حیدر آباد: (ملت ٹائمز) سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بور ڈ کے سکریٹری اور ترجمانی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے، وہ بہت تکلیف دہ اور ہماری توقعات کے برعکس ہیں، ہماری طرف سے جو دلائل وشواہد پیش کئے گئے، ان کی روشنی میں پوری امید تھی کہ فیصلہ ہمارے موقف کے مطابق ہوگا؛ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا؛ البتہ سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور ہندوستان کے ہر شہری کا قانونی فریضہ ہے کہ وہ اس کے فیصلے کو تسلیم کرے؛ اس لئے بورڈ شروع سے کہتا رہاہے کہ کورٹ کا جو فیصلہ ہوگا ، وہ اس کو تسلیم کریں گے، اب جب کہ فیصلہ ہو چکا ہے، بورڈ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے؛ لیکن غیر متوقع فیصلہ کے باوجود دو باتیں نہایت اہم ہیں، ایک یہ کہ کورٹ نے فرقہ پرستوں کے اس پروپیگنڈے کو رد کر دیا ہے کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی اور یہ داغ جو مسلمانوں کے دامنِ انصاف پر سنگھ پریوار کی طرف سے لگایا جاتا رہاہے، وہ دھل گیا، دوسرے بحیثیت مسلمان ہمارا فریضہ تھا کہ ہم ممکن حد تک مسجد کو بچانے کی کوشش کریں، مسلمانوں نے بورڈ کے واسطہ سے اس شرعی فریضہ کو ادا کیا، اور اب وہ عند اللہ جواب دہ نہیں ہیں، افسوس کہ اس نازک گھڑی میں بعض ناعاقبت اندیش مسلمانوں کی طرف سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ پہے ہی اس مسئلہ پر صلح کر لینی چاہئے تھی اور مقدموں کو یہاں تک نہیں لانا چاہئے تھا؛ لیکن ایسا سوچنا قطعاً درست نہیں ہے، اگر مسلمان صلح کر کے مسجد کو مندر کے لئے دے دیتے تو وہ عند اللہ جواب دہ ہوتے، اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ بحیثیت مسلمان ہم مسجد کو بچانے کی جو بھی امکانی کوشش کر سکتے تھے، ہم نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی، برخلاف کے کہ اگر صلح کر کے مسجد حوالے کر دیتے تو یہ اصولی طور پر سخت نقصان کی بات ہوتی، ہم اللہ کے پاس بھی پکڑے جاتے اور پھر آئندہ کسی بھی مسجد پر ہمارے اصرار کو قبول نہیں کیا جاتا، اور کہا جاتا کہ جب ایک مسجد کو آپ نے دے دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے مذہب میں مسجد کو مندر کے لئے دینے کی گنجائش ہے، انھوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوشش دینی جدوجہد کا ایک روشن باب ہے، اور اس نے جس مستعدی، حکمت عملی کے ساتھ مقدمہ کی پیروی کی وہ بے حد قابل تحسین ہے، انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کہ ہے کہ وہ امن وامان کو قائم رکھیں اگر دوسرے فریق کی طرف سے کوئی اشتعا ل انگیز بات ہو، تب بھی صبر وحکمت کا مظاہرہ کریں، دعاء کا اہتمام کریں اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ اگرچہ مقدمہ کا فیصلہ ان کے موقف کے خلاف ہوا ہے؛ لیکن ان کو اپنی طاقت بھر اللہ کے گھر کو بچانے کی کوشش کرنے کی توفیق میسر آئی، نہ ہم ڈرانے دھمکانے سے متا¿ثر ہوئے، نہ لالچ کے شکار ہوئے اور نہ مقدمہ کے کثیر اخراجات سے گھبرائے، مولانا رحمانی نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کی جائے؟ بورڈ نے ابھی اس پر غور نہیں کیا ہے، غوروفکر ، قانونی ماہرین سے مشورہ اور تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ہی اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

Leave a Reply