ہمت اور حوصلہ کے ساتھ حالات کا سامنا کریں۔ مسلمانوں کو خوف زردہ کرنے کی مہم کو ناکام بنانا قیادت کی مجموعی ذمہ داری
تاریخی شہر وجے واڑا میں آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا بیسواں اجلاس جاری۔ متعدد اہم مسائل پر ارباب حل وعقد کا تبادلہ خیال
نئی دہلی: (پریس ریلیز) ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا بیسواں عمومی اجلاس سال رواں ہندوستان کے تاریخی اور قدیم شہر وجے واڑا میں ہورہا ہے۔ 18اپریل کو بعد نماز مغرب یہاں کے ”دی کے ہوٹل“ میں مجلس عاملہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا ، اس کے بعد 19نومبر کو اراکین ملی کونسل کا عمومی اجلاس ہوا جس میں ارباب حل و عقد نے ملک کے موجود ہ حالات اور ملت کو درپیش متعددا ہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔
کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے اراکین کونسل اور مدعوین خصوصی نیز ملک وملت کی اہم نمائندہ شخصیات کے سامنے درج ذیل چار تجویز یں پیش کی ۔
(۱) ملک کے قائدین ہندو مذہبی رہنما اور متعدد اچار یہ ملاقات کریں اور یہ ملاقا ت بغیر کسی تحفظات کے علی الاعلان کی جائے ، ا س کے علاوہ متعدد اسکالرس، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنان سے بھی رابطہ قائم کیا جائے۔
(۲) عدلیہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ماب لچنگ ، بے جاگرفتاری اور دیگر اہم معاملوں کو ہم عدالت میں لیکر جائیں اور مضبوطی کے ساتھ قانونی جنگ لڑیں ۔
(۳) ملک کے اس طبقہ کا ہم کھل کر ساتھ دیں جس پر ظلم ہورہاہے اوروہ انصاف کی لڑائی لڑرہے ہیں ۔
(۴) اس کے علاوہ انہوں نے چوتھی اہم تجویز اتحاد بین السلمین کی پیش کی اور نوجوانوں کی تربیت پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ۔
کونسل کے رکن تاسیسی اور آندھرا پردیش کونسل کے سرپرست مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مذکورہ تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت اہم اور ضرروی ہے اور چاروں نکات پر پورے ملک میں کام کرنے کی ضرروت ہے ۔ مولانا یاسین علی بدایونی عثمانی نے کہاکہ ہمیں اب سڑکوں پر نکل کر تحفظ برائے اقلیت ایکٹ کا مطالبہ کرنا چاہیئے ، دنیا کو اب ہمیں بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ اجلاس میں متعدد اراکین مسلم خواتین کے درمیان پھیلتے ہوئے الحاد اور غیرمذاہب میں شادی کے مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس کے سد باب کیلئے لائحہ عمل طے کیاگیا کہ مساجد کے ائمہ اس سلسلے میں خصوصی کردار نبھائیں اور معاشرہ میں بیداری پیدا کریں ۔کشمیر انسانی بحران ، غیر آئینی طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی، ماب لنچنگ ، ہجومی تشدد ،این آرسی ، 2020 میں ہونے والی مردم شماری انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ ، قومی تفتیشی ایجنسی اور آرٹی آئی میں ماضی قریب میں کی گئی ترمیمات بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کونسل نے ان تمام مسائل پر عوام کے درمیان جاکر کام کرنے اور رابطہ عامہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔علاوہ ازیں کونسل کے اجلا س میں مجموعی طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ حالات ابھی بہت سخت ہیں ، پہلے بھی ہم نے ایسے حالات کا سامنا کیا ہے لیکن ذرہ برابر بھی اس سے خوفزدہ اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، ماب لنچنگ اور دیگر طریقوں کو اپنانے کے بعد اب پورے ملک میں این آرسی نافذ کرنے کے نام پر ہمیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے محتاط رہنے اور احساس کمتری سے نکلنے کی ضرروت ہے ۔ ہمیں آئین پر بھروسہ ہے اور اسی کی رہنمائی میں کام کرنا ہے ، کس وزیر نے کیا کہا، کس پارٹی اور تنظیم کے سربراہ نے کیا بیان دیا اس سے گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرروت نہیں ہے اور نہ ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے ،ہمیں آپس میں الجھانے اور خوف زدہ کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی ہے جسے ملک کے مسلمانوں کو سمجھنا ضروری ہے ۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہم عدل ، انصاف، آزادی اور تحفظ کو بنیاد محور بناکر کام کریں ، غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں اور انسانیت کی بنیاد ظلم کے شکار سبھی طبقہ کی مدد کریں ، ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں بہت سارے ابوطالب مل جائیں گے۔
مجلس عمومی کے افتتاحی اجلاس میں آندھر اپردیش کے نائب وزیر اعلی امجد پاشانے بھی شرکت کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آل انڈیا ملی کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ ملک کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مسلک ،مکتبہ فکر اور ہر طبقہ کے مسلمانوں کی نمائندگی ہے اور ہر مشکل وقت میں یہ تنظیم قوم کی درست رہنمائی کرتی رہی ہے ۔ہمیں امیدہے کہ وجے واڑہ میں ہونے والا کونسل کا یہ اجلاس بھی تاریخی اور امت مسلمہ کیلئے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں کنور کے ایم ایل اے جناب عبد الحفیظ خان اور شہر کی دیگر نمائندہ شخصیات نے بھی اظہار خیال کیا ۔
رواں اجلاس میں کونسل کے صدر مولانا عبد اللہ مغیثی ۔ مولانا انیس الرحمن قاسمی (نائب صدر ) مولانا یاسین علی عثمانی (نائب قومی صدر) مولانا عبد العلیم بھٹکلی ( نائب صدر ) ڈاکٹر محمد منظور عالم (جنرل سکریٹری) مولانا سید مصطفے رفاعی جیلانی ندوی (اسسٹنٹ جنرل سکریٹری ) ایڈوکیٹ ظفر یابی جیلانی لکھنو ، محمد رحیم الدین انصاری،حید رآباد ۔ قاری فضل الرحمن ،کولکاتا ۔ ای ایم عبد الرحمن ، کوچن کیرالا۔ شیخ نظام الدین شولاپور۔ ڈاکٹر ایم اعجاز احمد،دربھنگہ ۔ محمد قمر عالم ایٹہ ۔ محمد عاصم سیٹھ افروز،بنگلور ۔حاجی شہود عالم ،کولکاتا ۔ مولانا مسیح عالم جامعی بھوپال ۔ عارف مسعود ایم ایل اے بہوپال ۔ منیر احمد خان ،اندور ۔ ڈاکٹر عبد المبین خان ممبئی ۔مفتی رضوان قاسمی تاراپوری، احمد آباد۔جناب سلیمان خان بنگلور ۔ حافظ رشید احمد چودھری ،گوہاٹی ۔ مولانا عطاءالرحمن سابق ایم ایل اے شلچر ۔انعام الدین احمد گوہاٹی ۔ مولانا آس محمد گلزار قاسمی ،میرٹھ ۔ مولانا عبد المالک مغیثی سہارنپور ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل ،گلبرگہ ۔مفتی سعید اسعد قاسمی آسنسول ۔ ایس ابن سعود چننئی ۔ عبد الحفیظ لکھانی ۔ ڈاکٹر مختار احمد مکی، جمشید پور ۔ جناب حیدر محی الدین غوری حیدر آباد ۔جناب نجم الاسلام احمر گلبرگہ۔ اشفاق احمد صدیقی ، بلگام۔ مولانا عمر عابدین ۔ مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی ، عطاءالرحمن دہلی ۔ سمیت ملک بھرسے ملی کونسل کے اراکین ، مدعوین خصوصی اور دیگر اہم شخاص اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔ رواں اجلاس میں ڈاکٹر محمد منظور عالم کے مضامین پر مشتمل نوجوان صحافی شمس تبریز قاسمی کی کتاب ترتیب دی ہوئی کتاب ” عصر حاضر کے چیلنجز عدم توجہی کے شکارکیوں؟ “ ۔ کونسل کی سالانہ رپوٹ قندیل فکر وعمل اور دیگر اہم کتابوں کا اجراءبھی عمل میں آیا ۔
واضح رہے کہ وجے واڑا میں آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا عمومی جلاس 18اکتوبر سے جاری ہے اور 20اکتوبر چلے گا ۔ آخری اجلاس میں کونسل ملک وملت کے موجودہ حالات میں ایک اعلامیہ بھی جاری کرے گی ۔

Leave a Reply