مرکز المعارف اپنے مشن میں کامیاب، ہندوستان سمیت دنیا بھر میں یہاں کے فضلاء دعوت دین اور دفاع اسلام کا فریضہ ادا کررہے ہیں




ایم ایم ای آر سی کی سلورجبلی تقریبا ت کا آج سے آغاز، مولانا بدرالدین اجمل ، قاری عثمان منصوری پوری سمیت متعدد سرکردہ شخصیات کی شرکت

نئی دہلی: (پریس ریلیز ) مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے پچیس سال مکمل ہونے پر وہاں کے فضلاءسہ روزہ سمینار کا انعقاد کرکے سلور جبلی منارہے ہیں جس کا آج جمعیت کے مدنی ہال میں آغاز ہوا ۔ افتتاحی اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے ایم ایم ای آرسی کے بانی مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے کہاکہ مرکز المعارف ایک خالص مدارس سے وابستہ تحریک اور مومنٹ ہے جس کا مقصد ایسے باصلاحیت ،سنجیدہ ، معتدل اور باکردار افراد تیار کرناہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکیں ۔برادران وطن اور اسلام سے ناواقف غیر مسلم بھائیوں میں اسلام کا جامع تعارف کراسکیںاور ان کے ذہنوں میں پائے جانے والی غلطیوں کا تسلی بخش جواب دے سکیں ۔الحمد للہ اس مشن میں کامیابی ملی ہے اور مرکز المعارف کی کوششوں سے ایک بڑی تعداد ایسے علماءکی تیار ہوگئی ہے جو انگریزی زبان میں ریسرچ ، تحقیق ، دعوت ، تبلیغ، تصنیف ، صحافت ، ترجمہ نگاری اور دیگر میدانوں میں کام کررہے ہیں ۔

قاری سید محمد عثمان منصور پوری صدر جمعیت علماء ہند نے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا اجمل کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہاکہ انگریزی زبان میں درس وتدریس بھی دین کا حصہ ہے اور انگریزی زبان سیکھ کر لوگ دعوت و تبلیغ کا نمایاں فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ امریکہ یورپ اور دنیا کے دسیوں ممالک میں مرکز المعارف سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دعوت دین اور دفاع اسلام کا عظیم فریضہ ادا کررہے ہیں۔ یہ قابل قدر کوشش ہے اور ہمارے مشن کا حصہ ہے ۔ مہمان خصوصی مولانا سید محمود اسعد مدنی سکریٹری جنرل جمعیت علماء ہند نے کہاکہ مرکز المعارف نے زمانے کی ضرورتوں اور تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دیاہے ۔ اس کے مثبت اور نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آئندہ مزید یہ ادارہ قوم وملت کیلئے مفید اور نافع ثابت ہوگا ۔

سلور جبلی سمینار کے کنونیر ڈاکٹر عمر گوتم صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ایم ایم ای آر سی کے قیام کی تاریخ اور اس وقت کے حالات کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے بتایاکہ مرکز اپنے مشن اور مقصد میں مکمل طور پر کامیاب ہے اور آئے دن یہ ادارہ ترقی کررہاہے ۔

سمینار کے دوران لکھے گئے مقالات کے مجموعہ” سوینئر “، ہفت روزہ ملی بصیرت کے خصوصی شمارہ ایم ایم ای آرسی نمبر ، مولانا مدثر احمد قاسمی کی کتاب انقلابی تحریریں ( دو جلدیں ) مرکز المعارف کا تعارف نامہ کا رسم اجراءبھی عمل میں آیا ۔ علاوہ ازیں مرکز المعارف کی خدمات اور مشن کے بارے میں ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کے پروگرام خبر در خبر کو پروجیکٹر کے ذریعہ پیش کیا گیا۔

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا قیام 1994 میں عمل میں آیا تھا ۔ اس کا مقصد مدارس کے فضلاء کو انگریزی زبان سکھاناتھا اب تقریباً 20 سے زائد ادارے کا قیام عمل میں آچکاہے ۔ پچیس سال مکمل ہونے پر دہلی میں سہ روزہ سیمینار منعقد ہورہا ہے جس کا کلیدی عنوان علماء ، مدرسہ ماڈنائزیشن اور مسلم نوجوان ہے ۔ افتتاحی اجلاس کے علاوہ یہ سیمینار چار بزنس سیشن ایک انگریزی زبان میں کل ہند تقریری مسابقہ پر مشتمل ہے ۔ 6اکتوبر کو ماؤلنکر ہال کانسٹی ٹیوشن کلب رفیع مارگ میں اجلاس عام ہوگا جس میں ملک کے نامور علماء، دانشوران اور سرکردہ شخصیات کی شرکت ہوگی ۔

افتتاحی اجلاس کا اختتام مفتی عزیز الرحمن فتح پوری کی دعاء پر ہوا ۔ قبل ازیں مفتی طہٰ قاسمی کی تلاوت پر تقریب کی شروعات ہوئی ۔ مولانا صادق قاسمی اور مفتی جسیم الدین قاسمی نے مشترکہ طور پر نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *