ماں سمیت تین معصوم غرق آب ، گاؤں میں مچا کہرام 




علاقہ میں سکتے کا ماحول ، موقع واردات پر پہنچے ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم احمد ، ہر ممکن تعاون کا دلایا بھروسہ

موتیہاری: ( فضل المبین ) اتوار کا دن چھوڑادانو کے ایکڈری گاؤں کے لئے ایک نہا یت تکلیف دہ دن تھا۔ صبح ہوتے ہی تالاب میں ایک ہی خاندان کے تین معصوم ڈوب گئے جب کہ ماں بھی جاں بحق ہو گئی جس کے بعد ہلاکت کے واقعے نے پورے گاؤں کی آنکھیں نم کر دی ۔ اور علاقہ کو سکتے میں ڈال دیا ۔

بتایا جاتا ہے کہ : اتوار کی صبح ضلع کے چھوڑا دانو تھانہ علاقہ کے ایکڈری گاؤں میں تالاب میں ڈوبنے سے ایک ہی کنبہ کے تین بچے دم توڑ گئے ، جب کہ ہلاک ہونے والے بچوں ماں 29 سالہ للیتا دیوی کی لاش تاحال برآمد نہیں ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے معصوموں میں 8 سالہ نشا کماری ، 5 سالہ روشنی کماری اور 3 سالہ ارچنا کماری ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پربھاکر پاٹھک ، ایس آئی بھگندر ٹھاکر جائے واردات پر پہنچ گئے اور تینوں جاں بحق لڑکیوں کی نعشیں اپنے تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے صدر اسپتال بھیج دیا ۔ جبکہ غوطہ خور ٹیم کو مقتول کی والدہ کی لاش کی لاش برآمد کرنے کے لئے تعینات کردیا گیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک متوفی کی والدہ کی لاش برآمد نہیں ہوسکی تھی ۔

واقعے کی خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، جب ایک ہی گھر سے تین معصوم بچیوں کی لاشیں نکالی گئیں تو اطلاع ملتے ہی گاؤں میں ہنگامہ برپا ہوگیا ، مقامی ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم ​​احمد نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو سرکاری سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اس واقعے کے سلسلے میں گاؤں کے سرپنچ نے بتایا کہ مقتول کی ماں اتوار کے تہوار کے موقع گاؤں کے پورب پوکھر میں نہانے گئی تھی ، اس کی تینوں لڑکیاں بھی پیچھے سے چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لڑکیوں میں سے ایک کہ پیر پھسلا اور ایک کرکے تینوں غرق آب ہو گئیں۔ اس موقع پر موجود ایس بھگندر ٹھاکر نے کہا کہ تحقیق کے بعد ہی اس کے بارے میں کچھ بتایا جاسکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد گاؤں میں اچانک خاموشی چھائی ہوئی ہے ، کچھ لوگ اسے ایک آسمانی وباء اور کچھ لوگوں کو حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ گوریشونکر کی صرف تین بیٹیاں تھیں اور انہیں کوئی بیٹا نہیں تھا۔ کنبہ بہت غریب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اوگر رائے کے تین بیٹوں کا سب سے بڑا بیٹا ہے۔گاؤں کی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر اسکے کنبہ کو دلاسہ دے رہے ہیں ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *