سینٹرل یونیورسٹی تحویل اراضی گھوٹالہ کی ہو اعلیٰ سطحی جانچ
موتیہاری میں ایم آئی ایم کا جن سنواد پروگرام اختتام پذیر
موتیہاری: (ملت ٹائمز – فضل المبین ) بہار کے لوگ بد عنوانی، قتل وغارت گری اور رشوت خوری سے تنگ آ چکے ہیں۔ سوشاسن کا دم بھرنے والی نیتیس حکومت کی قلعی کھل چکی ہے۔ایسے میں متبادل کی تلاش میں ہے۔ ایم آئی ایم بہار کے اقلیتوں اور بہوجن سماج کو یک جٹ کرنے کا کام کرے گی۔ مذکورہ باتیں ایم آئی ایم کے ریاستی یوتھ صدر عادل حسن ایڈوکیٹ نے موتیہاری ٹاؤن ہال میں منعقد جن سنواد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم بہار کے زیادہ تر سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ چناؤ میں اقلیتوں کے ساتھ ساتھ بہوجن سماج کا بھی پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ایڈوکیٹ حسن نے کہا کہ چمپارن گاندھی کی سرزمین ہے۔ یہاں کے عوام ایک بار پھر تبدیلی کے مڈمیں ہیں۔ انہوں نے مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحویل اراضی گھوٹالہ سے باپو کی روح مجروح ہوا ہوگا۔ ایم آئی ایم پورے تحویل اراضی معاملہ کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتی ہے۔ انہوں نے چمپارن ستیہ گرہ شتابدی سال بقایا تنخواہ کیے مطالبہ کو لے کر خود سوزی کرنے والے کسان مزدوروں کو بھی انصاف دلانے کا بھروسہ دلایا۔ جناب حسن نے کہا کہ ضرورت پڑی تو ایم آئی ایم سربراہ اس معاملہ کو پارلیمنٹ میں بھی رکھیں گے۔ ریاستی جواءنٹ سیکریٹری احتشام احمد نے کہا کہ ایم آئی ایم کسی خواص طبقہ کی پارٹی نہیں ہے۔ یہ غریبوں، مظلوموں اور استحصال زدہ لوگوں کی آواز ہے۔ سماج کے آخری صف میں کھڑے لوگوں کو انصاف دلانے کی مہم کا نام آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین ہے۔ جناب عالم حکومت بہار پر وار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی ریاست کا راگ الاپنے والے ڈبل انجن کی سرکاری میں چپ کیوں ہیں۔ خصوصی ریاست کا درجہ بہار والوں کا حق ہے۔ ایم آئی ایم اس کے لئے تحریک چلائےگی۔ وہیں جواءنٹ سیکریٹری تاج الدین نے کہا کہ پارٹی پہلے مرحلہ میں شمالی بہار کے آٹھ ضلعوں میں تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرے گی۔ یہاں دس دس ہزار سرگرم کارکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ موقع پر انجینئر نوشاد عالم نے کہا کہ پارٹی کو اقلیت و بہوجن سماج کا بھر پور حمایت مل رہی ہے۔ نوجوانوں کا جھکاؤ تیزی سے ایم آئی ایم کی جانب ہوا ہے۔ وہیں ڈاکٹر قاسم انصاری چمپارن میں پارٹی تاریخ رقمکرے گی۔ پروگرام کو خطاب کرنے والوں میں ارشاد عالم، ڈاکٹر پرویز، ظفر طارق، رام چندر ہاجرہ، جگجیت رام وغیرہ موجود تھے۔

Leave a Reply