دارالعلوم ندوۃ کو ضلع انتظامیہ نے دی تھی دھمکی، شدید دباؤ کی وجہ سے بورڈ کا اجلاس دوسری جگہ منتقل ہوا






لکھنو: (ملت ٹائمز) ایودھیا فیصلے کے بعد آج آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا اہم ہنگامی اجلاس ندوہ میں منعقد ہونے والا تھا لیکن انتظامیہ نے یہاں اجلاس منعقد کرنے سے روک دیا جس کے بعد مقام کو تبدیل کردیا گیا اور دوسرے مقام پر اجلاس منعقد ہوا۔

انتظامیہ کی جانب سے اختیار کئے گئے رویے پر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اجلاس کو منعقد نہ کرنے کےلیے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی اور دیگر ذمہ داران کو ڈرایا اور دھمکایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ضلع انتظامیہ نے باضابطہ ندوۃ کے ذمہ داروں کو دھمکایا اور کہا گیا کہ اگر اجلاس یہاں منعقد ہوتا ہے تو اس کے نتائج ندوۃ کے خلاف ہوں گے’۔ قبل ازیں ظفریاب جیلانی نے آج مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ میں لئے گئے فیصلہ سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ’ ہم عدالت کے فیصلہ خلاف نظرثانی کی درخواست داخل کریں گے اور فیصلہ میں جو غلطیاں نظر آرہی ہیں ہم اس کی نشاندہی کریں گے اور خامیوں کو معزز ججوں کے سامنے رکھیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ نظرثانی کی درخواست کے بعد ہمیں قوی امید ہے کہ معزز ججس غلطیوں کی نشاندہی پر مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے اور ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے گا’۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *