پختہ ثبوت کی جگہ آستھا کی بنیاد پر ہندو فریق پیش کررہاہے دعوی، رام للا اس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں: مسلم فریق




نئی دہلی: (ملت ٹائمز) بابری مسجد ملکیت مقدمہ معاملہ کی روزانہ سماعت کا آج 24 واںدن تھا۔ سماعت کے دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اور جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کے سامنے اس معاملہ کی ایک اہم فریق رام للا کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت میں اٹھائے گئے مدعوں پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ1985 سے پہلے تک اس معاملہ میں رام للا فریق تھا ہی نہیں بلکہ سوئم بھؤ (اچانک وجودمیں آجانا) کے تحت اسے بھی فریق بنا دیا گیا حالانکہ ہمیشہ سے نرموہی اکھاڑہ نے ہی متنازعہ اراضی پر اپنا دعوی پیش کیا ہے ۔ ڈاکٹر راجیودھو ن نے گذشتہ ایک ہفتہ کی سماعت کے دوران نرموہی اکھاڑہ کی قانونی حیثیت اور وقت کے ساتھ ان کے بدلتے دعوؤں پر بحث کرتے آئے ہیں، جس کے اختتام کے بعد ڈاکٹر دھون نے رام للا کی قانونی حیثیت پر بحث شروع کردی ہے توقع ہے کہ ان کی یہ بحث اگلے ہفتہ تک جاری رہے گی۔ ڈاکٹر راجیود ھو ن نے اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ رام للا اس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں ہیں بلکہ Next Friend یعنی کے قانونی مختار کے ذریعہ عدالت میں عرضداشت داخل کی گئی ہے نیز 1989 سے قبل Juristic Personality یعنی کے سوئم بھؤ (اچانک وجودمیں آجانا) نام کے کسی بھی فریق کا وجود نہیں تھا۔ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ ہندوستان کثیر مذہبی ملک ہے اور یہاں مذہبی عبادت گاہیں کثیر تعداد میں ہیں لہذا گر کسی پختہ ثبوت کے Next Friend یعنی کہ قانونی مختار کو عدالت قبول کرنے لگ جا ئے تو ہندوستان میں ہاہاکار مچ جائے گی ، کوئی بھی شخص کھڑا ہوکر اپنا دعوی پیش کرنے لگ جائے گا۔ پانچ رکنی آئینی بیچ کو ڈاکٹر راجیو دھو ن نے مزید بتایا کہ کسی بھی چیز پر دعوی کرنے کے لیئے مثبت اور پختہ ثبوت ہونے چاہئے، لیکن اس معاملہ میں بجائے مثبت اور پختہ ثبوت پیش کرنے کے صرف عقیدے کی بنیاد پر دعوی پیش کیا جارہا ہے نیز اس معاملے میں چند لوگ حقیقی بھگت ہیں جبکہ بیشتر افراد مندر پر قبضہ چاہتے ہیں اور انہوں نے سو ٹ اسی لئے داخل کیا تھا کہ ان کا دعوی تھا کہ رام للا کا جنم اسی جگہ پر ہوا تھا لیکن کیا ان کے دعوے پر سوال کھڑا نہیں کیا جاسکتا ؟ اور کیا ان کی عرضداشت نے سول ٹیسٹ یعنی کے دعوے کے حقیقی ہونے کے عمل کو پاس کیا ہے ؟۔ ڈاکٹر دھون نے عدالت کو بتایا رام للا کی مورتی کی عبادت ہمیشہ باہری صحن میں کی جاتی رہی ہے لیکن 1949 میں مورتی کو اندرونی صحن میں منتقل کردیا گیا تھا جس کے بعد سے ہی یہ مسئلہ بڑھتے چلا گیا نیز اگر نیا مندر بنتا ہے تو اس پر قبضہ کس کا ہوگا؟ کیا مورتی کو اس میں فریق مانا جائے گا ؟ پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس ایس ایم بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کے روبرو ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث آج نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔ آج صبح عدالت کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی ڈاکٹر راجیو دھون نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک بند لفافہ دینے کی کوشش کی جس میں ای میل اور خطوط تھے جسے پہلے تو چیف جسٹس آف انڈیا نے لینے سے انکار کردیا پھر کچھ دیر بعد انہوں نے کورٹ اسٹاف کو کہا کہ اسے لیکر رکھ دیاجائے اس پر بعد میں کارروائی کیجائے گی۔ بابری مسجد رام جنم ملکیت کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے بیٹھنے سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی قیادت والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس بوبڑے اور جسٹس نظیر شامل ہیں نے کے این گوند اچاریہ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ کی سماعت کی لائیو اسٹریمنگ یعنی کہ براہ راست نشرکئے جانے والے معاملے میں رجسٹری سے پوچھا ہے کہ آیا ایسا کیا جاسکتا ہے یا نہیں لیکن اسی درمیان مسلم فریقوں کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے پٹیشن پر اعتراض کرتے ہو ئے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ تقریباً نصف بحث مکمل ہوچکی ہے ، لائیو اسٹریمنگ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے یعنی کہ اگر ایسا کرنا ہی تھا تو پہلے دن سے ہی لائیو اسٹریمنگ کی جاتی ۔ بہرحال رجسٹری کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی عدالت اس تعلق سے فیصلہ کرے گی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *