پٹنہ: (ملت ٹائمز) آل انڈیا ملی کاؤنسل کے قومی نائب صدر و ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن پھلواری شریف پٹنہ کے چیئرمین حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل ۲۰۱۹ء کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ سٹیزن شپ امینڈ بل ۲۰۱۹ء جس کو بی جے پی حکومت اسی سرمائی اجلاس میں پاس کرانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور جو لوک سبھا میں ٹیبل ہو چکا ہے ، اور بی جے پی کے اس سرمائی اجلاس کے اہم ایجنڈ ے میں شامل ہے ، یہ بل سراسر آئین ہند ، جمہوریت اور سیکولرزم کی روح کے منافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بنیاد مذہبی رواداری ، مساوات اور سبھی مذاہب کے احترام پر ہے، ایسے ملک میں کسی ایسے قانون کا پاس ہو نا جس کی بنیاد مذہبی تفریق پر ہو اور جہاں ایک خاص مذہب کو ٹارگیٹ بنایا گیا ہو ، قطعی مناسب نہیں ہے ، اور اس ملک کی سیکولر عوام کو کبھی یہ قبول نہیں ہو سکتا ہے ۔مولانا موصوف نے تمام سیکولر پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اس بل کی پرز ور مخالفت کریں اور اس ملک کو مذہبی تاناشاہی کی طرف جانیں سے بچائیں ۔ آئین پر یقین اور بھروسہ کرنے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کا تحفظ کرے ، سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ملک کے ایوانوں میں وہی آئین و دستور ہند کے محافظ ہیں۔ ایوان کو آئین کا مندر کہا جاتا ہے ، اس لیے آئین کے مندر میں ہی آئین کا خون ہونے سے بچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جس نے آئین کے تحفظ اور اس ملک کے سیکولر شبیہ کی حفاظت کرنے کا حلف لیا ہے۔
مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے امت شاہ کے پارلیامنٹ میں دیے گئے حالیہ بیان اور اس سے پہلے کولکاتا کے بھاشن اور انٹرویو وغیرہ میں دیے گئے بیان کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ امت شاہ اور بی جے پی اس ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے ۔ایسا اس ملک کے سیکولر اور جمہوریت پریقین رکھنے والے لوگ ہونے نہیں دیں گے اور امت شاہ اپنے منصوبے میں ناکام ہو جائیں گے ۔
واضح ہوکہ امت شاہ نے اپنے کئی بیانوں میں کہا ہے کہ پہلے سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل لایا جائے گا اور اس کے ذریعہ سبھی ہندو، سکھ، جین، بودھ،پارسی اور کرشچن کو ہندوستانی شہریت دے دی جائے گی اور اس کے بعد این آر سی لا کر ایک ایک گھس پیٹھئے کو ملک سے نکالا جائے گا۔واضح ہو کہ سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل کا جو مسودہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق پاکستان ، بنگلہ دیش اورافغانستان سے آئے ہوئے سبھی ہندو، سکھ ، جین، بودھ، پارسی اور کرشچن کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ، اور ا س کے لیے انہیں کسی بھی دستاویز یا کاغذات کی ضرورت نہیں ہوگی ۔اس مسودہ میں جان بوجھ کر مسلمانوں کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ہنددو ووٹ بینک کو مضبوط کیا جاسکے ، اس بل کو لا کر بی جے پی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے اور ہندو کارڈ کھیلنا چاہتی ہے ، در اصل بی جے پی کا ہمیشہ سے یہ ایجنڈ ا رہا ہے کہ اس ملک میں مذہبی منافرت کو بڑھاوا دیا جائے ، اور ملک کو ہندو مسلم کے معاملہ میں الجھا کر رکھا جائے ، ایسی سیاست بی جے پی کو ہمیشہ سوٹ کرتی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ سٹیزن شپ امنڈ منٹ بل کے ذریعہ بی جے پی اپنا ہندو ووٹ بینک بڑھانا چاہتی ہے اور این آر سی لا کر صرف مسلمانوںکو پریشان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
لیکن یہ رجحان ملک کی سالمیت اور امن و سلامتی کے لیے بہت خطرناک ہے ۔اس لیے مذہبی منافرت سے بھرے اس بل کا پاس ہونا سیکولر اور جمہوری ہندوستان کے لیے خطرناک ہے، اور اس کی مخالفت بہت ضروری ہے ۔

Leave a Reply