بھوپال: ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے بعد سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے ردعمل ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس کے رہنما دگوجے سنگھ نے بھی اس ضمن میں ٹویٹ کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن انہوں نے اس کے ساتھ یہ سوال بھی کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کو غیر قانونی عمل قرار دیا ہے، تو کیا اب مجرموں کو سزا دی جائے گی؟
کانگریس کے رہنما دگوجے سنگھ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’’رام جنم بھومی کے فیصلے کا ہم سب کے احترام کیا ہم مشکور ہیں۔ کانگریس نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہر تنازعہ کا حل صرف آئین کے قائم کردہ قوانین اور قواعد کے دائرہ کار میں ڈھونڈنا چاہئے۔ انہدام اور تشدد کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘
دگوجے نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا، ’’رام جنم بھومی فیصلے میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کے عمل کو غیر قانونی جرم قرار دیا ہے۔ کیا مجرموں کو سزا دی جائے گی؟ دیکھتے ہیں، 27 سال ہو گئے۔‘‘
माननीय उच्चतम न्यायालय ने राम जन्म भूमि फ़ैसले में बाबरी मस्जिद को तोड़ने के कृत्य को ग़ैर क़ानूनी अपराध माना है। क्या दोषियों को सज़ा मिल पायेगी? देखते हैं। २७ साल हो गये।
— Digvijaya Singh (@digvijaya_28) November 10, 2019
غورطلب ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز جو فیصلہ سنایا اس میں کہا گیا ہے کہ 1934 میں مسجد کو نقصان پہنچا نا، 1949 میں بے حرمتی کرنا اور 1992 میں مسجد کو منہدم کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسی پر اب دگوجے سنگھ نے سوال اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ہندو کارسیوکوں کے ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ اس معاملے میں بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی سمیت دیگر 13 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس معاملے میں چارج شیٹ دائر کر دی گئی ہے اور مقدمہ عدالت کے زیر غور ہے اور فیصلہ آنے والا ہے۔

Leave a Reply