نئی دہلی: (ملت ٹائمز) بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کا آج 31واں دن تھا جس کے دوران مسلم فریق کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ کل کی بحث کے دوران انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا کہ مسلم فریق نے رام چبوترے کو رام کا جنم استھان قبول کرلیا ، آج انہیں اخبارات کے ذریعہ معلوم ہوا کہ عدالت میں دیئے گئے ان کے بیان کو کس تناظر میں لیا گیا ، انہو ں نے عدالت کو صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مسلم فریق کا نہیں بلکہ ہندو فریق کا عقیدہ ہے کہ رام کا جنم رام چبوترے پر ہوا تھا بلکہ ہمار ا موقف ہمیشہ سے یہ ہی رہا ہے کہ بابری مسجد کی کسی بھی جگہ رام کا جنم ہوا نہیں ہے بلکہ ایودھیا میں کسی جگہ ان کا جنم ہوا ہوگا۔ اس وضاحت کے بعد ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے پانچ رکنی آئینی بینچ کو بتایا کہ ان کی آنکھ کا آپریشن ہونے والا ہے لہذا انہیں دستاویزات پڑھنے میں شدید دقت کا سامنا ہے لہذا انہیں دستاویزات پڑھنے کے لیئے معاون کی مددلینے کی اجازت دی جائے ، ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی کی درخواست کو چیف جسٹس نے قبول کرتے ہوئے انہیں معاون کی مدد لینے کی اجازت دی جس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ علما ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کی معاون وکیل اکرتی چوبے نے ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی کی معاونت کی اور گزیٹئرز کی رپورٹ پڑھی جس کے مطابق رام کے جنم کا استھان کا کوئی ثبوت اس میں موجود نہیں ہے۔ ظفر یاب جیلانی نے گزئٹیرز کے علاوہ سیاحوں کے سفر نامے بھی پڑھے جس میں رام کے ایودھیا میں بالخصوص بابری مسجد کے اندرونی صحن میں پیدا ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کوظفر یاب جیلانی نے مزید بتایا کہ انیسویں صدی تک بابری مسجد کسی عام مسجد کی طرح ہی تھی لیکن رام کے جنم کا تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے بابری مسجد کی اہمیت بڑھ گئی نیز بابرنے خالی جگہ پر مسجد کی تعمیر کی تھی مندر منہدم کرکے مسجد کی تعمیر کئے جانے کاکوئی ثبوت عدالت میں اب تک پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتا یاکہ 1949سے قبل مسجد کے درمیانی گنبدکے نیچے رام جنم استھا ن یا پوجاکا کوئی وجودیا ثبوت نہیں ملتاہے نیز مہنت رگھوویر داس نے سوٹ داخل کرکے باہری چبوترے پر مندر کی تعمیر کرنے کی اجازت طلب کی اور1865 میں پہلی بار کوئی غیر مسلم مسجد کے اندر داخل ہوا تھا اور وہ وہاں سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا جس کے بعد داروغہ کو مداخلت کرنی پڑی تھی۔ ایڈوکیٹ جیلانی نے یہ بھی کہا کہ 1886 میں وہ مندر بنانا چاہتے تھے لیکن عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اسی درمیان ظفریاب جیلانی کی بحث کا اختتام ہوا جس کے بعد سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر اپنی بحث کا آغاز کیااور عدالت کو بتایا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 1528 میں مسجد کی تعمیر ہوئی تھی۔ ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے عدالت کو مزید بتایا کہ1 اگست 2002 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو متنازعہ مقام کا سروے کرنے کو کہا تھا ، محکمہ نے اپنی رپورٹ کی بنیاد پر ایک خلاصہ رپورٹ (سمری رپورٹ) ہائی کورٹ میں پیش کی تھی جسے عدالت نے قبول کرلیا تھا ، اس رپورٹ میں محکمہ آثار قدیمہ نے کہا تھا کہ کچھ چیزوں کے باقیات کھدائی میں پائے گئے لیکن جانچ محض پچیس فیصد کی ہوئی ، انہوںنے مزید کہا کہ رپورٹ میں شامل حقائق 1992 میں منہدم شدہ مسجد کے ملبے سے نکالے گئے تھے۔ ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے مزید بتایاکہ یہ رپورٹ محض ایک رائے ہے جو سی آر پی سی کی دفعہ 45 کے تحت ہے اسے بہت پختہ ثبوت نہیں مانا جاسکتا۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس بات کو محکمہ آثار قدیمہ نے خود تسلیم کیاہے کیونکہ یہ فطری سائنس پر مبنی نہیں ہے نیز مزید کہاکہ محکمہ آثار قدیمہ نے خود کہا ہےکہ رپورٹ کو پوری طرح سے درست نہیںمانا جاسکتا ، یہ نتائج ، حقائق اور رائے پر مبنی ہیں چنانچہ اس کی بنیاد پر تصدیق شدہ نتائج پر نہیں پہنچا جاسکتا بلکہ دیگر ثبوتوں کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔انہوں نے اپنی بحث کو جاری رکھتے ہو ئے کہا کہ ہمیں یہ جاننا ہوگاکہ آثار قدیمہ کیا ہے ، یہ سوشل سائنس کی فطرت پر منحصر ہے ، کچھ ماڈرن تکنیک جیسے کاربن کوٹنگ کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سوشل سائنس سے زیارہ نیچرل سائنس ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ رام چبوترے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہاں رام کا جنم ہوا تھا جو مسجد سے باہر تھوڑے فاصلے پر ہے ، جج نے اسی بنیاد پر ہندوﺅں کو اس پر اختیار دیا تھا ، یہ تب ہوا تھا جب 1886 میں رام چبوترا پر ہندوﺅں نے اپنا دعوی پیش کیا تھا ، محکمہ آثار قدیمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم صرف تلاش کئے گئے شواہد کو واضح کریں گے اور یہ ہی اس معاملے میں ہمارا رول ہے۔ ایڈوکیٹ میناکشی اروڑ ا کی بحث آج نامکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کا حکم دیا۔
دوران کارروائی سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون عدالت میں بیٹھے رہے اور درمیان میں بحث کرنے والے وکلا کو ہدایت بھی دیتے رہے نیز ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی کی زبانی بحث کو تحریری شکل میں دینے کے لیئے ایڈوکیٹ اعجازمقبول اور معاون وکلا کو ہدایت بھی دی ہے تاکہ عدالت میں مسلم فریق کاموقف واضح ہوجائے اور رام چبوترے کو لیکر ہونے والے تنازعہ کے تعلق سے مسلمانوں کا صحیح موقف عدالت کے سامنے آجائے۔ ڈاکٹر دھون نے وکلا سے یہ بھی کہاکہ وہ جب سوٹ نمبر 4 پر بحث کریں گے اس وقت وہ عدالت کے سامنے دوبارہ تفصیل سے ثبوت وشواہد کی روشنی میں مسلمانوں کے موقف کا اظہار کریں گے۔جمعیةعلما ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے کہا کہ حالا نکہ ابھی فی الحال دیگر سینئر وکلا عدالت میں مختلف موضوعات پر بحث کریں گے لیکن ڈاکٹر راجیو دھون اور ہمارے وکلا کی ٹیم ان کی رہنمائی کے لیئے عدالت میں حسب سابق موجود رہے گی نیز آخیر میں ڈاکٹر راجیو دھون تمام وکلا کی بحث کا نچوڑ عدالت میں پیش کریں گے۔

Leave a Reply