے ہیں جب اس جگہ پر کسی بھی طرح کے احتجاج کی ہائی کورٹ کی اجازت نہیں ہے، تو کیسے لوگ اس میں شامل ہوگیے اور کون لوگ اس میں شامل رہے۔ایس ایس پی آکاش کلہریں کے مطابق بے شک احتجاج یونیورسٹی کیمپس کے اندر ہوا ہے چوکی ہائی کورٹ کے ہدایت ہے اس لیے اس سے متعلق یونیورسٹی رجسٹرار عبدالحمید کو خط لکھ کر تفصیلات مانگی گئی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *