سونے میں چمک جاری، تاہم کساد بازاری کے سبب ’ جویلری انڈسٹری ‘ کے ستارے بھی مشکل میں




جی جے سی کے وائس چیئرمین شنکر سین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کمزور طلب سے زیورات صنعت بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس سے ہزاروں ہنرمند کاریگروں کا روزگار خطرے میں ہے۔

ایک طرف سونے کی قیمت 40 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے اور دوسری طرف زیورات کا کاروبار کرنے ہندوستان میں اقتصادی بحران کی وجہ سے پریشان ہیں۔ دراصل ملک میں جویلری انڈسٹری یعنی زیورات کی سنعت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ لوگ اس وقت سونے کی قیمت بڑھنے سے تو پریشان ہیں ہی، لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات اس پر لگنے والا جی ایس ٹی ہے۔ لوگوں نے زیورات کی خریداری کم کر دی ہے جس کا سیدھا اثر زیورات کی صنعت پر پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ہنرمند کاریگروں کے سامنے روزگار کا مسئلہ پیدا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق جی جے سی (Gem and Jewellery Domestic Council) نے 9 ستمبر کو جویلری انڈسٹری سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ جی جے سی نے ساتھ ہی مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سونے کی برآمدگی پر لیے جانے والے بارڈر ٹیکس کی شرح کم کی جائے اور زیورات پر جی ایس ٹی کی شرح بھی گھٹائی جائے۔ دراصل عام بجٹ 20-2019 میں سونے کی برآمدگی پر بارڈر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں زیورات پر جی ایس ٹی کی شرح 3 فیصد طے کی گئی ہے۔ پہلے سونے پر صرف ایک فیصد ویٹ لیا جاتا تھا۔

جی جے سی کے وائس چیئرمین شنکر سین نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’کمزور طلب سے زیورات صنعت بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس سے ہزاروں ہنرمند کاریگروں کا روزگار ختم ہو جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بارڈر ٹیکس میں اضافہ اور جی ایس ٹی کی موجودہ شرح سے صارفین کا ذہن متاثر ہو رہا ہے۔ بڑھی ہوئی شرحوں کی وجہ سے زیورات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں نے اسی وجہ سے زیورات خریداری سے خود کو دور کر لیا ہے۔‘‘

چیئرمین شنکر سین نے نامہ نگاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ بارڈر ٹیکس کی شرح کو 12.5 فیصد سے گھٹا کر 10 فیصد کیا جائے۔ جی ایس ٹی کی شرح کو بھی ایک فیصد پر لایا جائے۔‘‘ انھوں نے اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ زیادہ بارڈر ٹیکس ہونے کی وجہ سے سونے کی اسمگلنگ بھی بڑھی ہے۔ شنکر سین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت ہندوستان کے ہنرمند کاریگروں کو عالمی سطح پر لے جانے کی بات کرتی ہے، جب کہ دوسری طرف حکومت کی پالیسیاں ہنرمند کاریگروں کو اپنے تجربے اور مہارت کے ساتھ یہ پیشہ چھوڑنے کو مجبور کر رہی ہے۔ جی جے سی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سیکٹر کی 55 لاکھ ملازمتوں کو بچانے کے لیے حکومت گولڈ پالیسی میں بڑی تبدیلی کرے اور خاص طور پر حکومت کو چاہیے کہ وہ پین کارڈ پر خریداری کی حد کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ تک کرے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *