عرضی میں بھی رام کی جائے پیدائش کے بارے میں نہیں بتایا گیا، مورتی غیرقانونی طور پر رکھی گئی: راجیو دھون
ظفریاب جیلانی نے حوالے پیش کیے ،ہندوﺅں کی کتب میں بھی رام کی جائے پیدائش کی تعیین نہیں
نئی دہلی: ایودھیامعاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں منگل کو مسلم فریقوں نے دعویٰ کیا کہ بابرنے مسجد کی تعمیر مندر توڑ نہیں کرائی تھی۔آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ مسجد کو ایودھیا میں خالی جگہ پر بنوایاگیاتھا۔آئینی بنچ میں شامل جسٹس بوبڈے نے پوچھا تھا کہ بابر نے مسجد بنائی تھی مندر توڑ کریا خالی زمین پر؟اس پر جیلانی نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر کسی مندر کو توڑ کر نہیں کی گئی تھی۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ہندو 1886میں متنازع مقام پر بنے چبوترے پر ہی مندربنانا چاہتے تھے۔ تب کے ضلع کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں گنبد والے مقام پر بھی ہندودعویٰ کرنے لگے۔مسلم فریقوں سے کی طرف راجیو دھون نے آج اپنی دلیلیں پوری کر لیں۔مسلم فریقوں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیت علماء ہند کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ مسلم وہاں پرنماز پڑھتے تھے، اس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔جگہ پر 22-23 دسمبر کی رات کو جس طرح سے مورتی کو رکھا گیا، وہ ہندوقوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔ دھون نے کہا کہ گوپال سنگھ وشارد کی عرضی میں بھی بھگوان رام کی جائے پیدائش کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ مسجدکے درمیان کے گنبد کے نیچے جائے پیدائش ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور عبادت کے حقوق کی مانگ کی گئی۔ دھون نے ہائی کورٹ کے ایک جج کے آبزروےشن کی مخالفت کی جنہوں نے کہا کہ مسلم وہاں پر اپنا قبضہ ثابت نہیں کرپائے تھے۔ دھون نے کہا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، ہمارا وہاں پر قبضہ تھا۔ انہوں نے دوبے کی رپورٹ کا ذکرکیاجس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کے احاطے میں عبادت ہوتی تھی اور نماز نہیں ہوتی تھی۔ اس پر دھون نے کہا کہ وہ ہون اورعبادت بھی ہوسکتی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ عبادت اور ہون مسجد کے اندرونی صحن میں ہوتی تھی۔دھون ایودھیا تنازعہ سے جڑی کئی پرانی درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ مسجد پر مسلم فریق کاقبضہ تھا۔ دھون نے کہا کہ متولیوں نے عرضی داخل کی تھی جس پر حکومت نے حکم دیاتھا۔ا گر مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہوتا تو وہ متولی عرضی کیوں لگاتا اور حکومت فیصلہ کیوں دیتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔راجیو دھون نے ہندوفریق کے ایک گواہ کا بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام کی مورتی اندرمیں نہیں تھی۔ اندر کوئی بھی بھگوان کی تصویرنہیں تھی، لیکن اس وقت بھی وہ لوگ جو عبادت کرنے آئے وہ ریلنگ کی طرف جاکر کمرہ کی طرف جاتے تھے۔راجیو دھون نے کہاکہ اندر کبھی عبادت نہیں ہوئی۔ غلط طریقے سے رکھی گئی مورتی کی بنیادپردعوے کا حق نہیں ہوسکتا۔ ایودھیا معاملے میں مسلم فریقوں کی جانب سے راجیو دھون نے بحث مکمل کر لی۔مسلم کی طرف سے کی طرف سے ظفریاب جیلانی نے سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ جائے پیدائش پر رام جنم کا اعتماد تو ہے، پرثبوت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام چرت مانس اور بالمیکی رامائن، یہ تو درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہے کہ اور کون کون سی کتابوں میں ذکرہے۔ رامائن میں کہیں مخصوص طور پر رام جنم مقام کا کوئی ذکرنہیں۔سن 1949 سے پہلے مشرقی گنبد کے نیچے رام جنم، پوجا کا کوئی وجود یا ثبوت نہیں ملتا۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ آپ اس کا ثبوت بھی دیں گے کہ 1949 سے پہلے وہاں باقاعدہ نماز ہوتی تھی؟ جیلانی نے کہاہے کہ اس کے تحریری نہیں زبانی ثبوت ہیں۔جسٹس اشوک بھوشن نے کہا کہ ہندوفریق کے مطابق بھی، رامائن میں ایودھیا میں دشرتھ محل میں رام جنم کا ذکر ہے لیکن مقام کا نہیں۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ دونوں نصوص میں ایودھیا میں رام جنم کا ذکرہے۔ اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ ایودھیا میں کہیں بھی رام جنم بھومی کا دعوی کر دیں؟جیلانی نے کہا کہ رام چبوترہ مندر سے پرانانہیں ہے۔انہوں نے راماین کے حوالے سے کہا کہ ان کی کتاب میں بھی اودھ پورکا ذکرہے، کسی خاص مقام کا نہیں۔جیلانی نے کہا کہ ہندو 1886 کے فیصلے میں عبادت کا حق ملنے کے بعد وہاں چبوترے پرہی مندر بنانا چاہتے تھے۔تب کے ضلع کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔گواہ ستیہ نارائن ترپاٹھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جیلانی نے کہا کہ اس میں بھی صرف ایودھیا کا ذکر ہے رام کی جائے پیدائش کا نہیں۔ ایک گواہ نے دشرتھ کے محل میں رام جنم ہونے کا ذکر کیا ہے، پر محل کی حیثیت کا پتہ نہیں۔والمیکی رامائن میں بھی کوئی مخصوص مقام نہیں بتایا گیا۔ رام چرت مانس کی تخلیق مسجد بننے کے تقریباََ 70 سال بعد ہوئی، لیکن کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ رام کی جائے پیدائش وہاں ہے جہاں مسجدہے۔یعنی پیدائش کو لے کر ہندوؤں کے عقیدے بھی بعد میں تبدیلی ہوگئی۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ بابر نے مندر توڑکر مسجد بنائی، پہلے کبھی مندر تھایاوہ جگہ خالی تھی؟ اس سوال پر جیلانی نبے کہاکہ بابرنے خالی پلاٹ پرمسجدبنائی تھی۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ آئین-اے-اکبری میں مسجد کا ذکر نہیں ہے؟ جیلانی نے کہا کہ ہندوو ¿ں کا یہ دعوی غلط ہے کہ مندر توڑ مسجد بنائی گئی۔
ظفریاب جیلانی نے حوالے پیش کیے ،ہندوﺅں کی کتب میں بھی رام کی جائے پیدائش کی تعیین نہیں
نئی دہلی: ایودھیامعاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں منگل کو مسلم فریقوں نے دعویٰ کیا کہ بابرنے مسجد کی تعمیر مندر توڑ نہیں کرائی تھی۔آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ مسجد کو ایودھیا میں خالی جگہ پر بنوایاگیاتھا۔آئینی بنچ میں شامل جسٹس بوبڈے نے پوچھا تھا کہ بابر نے مسجد بنائی تھی مندر توڑ کریا خالی زمین پر؟اس پر جیلانی نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر کسی مندر کو توڑ کر نہیں کی گئی تھی۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ہندو 1886میں متنازع مقام پر بنے چبوترے پر ہی مندربنانا چاہتے تھے۔ تب کے ضلع کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں گنبد والے مقام پر بھی ہندودعویٰ کرنے لگے۔مسلم فریقوں سے کی طرف راجیو دھون نے آج اپنی دلیلیں پوری کر لیں۔مسلم فریقوں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیت علماء ہند کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ مسلم وہاں پرنماز پڑھتے تھے، اس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔جگہ پر 22-23 دسمبر کی رات کو جس طرح سے مورتی کو رکھا گیا، وہ ہندوقوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔ دھون نے کہا کہ گوپال سنگھ وشارد کی عرضی میں بھی بھگوان رام کی جائے پیدائش کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ مسجدکے درمیان کے گنبد کے نیچے جائے پیدائش ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور عبادت کے حقوق کی مانگ کی گئی۔ دھون نے ہائی کورٹ کے ایک جج کے آبزروےشن کی مخالفت کی جنہوں نے کہا کہ مسلم وہاں پر اپنا قبضہ ثابت نہیں کرپائے تھے۔ دھون نے کہا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، ہمارا وہاں پر قبضہ تھا۔ انہوں نے دوبے کی رپورٹ کا ذکرکیاجس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کے احاطے میں عبادت ہوتی تھی اور نماز نہیں ہوتی تھی۔ اس پر دھون نے کہا کہ وہ ہون اورعبادت بھی ہوسکتی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ عبادت اور ہون مسجد کے اندرونی صحن میں ہوتی تھی۔دھون ایودھیا تنازعہ سے جڑی کئی پرانی درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ مسجد پر مسلم فریق کاقبضہ تھا۔ دھون نے کہا کہ متولیوں نے عرضی داخل کی تھی جس پر حکومت نے حکم دیاتھا۔ا گر مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہوتا تو وہ متولی عرضی کیوں لگاتا اور حکومت فیصلہ کیوں دیتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔راجیو دھون نے ہندوفریق کے ایک گواہ کا بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام کی مورتی اندرمیں نہیں تھی۔ اندر کوئی بھی بھگوان کی تصویرنہیں تھی، لیکن اس وقت بھی وہ لوگ جو عبادت کرنے آئے وہ ریلنگ کی طرف جاکر کمرہ کی طرف جاتے تھے۔راجیو دھون نے کہاکہ اندر کبھی عبادت نہیں ہوئی۔ غلط طریقے سے رکھی گئی مورتی کی بنیادپردعوے کا حق نہیں ہوسکتا۔ ایودھیا معاملے میں مسلم فریقوں کی جانب سے راجیو دھون نے بحث مکمل کر لی۔مسلم کی طرف سے کی طرف سے ظفریاب جیلانی نے سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ جائے پیدائش پر رام جنم کا اعتماد تو ہے، پرثبوت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام چرت مانس اور بالمیکی رامائن، یہ تو درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہے کہ اور کون کون سی کتابوں میں ذکرہے۔ رامائن میں کہیں مخصوص طور پر رام جنم مقام کا کوئی ذکرنہیں۔سن 1949 سے پہلے مشرقی گنبد کے نیچے رام جنم، پوجا کا کوئی وجود یا ثبوت نہیں ملتا۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ آپ اس کا ثبوت بھی دیں گے کہ 1949 سے پہلے وہاں باقاعدہ نماز ہوتی تھی؟ جیلانی نے کہاہے کہ اس کے تحریری نہیں زبانی ثبوت ہیں۔جسٹس اشوک بھوشن نے کہا کہ ہندوفریق کے مطابق بھی، رامائن میں ایودھیا میں دشرتھ محل میں رام جنم کا ذکر ہے لیکن مقام کا نہیں۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ دونوں نصوص میں ایودھیا میں رام جنم کا ذکرہے۔ اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ ایودھیا میں کہیں بھی رام جنم بھومی کا دعوی کر دیں؟جیلانی نے کہا کہ رام چبوترہ مندر سے پرانانہیں ہے۔انہوں نے راماین کے حوالے سے کہا کہ ان کی کتاب میں بھی اودھ پورکا ذکرہے، کسی خاص مقام کا نہیں۔جیلانی نے کہا کہ ہندو 1886 کے فیصلے میں عبادت کا حق ملنے کے بعد وہاں چبوترے پرہی مندر بنانا چاہتے تھے۔تب کے ضلع کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔گواہ ستیہ نارائن ترپاٹھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جیلانی نے کہا کہ اس میں بھی صرف ایودھیا کا ذکر ہے رام کی جائے پیدائش کا نہیں۔ ایک گواہ نے دشرتھ کے محل میں رام جنم ہونے کا ذکر کیا ہے، پر محل کی حیثیت کا پتہ نہیں۔والمیکی رامائن میں بھی کوئی مخصوص مقام نہیں بتایا گیا۔ رام چرت مانس کی تخلیق مسجد بننے کے تقریباََ 70 سال بعد ہوئی، لیکن کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ رام کی جائے پیدائش وہاں ہے جہاں مسجدہے۔یعنی پیدائش کو لے کر ہندوؤں کے عقیدے بھی بعد میں تبدیلی ہوگئی۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ بابر نے مندر توڑکر مسجد بنائی، پہلے کبھی مندر تھایاوہ جگہ خالی تھی؟ اس سوال پر جیلانی نبے کہاکہ بابرنے خالی پلاٹ پرمسجدبنائی تھی۔جسٹس بوبڑے نے پوچھا کہ آئین-اے-اکبری میں مسجد کا ذکر نہیں ہے؟ جیلانی نے کہا کہ ہندوو ¿ں کا یہ دعوی غلط ہے کہ مندر توڑ مسجد بنائی گئی۔

Leave a Reply