حیدرآباد: (پریس ریلیز) دارالقضاء ایک سماجی ضرورت ہے، جس سے غریب اور مظلوم عورتوں کو آسانی سے انصاف مل جاتا ہے، دارالقضاء کا نظام آئین سے ہم آہنگ ہے، نیز دارالقضاء کورٹ کا معاون بھی ہے، ان خیالات کا اظہار جناب مولانا قاضی محمد فیاض عالم قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ، ناگپاڑه ممبئی نے المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد میں دو روزه تربیت قضاء کیمپ کے دوران کیا، تربیت قضاء کیمپ کے سرپرست اور معہد کےناظم اعلیٰ حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی نے افتتاحی نشست میں دارالقضاء کی اہمیت اور تربیتی کیمپ کے انعقاد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نکاح، طلاق، خلع وغیره سے متعلق عوام کی صحیح رہنمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری ہے،فی زمانہ اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اس لئے ہم نے اس کے انعقاد کا فیصلہ کیا، مولانا قاضی محمد فیاض عالم قاسمی نے دارالقضاء کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ دارالقضاء میں زیاده تر مظلوم خواتین آتی ہیں، جنھیں کم وقت میں انصاف فراہم کیا جاتا ہے، انھیں ان کےحقوق دلوائے جاتے ہیں، ظالم شوہروں سے نجات دلائی جاتی ہے، جس سے ان کو عزت و وقار کی زندگی میسر ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ دارالقضاء کاؤنسلنگ سینٹر کی طرح ہے جس میں ہر دو فریق اوران کے بچوں کی بھلائی کو سامنے رکھ کر کاؤنسلنگ کی جاتی ہے، دونوں فریق کو اپنی پوری بات رکھنے کاموقعہ دیا جاتا ہے، پھران کی رضامندی سےصلح نامہ یا خلع نامہ بنایا جاتا ہے، صرف مرد کی شکایت پر طلاق نامہ نہیں بنایا جاتا ہے، چنانچہ انھوں نے دارالقضاء ممبئی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ٢٠١٣ء سے اب تک ایک ہزار مقدمات درج ہوئے اسی فیصد مقدمات عورتوں کی طرف سے درج ہوئے، اور بقیہ بیس فیصد یا تو مرد کی طرف سے مصالحت کے لئے درج ہوئے، یا دوسری نوعیت مثلاً ترکہ ،تقسیم وراثت، خریدوفروخت، ہبہ وغیره کے درج ہوئے۔ ان میں سے ایک بھی مقدمہ مرد کی طرف سے طلاق کے لئے درج نہیں ہواہے۔ انھوں نے دارالقضاء کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کی عدالتوں میں کل 33455626 (تین کروڑ، چونتیس لاکھ ،پچپن ہزار چھ سو چھبیس) زیرالتواء ہیں جب کہ ۳۱/دسمبر۲۰۱۵ء کل :31035237 (تین کروڑ دس لاکھ پینتیس ہزار دو سو سینتیس) زیرالتواء تھے،یعنی تین سال تین مہینے میں 2420389 (چوبیس لاکھ بیس ہزارتین سو نواسی) مقدمات کا اضافہ ہوا۔ گویاکہ یومیہ 2068،(دوہزاراڑسٹھ) ماہانہ 62061 (باسٹھ ہزار اِکسٹھ) اور سالانہ 744735 (سات لاکھ چوالیس ہزار سات سو پینتیس) سے زائدکے حساب سے مقدمات زیرِ التواء ہورہے ہیں۔ یقیناً یہ ہماری عدالتوں پر بہت بڑا بوجھ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اگر زیرِ التواء مقدمات پر قابو نہیں پایا گیا تو ان کی تعداد ۲۰۴۰ تک پندرہ کروڑ تک ہوجائے گی۔ انھوں نے مزید کہا ایسی ناگفتہ صورت حال پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نیو دہلی میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹسوں اور وزارء اعلیٰ سے ایک خطاب کے دوران عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات اور ججوں کی جگہ خالی ہونے پر بات کرتے ہوئے جذباتی طور پر روپڑے تھے، انھوں نے کہا تھا کہ جو مقدمات زیرِ التواء ہیں انھیں حل کرنے کے لئے ستر ہزار ججوں کی ضرورت ہے،جب کہ فی الحال تقریباً اکیس ہزار ہیں، اس لیےایک جج کو سالانہ چھیس سو مقدمات حل کرنا پڑتا ہے، جب کہ امریکہ میں سالانہ ۸۱/مقدمات کو ۹/جج مل کرحل کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ۱۹۸۷ء میں لاء کمیشن نے ہر دس لاکھ پرپچاس ججوں کی تقرری کی سفارش کی تھی، مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا، ایسی صورت حال میں دارالقضاء بہت بڑی نعمت ہے۔ اور دارالقضاء سے اپنے گھریلو تنازعات کو حل کرنا حکومت اور کورٹ کے ساتھ بڑا تعاون ہے۔ دارالقضاء قائم کرنے کے تعلق سے قاضی محمد فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ دارالقضاء کاکسی امارت کی ماتحتی میں ہونا ضروری ہے، نیزقضاء ایک عظیم الشان عہدہ ہے، کوئی آدمی از خود قاضی نہیں بن سکتاہے اور نہ خود ہی یہ عہدہ حاصل کرسکتاہے، بلکہ امیرشریعت یامسلمانوں کے سربراہ کی طرف سے مقرر کیا جانا ضروری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قاضی کی اطاعت از روئے شرع واجب ہے، خلاف ورزی کرنا باعث گناہ اور بڑے خسارہ و محرومی کی بات ہے۔ واضح رہے کہ قاضی موصوف نے پروجیکٹر کے ذریعہ پورے نظام قضاء کو سمجھایا ،صلح نامہ، خلع نامہ اور فیصلہ تحریر کرنے کا طریقہ نیز دارالقضاء کی پوری کارروائی کو بھی تفصیل سے بیان کیا۔

Leave a Reply