جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام جنگ آزادی کی تاریخ سے منسلک، یہ ہماری مشترکہ وراثت کا حصہ ہے: صدر جمہوریہ ہند




جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 99 ویں جلسہ تقسیم اسناد میں رام ناتھ کووند نےجامعہ کے ترانہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔

نئی دہلی: (یو این آئی) صدرجمہوریہ رام ناتھ كووند نےکہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام جنگ آزادی کی تاریخ سے منسلک ہے اور یہ ہماری مشترکہ وراثت کا حصہ ہے۔ رام ناتھ كووند نے بدھ کے روزجامعہ ملیہ اسلامیہ کی جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کےبانیوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ آج شرمندۂ تعبیرہو رہا ہے۔ جنگ آزادی کا بگل بجنے پر یہاں کے بانیوں میں محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان سمیت کئی شخصیات نےاس میں حصہ لیا اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کےساتھ مل کر جامعہ کا قیام عمل میں لایا۔ اس یونیورسٹی کا مقصد سب کوساتھ لے کر چلنا اورکثرت میں وحدت قائم کرنا تھا اور یہ اپنے 100ویں سال میں داخل ہونے کے دوران بھی اپنی شبیہ کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو قابل ستائش ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ انہیں ایسی یونیورسٹی کی کنووکیشن تقریب کا حصہ بن کر فخرکا احساس ہورہا ہے، جہاں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکرحسین نے 22 سال تک وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار راج بھون اور راشٹرپتی بھون میں ذاکر حسین ہمارے پیشرو رہے ہیں یہ ان کے لئے انتہائی خوشی کا لمحہ ہے۔ رام ناتھ کووند نےکہا کہ تعلیم کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہوتا ہے اور جامعہ کے ترانہ میں اس کی صاف جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

تعلیمی شعبے میں جامعہ دنیا کے کئی ممالک کےساتھ مشترکہ پروگرام چلا رہی ہے، جس سےاس کی شناخت عالمی ہوئی ہے۔ یہاں کے ماس میڈیا کے طالب علموں نے فلم اور میڈیا کے میدان میں بڑا نام کمایا ہے اور کھیل کے شعبے میں بھی کئی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اس یونیورسٹی نےقومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ حکومت کی اہم اسکیم ’اُنت بھارت ابھیان‘ کے تحت جامعہ نے پانچ دیہات کوگود لیا ہے یہ ایک قابل ستائش قدم ہے۔ انہوں نےکہا کہ مزید دیہات کوگود لینے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقوں کوقومی دھارے میں لایا جا سکے۔

اس موقع پرترقی برائے انسانی وسائل کے وزیر ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سماجی تبدیلی کےلئے جانی جاتی ہے۔ یونیورسٹی میں کئی کورسز کو شامل کیا گیا، جس سےطالب علموں کو خود کفیل بنانے میں امداد ملی ہے۔ کوشل وکاس کے شعبے میں بھی جامعہ نے قابل ستائش کام کئے ہیں۔ نا سازگار حالات میں بھی اس یونیورسٹی نے خود کو قائم کئے رکھا اورمسلسل نئی بلندیوں کو چھورہی ہے۔ اس یونیورسٹی نے کئی شخصیات کو پیدا کیا ہے، جنہوں نے ملک کا سر فخرسے بلند کیا ہے۔ رمیش پوکھریال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جس بہترین ہندوستان اور مضبوط ہندوستان کا خواب دیکھا ہے، اس کا راستہ بھی جامعہ سے ہوکر نکلتا ہے۔ حکومت جو نئی تعلیمی پالیسی لا رہی ہے، اس سے نئےملک کی تعمیرہوگی ۔

منی پور کی گورنر اور جامعہ کی چانسلر ڈاکٹرنجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ یہاں کے بانیوں نے جامعہ کے قیام اور اسے آگے لے جانے میں بہت جدوجہد کی ہے۔ یونیورسٹی نے مسلسل ترقی کے نئی جہتیں قائم کی ہیں اوراین اے اے سی نےاسے اے گریڈ کا درجہ دیا ہے جو سب کے لئے بہت خوشی کی بات ہے۔ جامعہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نےکہا کہ جامعہ گنگا جمنی تہذیب کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اس ادارے کے بانیوں نےجوخواب دیکھا وہ مسلسل شرمندہ تعبیرہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم لوگوں کے لئے فخرکا لمحہ ہےکہ اس ادارے نےاپنے99 سال پورے کر لئےاورآج 100ویں سال میں داخل ہو گیا ہے۔

واضح ر ہےکہ اس کنووکیشن میں سال 2017 اور2018 کے 10 ہزار 745 طلباء وطالبات کوڈگریاں پیش کی گئیں۔ اس موقع پرجامعہ کے تمام فیکلٹی سربراہان، شعبوں کےسربراہان، اساتذہ، عہدیداران اورطلباء و طالبات موجود تھے۔ یونیورسٹی کے 100 سال پورے ہونے کےموقع پر جامعہ میں پورے سال پروگرام منعقد کئے جائیں گے ۔

یہاں غیر ملکی طالب علموں کےداخلے پرزوردیا جا رہا ہے۔ فی الحال یہاں 40 ممالک کے تقریباً 300 سے زیادہ طلباء وطالبات مختلف کورسزمیں زیر تعلیم ہیں ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *