ممبئی: ملک بھر میں زنا بالجبر کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انصاف پسندوں کے ساتھ جمہوری ملک کے سر کوبھی شرم سے جھکا دیا ہے ملکی سطح پر خواتین کے عدم تحفظ پر تشویش کا اظہار کھل کر کیا جارہا ہےتلنگانہ کی 27سالہ ڈاکٹر پرینکا ریڈی کو جس وحشیانہ طریقے سے ایک منظم پلاننگ کے تحت زنا بالجبر وبےرحمانہ طریقہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا ہےآج پوری دنیا میں مظلومہ کو انصاف دینے کی مانگ کی جارہی ہے اس سلسلے میں ممبئی کی مشہور تنظیم رضا اکیڈمی نے دیگر مسلم تنظیموں کے اشتراک سے آج بعد نماز عصر مینارہ مسجد ممبئی کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں لوگوں نے تختیاں ہاتھوں میں لیکر قاتلوں کے پھانسی کی مانگ کی مذکورہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے چئیرمن قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر پرنیکا ریڈی ہمارے ملک کی مستقل تھی جس کو درندوں نے اپنی ہوس کا شکار بناتے ہوئے ہمیشہ کیلئے ہم سے چھین لیا جس پر پورا ملک رنجیدہ ہے لہذا جن شیطانوں نے اس طرح کی درندگی کی ہے انہیں فوری طور پر فاسٹ ٹریک کورٹ میں پیش کرتے ہوئے سرعام پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے آپ نے مزید کہا کہ ملک میں قانون تو بنائے جاتے تھے ۔مگر سیاسی مفاد کیلئے صحیح طریقہ سے نفاذ نہ ہونے پر سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ریپ جیسے گھناؤنے کام کرنے کے باوجود بھی چھوٹ جاتے ہیں جس سے حوصلہ پاکر بلتکاری کھلے عام بچیوں کی عزت کو پامال کرتے ہیں۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ہند اس معاملے پر کوئ ایسا مضبوط قانون لائے کہ دوبارہ پھر اس طرح کی حرکت انجام دینے سے پہلے جنونی سوبار سوچے ملی ملکی سطح پر ہمیشہ حقوق نسواں کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم رول ادا کرنے والے نوری صاحب نے کہا کہآج پورا ملک ڈاکٹر پرنیکا ریڈی کے ساتھ کھڑا ہے وہ صرف اپنے ماں باپ کی نہیں پورے ملک کی بیٹی ہے لہذا جب تک متوفیہ پرنیکا کے اہل خانہ کو انصاف نہیں مل جاتا ہم صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے رضا اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری محمد سعید نوری صاحب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک طبقہ اس ریپ کیس کوبھی ہندو مسلم رنگ دینے کی ناپاک کوشش کررہا ہے جس میں چند تعصبانہ ذہنیت کے میڈیا والے بھی ہیں جو اس معاملے کو یکطرفہ بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ بیٹی صرف بیٹی ہوتی ہے چاہے وہ ہندو کی ہو عیسائی کی ہو یا مسلم کی اسے صرف بیٹی کی نظر سے دیکھنی چاہیے لہذا وہ لوگ جو اس کیس میں ملوث ایک مسلم شخص کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تمام مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ لہذا ظالم کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اسے بس صرف مجرم کی حیثیت سے سزا دی جائے۔ شہزادہ اشرف العلماء پیرطریقت حضرت مولانا سید خالد اشرف صاحب صدر سنی دارالعلوم محمدیہ ممبئی کہا کہ آج پرنیکا ریڈی کے دردناک قتل پر پورا ملک سوگوار ہے جگہ جگہ مظاہرے جاری ہیں مگر اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے ایسا کوئ اشارہ نہیں ملا ہے کہ ظالموں کو کڑی سے کڑی سزا ملے گی یہی وجہ ہے کہ اب پرنیکا معاملہ میں ہورے احتجاج میں شدت پیدا ہوتی جارہی ہے لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ جن درندوں نے اس طرح کی حرکت انجام دی ہے فوری طور پر پھانسی کی سزا سنائی جائے آپ نے مزید کہا کہ آج اگر خواتین کی عزت کو محفوظ رکھنا ہے تو عصمت دری معاملہ پر صرف شرعی قانون کا نفاذ عمل میں لادیا جائے پھر دیکھیں کس طرح سے ماں بہنوں کی عزت سلامت رہتی ہے لہذا حکومت ہند اس مسئلہ پر سخت طریقے سے غور وفکر کرے بنارس سے تشریف لائے رضا اکیڈمی مغل سرائے ومرزا پور کے صدر حضرت مولانا انصار الحق رضوی نے اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم کا یہ نعرہ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ صرف ایک سیاسی نعرہ تھا بقیہ کچھ نہیں خواتین کے تحفظ میں مرکزی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے آئے دن خواتین کی عزت درندے پامال کررہے ہیں حکومتیں صرف سیاسی بازیگری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند جملے ہمدردی کا بول کر خاموش ہو جاتی ہیں لہذا تمام مسلم تنظیموں کا مطالبہ ہےکہ خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ ممبئ کے نامور عالم دین حضرت مولانا امان اللہ رضا قباء مسجد بائیکلہ نے کہا کہ مودی حکومت نے خواتین کو با اختیار بنانے کا اعلان کیا تھا جو صرف ہر الیکشن کے موقع تک رہتا ہے جہاں الیکشن کے نتائج ان کے حق میں آئے خواتین کہاں ہیں کوئ پرسان حال نہیں لہذا ریپ کیس کے بڑھتے واقعات اور مرکزی حکومت کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ بچیوں کو خود ان کی حفاظت کے لیے لائسنس بندوق یا کمر بند ہتھیار دیے جائیں جس سے وہ خود اپنی حفاظت کرسکیں آل انڈیا مساجد کونسل کے صدر مولانا محمد عباس رضوی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر پرنیکا کے اہل خانہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں پورا ملک خصوصاً سنی مسلم تنظیمیں آپ کے ساتھ کھڑی ہیں ہم پرنیکا کے ایک ایک قطرہ خون کے بدلے انصاف لیں گے شہزادہ سراج ملت حضرت سید سبحانی میاں انجمن برکات رضا نے کہا کہ پرنیکا ریڈی ایک باصلاحیت ڈاکٹر تھی جو خدمت خلق کے پیشے سے وابستہ تھی مگر درندوں نے تمام حدیں پار کر تے ہوئے ریپ کے بعد زندہ جلادیا ضرورت ہے کہ اس میں جتنے بھی شامل ہیں انہیں بھی بیچ سڑک پر لاکر اسی طرح سے زندہ جلادینا چاہئےتاکہ پھر کوئ شیطان ایسی حرکت نہ کرسکے مسلم کونسل کے سربراہ الحاج محمد ابراہیم طائ نے کہا کہ آج پھرایک آصفہ ایک ٹوئنکل درندوں کے ہاتھوں جل کر راکھ ہوگئ آخر کب تک ملک کی بیٹیاں اس طرح سے ہوس کی شکار بنتی رہیں گی اور لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے رہیں گے آج ملک کو ایک مضبوط قانون کی ضرورت ہے تاکہ ایسے شیطانوں کو کھلے عام لاکھوں افراد کے سامنے پھانسی کی سزا دی جائےاس احتجاج میں دیگر تنظیموں کے سرکردہ افراد بھی شامل تھے اور پھانسی کا مطالبہ کر رہے تھے اس احتجاج میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہاتھوں میں پلے کارڈز لئے تھےجس میں لکھا تھا کہ پرنیکا کو انصاف دو قاتلوں کو پھانسی دو پرنیکا ہمارے ملک کی بیٹی ہے جیسے نعرے درج تھےشرکاء احتجاج میں قاری عبد الرحمٰن ضیائی محمد علی رضوی مظہر اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن آصف بھائی سردار شاکر بھائی پنجابی آصف بھائی منصوری انجمن برکات رضا ناظم بھائی رضوی حاجی جاوید برکاتی ابراہیم رضا دادا بھائی حافظ صاحب عالم بنارس مزمل ہمدانی دیگر شریک تھے۔

Leave a Reply