ضلع انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے صورتحال قابو میں، سلطان گنج، پتھر کی مسجد اور عالم گنج سمیت حساس علاقوں میں مسلح پولس تعینات، علاقے میں پولس کا فلیگ مارچ، پورے علاقے میں اضطراب آمیز خاموشی، حساس علاقےمیں پولس گشت جاری، امن کمیٹی کی میٹنگ میں علاقے کے باشندوں سے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کی افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل، پھلواری شریف میں بھی شرپسندوں کی لوٹ پاٹ
پٹنہ: ضلع انتظامیہ نے گذشتہ رات بروقت کارروائی کرکے عالم گنج میں مورتی وسرجن کے جلوس کےد وران پتھراؤ کےو اقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور علاقے میں فرقہ وارانہ فساد کرانے کی فرقہ پرستوں اور شرپسند عناصر کی سازش کو ناکام بنادیا۔ کشیدہ صورت حال کے پیش نظر سلطان گنج، پتھر کی مسجد اور عالم گنج سمیت حساس علاقوں میں مسلح پولس دستے تعینات کردیئے گئے ہیں۔ لیکن صورت حال ہنوز کشیدہ ہے۔ علاقے کے باشندوں میں اعتماد بحال کرنے کے لئے سی آر پی ایف کے جوانوں نے فلیگ مارچ کیا۔ سی آر پی ایف کے جوانوں نے سلطان گنج سے پتھر کی مسجد، ترپولیہ، بالکشن گنج، عالم گنج، ببوا گنج اور گائے گھاٹ تک فلیگ مارچ کیا اور دکانداروں سے دکان کھولنے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ پٹنہ سیٹی کے چوک شکار پور ہرنابا ٹولہ، خان بہادر روڈ، لوڈی کٹرہ، نون کا چوراہا، صدر گلی، باغ مالو خاں، باغ کالو خاں علاقے میں بھی پولس نے فلیگ مارچ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہ گنج اور عالم گنج پوجا سمیتی کی طرف سے نکالے گئے مورتی وسرجن کے جلوس کے دوران جلوس کو آگے پیچھے کرنے کے معاملے میں آپس میں جھگڑا ہوا اور دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہوگیا۔
اس واقعہ کو شرپسندوں نے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتے ہوئے عالم گنج میں اشوک راج پتھ پر واقع دلال جی کی مسجد، مکانوں اور دکانوں پر پتھرائو شروع کردیا اور سڑک کے کنارے ایک اسکوٹی میں آگ لگادی۔تشدد اورہنگامے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی اور افواہوں کا بازار بھی گرم ہوگیا جس کی وجہ سے لوگوں نے رات جاگ کر گذاری۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ کمار روی اور ایس ایس پی گریما نے مسلح پولس دستے کے ساتھ جائے واردات پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا اور حالات کو بے قابو ہونے سے بچالیا۔ پولس کی موجودگی میں بھی شرپسندوں نے فائرنگ کی۔ پیر کو دیر رات ہوئے اس واقعہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر لوگ طرح طرح کی خبریں شیئر کرتے رہے جس کی وجہ سے طرح طرح کی افواہیں بھی پھیلتی رہیں۔ لوگوں نے جاگ کر رات گذاری۔ گلی کوچے میں سراسیمگی پھیل گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شرپسندوں نے رات میں ببوا گنج مسجد کو بھی گھیر لیا جہاں مسجد کے امام اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ پولس کی بروقت کارروائی سے مسجد کے امام اور ان کے خاندان والوں کو بحفاظت دوسری جگہ پہنچایا گیا۔
عالم گنج میں ہوئے اس پورے واقعہ کی اطلاع واٹس ایپ اور فون پر محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری عامر سبحانی کو دی جاتی رہی۔ وہ تقریباً رات بھر جاگ کر صورت حال کو قابو میں کرنے کے لئے اعلیٰ افسروں کو ضروری ہدایتیں دیتے رہے جس کی وجہ سے حالات پر بروقت قابو پایا جاسکا اور کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ صبح میں حالانکہ عالم گنج اور اس کے اطراف میں کچھ دکانیں بند رہیں لیکن ٹیمپو اور دوسری سواریاں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ اس دوران افواہوں کا بازار بھی گرم رہا جس کی وجہ لوگ گلی کوچوں اور سڑکوں پر صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لئے جمع ہوتے رہے۔ اس دوران پولس نے فلیگ مارچ کرکے لوگوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔ شام میں عالم گنج تھانہ میں امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں ضلع مجسٹریٹ کمار روی اور ایس ایس پی گریما ملک نے لوگوں سے امن و ماں برقرار رکھنے کے لئے پولس انتظامیہ کے ساتھ ہرممکن تعاون کرنے کی اپیل کی۔ فی الحال پورے علاقے میں صورت حال قابو میں ہے لیکن ہر طرف اضطرابی کیفیت طاری ہے۔ لوگ فون اور واٹس ایپ پر علاقے کی صحیح صورتحال جاننے کے لئے ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ کما ر روی اور سینئر ایس پی گریما ملک نے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ان دونوں افسروں نے عالم گنج تھانہ میں آج منعقد کی گئی امن کمیٹی کی ایک میٹنگ میں کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں جس کی تردید کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہی افواہوں کی وجہ سے صورت حال میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ گروپ میں اگر کوئی غلط خبر فارورڈ کرتا ہے تو گروپ ایڈمن کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھٹیوں کے بعد آپ خود اپنے کام کاج کے ساتھ معمول کی زندگی پر واپس آنا چاہتے ہیں۔ صورت حال کشیدہ رہے گی تو ایسا نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے علاوہ سماج کے باشعور اور سلجھے ہوئے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر پر نظررکھیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ امن کمیٹی کی میٹنگ میں عالم گنج اور سلطان گنج سے تعلق رکھنے والے سماج کے ہر طبقے کے لوگوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں موجود دونوں فرقے کے لوگوں نے عالم گنج میں ہوئے تشدد کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالم گنج اور گائے گھاٹ کا علاقہ پورے پٹنہ کے لئے مثال مانا جاتا ہے لیکن یہاں سے اس طرح کا واقعہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
وہیں پھلواری شریف کے رانی پور گاؤں میں سوموار کی دیر شب بھگوان بھاسکر کی مورتی وسرجن کے دوران نشے میں دھت نوجوانوں نے گھرمیں گھس کر لوٹ پاٹ کی اور نقد سمیت اہم کاغذات لے کر فرار ہوگئے۔ رانی پور کے سنجیت کمار کے گھر کی کھڑکی کے چھجہ کی وجہ سے وسرجن گاڑی نہیں گزر پا رہی تھی اس بات کو لے کر وسرجن میں شامل دو نوجوانوں نے چھجہ کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس پر گھر کے مالک نے منا کیا تو ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ متاثر جب معاملہ درج کرانے تھانہ پہنچے تو پولس نے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا اور انہیں ویرن لوٹا دیا۔ اس متعلق گھر کے مالک سنجیت کمار کے چھوٹے بھائی منجیت کمار نے بتایا کہ وسرجن جلوس جیسے ہی میرے گھر کے نزدیک پہنچا تو گلی پتلی ہونے کی وجہ سے گاڑی رک گئی اسی درمیان دو نوجوان کھڑکی کے چھجہ پر چڑھ گئے اور اسے توڑنے لگے۔ میرے بھائی نے چھت سے دونوں نوجوانوں کی تصویر کھینچی تو وسرجن میں شامل لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ اسی درمیان 10 سے 15 نوجوان مین دروازے کی کنڈلی توڑ کر گھر میں داخل ہوگئے اور مار پیٹ کی۔ جس میں ہم لوگ زخمی ہوگئے۔ مورتی وسرجن میں شامل نشے میں دھت نوجوانوں نے 8 ہزار روپے نقد، اے ٹی ایم کارڈ، ڈی ایل و پین کارڈ سمیت کئی کاغذات لوٹ لیے۔ متاثر جب شکایت کرنے تھانہ پہنچے تو وہاں موجود افسر نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ نامعلوم لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ درخواست میں نام دو۔ اس کے بعد متاثرین نے ڈی جی پی سیل میں تحریری شکایت کی ہے۔ تھانہ انچارج رفیق الرحمن نے بتایا کہ یہ معاملہ ان کی نوٹس میں نہیں ہے۔ متاثرین اگر درخواست دیں گے تو ایف آئی آر درج ہوگی۔

Leave a Reply