15؍ اکتوبر سےقبل ہرحال میں ووٹر ویری فکیشن کروالیں، درستگی کا کام بعد میں بھی ہوسکتا ہے
سہرسہ: (پریس ریلیز) این آر سی کے تعلق ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ بیان کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے انہیں جو کچھ کہنا تھا وہ کہ گئےاب ایسے مشکل حالات میں ہمیں کیا فیصلہ لینا ہے اس پر ہماری مسلم قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے ساتھ ہی علاقائی سطح پر بھی ملی درد رکھنے والے علماء، دانشوران اور نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئےعام لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت نکالنے میں مددکرنی چائیے، مسلمانوں کو این آرسی سے بالکل خوف زدہ ہونے کی ضروت نہیں ہے ان خیالات کا اظہار سماجی کارکن و صحافی شاہنواز بدرقاسمی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ امیت شاہ جس این آرسی کو ملکی سالمیت کیلئے لانا چاہتے ہیں وہ سراسرمذہبی تعصب اور بھارت کے دستور کے منافی ہے اس لئے بقول وزیر داخلہ کے اگریہ این آرسی صرف مسلمانوں کیلئے لایا جارہا ہے تو ہمیں کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، اس ملک کا ہر مسلمان اس سیاہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔شاہنواز بدر نے کہا کہ ہماری قیادت کی موجودہ خاموشی اور مصلحت پسندی سے ملت کا ہر فرد بےچین ہے جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے، ایسے مشکل حالات میں مزید خوف زدگی پھیلانے کے بجائے انہیں ہمت حوصلہ اور سہارا دینے کی ضرورت ہے، ہماری حکومت ہو یا قیادت دونوں نے مل کرحالات کو مزید سنگین بنادیا ہے اس لئے آپ سب سے میری اپیل ہے کہ اپنے دل و دماغ سے این آر سی کے ڈر کو نکال دیں اگر مودی سرکار کوئی ایسا فیصلہ لاتی ہے جو ملکی دستور کے خلاف ہو ہمیں کسی بھی صورت میں ایسا قانون منظور نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے جس تعصب پرستی کی بنیاد پر یہ بیان دیا ہے اس پس منظر میں اس این آر سی کے بائیکاٹ کا اعلان ہونا چائیے ہم ابھی سے یہ طے کرلیں اس این آرسی میں حصہ نہیں لیں گے اگر آسام کے طرز پر بلاتفریق ملک کے ہرشہری کیلئے این آرسی لایا جاتا ہے تو ہمیں کوئی حرج نہیں ہے، ہم اسے قبول کریں گے۔ شاہنواز بدر نے کہاکہ یہ ملک ہمارا تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا، ملک بھیم راؤ امبیڈکر کےقانون اور دستور پر چلےگا نہ کہ آر ایس ایس اور بی جےپی کی نفرت پسندی پر، مذہبی تعصب کی بنیاد پر اپنے ملک میں ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، چاہے اس کیلئے ہمیں جن حالات کا سامنا کرنا پڑے، آپ حق بات کہنے میں کسی قائد اور لیڈرکے بیان کا انتظار مت کیجئے آپ خود آگے بڑھ کر قوم و ملت کی بیباک ترجمانی کیجئے یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔شاہنواز بدر قاسمی نے آخر میں کہاکہ ترتیب سے کام ہونا چاہئے سب سے پہلے 15اکتوبر 2019 تک ووٹر ویری فکیشن کا کام ہرحال میں کروالیں، سرکاری کاغذات کی درستگی کا کام ابھی چلتا رہے گا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ووٹر ویری فیکیشن کے بعد آئندہ سال این پی آر اور پھر مردم شماری کا کام ہوگا، فی الحال این آر سی کیلئے وزارت داخلہ کی جانب سے باضابطہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر ملک کے مختلف ریاستوں کے عام شہری ان سرکاری کاغذات کی تیاری کرسکیں، اس لئے این آر سی کے نام پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ کاغذات کی درستگی میں مکمل بیداری کا ثبوت پیش کریں تاکہ ہماری نسلیں بھی احسان مند ہوں۔ انہوں نے علاقائی ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ مقامی سطح پر ووٹر ویری فیکشن کیلئے سینٹر بناکر کام کریں یا پھر عام شہری کیلئے ایسے آن لائن سینٹر کی ضرور نشاندہی کردیں جہاں لوگ بآسانی کام کرواسکتے ہیں۔

Leave a Reply