نئی دہلی: (ملت ٹائمز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پولس کی فائرنگ اور بربریت کے خلاف دیر رات ہوجانے کے باجود سیکڑوں طلبہ وطالبات اور سماجی کارکنان آئی ٹی او پر واقع دہلی پولس ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس احتجا ج میں اپنے دفتر سے نکل کر جمعیت علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھی شرکت کی کوشش کی تاہم انہیں مظاہرین واپس بھیج دیا اور کہاکہ آئین کے تحفظ کی لڑائی ہے ۔آپ کے آنے سے مسئلہ ہندو بنام مسلم بن جائے گا ۔ مولانا محمود مدنی کا دفتر پولس ہیڈ کوارٹر سے متصل ہے اس لئے انہوں نے پہلی مرتبہ طلبہ کے احتحاج میں شرکت کی کوشش کی تاہم انہیں واپس بھیج دیاگیا ۔
واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹوڈینٹس پر آج پولس نے قہر ڈھایا۔ متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف احتجاج کررہے طلبہ پر پہلے پیرا ملٹری فوج نے آنسو گیس کا استعما ل کیا۔اس کے بعد لاٹھی چارج کرکے طلبہ کو مارنا شروع کردیا ۔اس دوران پولس نے فائرنگ بھی شروع کردی ۔ پولس کی فائرنگ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم محمد شاکر کی موت ہوگئی ہے جبکہ درجنوں طلبہ شدید زخمی ہیں وہیںاس کے علاوہ ایک اور طالبہ عائشہ کی حالت بہت نازک بتائی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پولس نے اندھا دھند فائرنگ کی جس میں تقریبا پچاس سے زائد طلبہ کو گولی لگی ہے ،کئی طلبہ کے سینے پر گولی لگی ہے ، راجستھان کے کوٹہ سے تعلق رکھنے والے شاکر کی موت ہوچکی ہے اور عائشہ کی حالت بہت زیادہ نازک ہے ۔ آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی وجہ سے تقریبا تین سو طلبہ شدید زخمی ہیں ۔ ملت ٹائمز کو ملی اطلاع کے مطابق سبھی زخمی طلبہ صفدر جنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف طلبہ وطالبات پر امن احتجاج کرررہے تھے جن پر پولس نے پہلے آنس گیس کا استعمال کیا اس کے بعد کیمپس میں داخل کر ہوکر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا ۔ تقریباتین سو آنسوگیس کے گولے داغے گئے ، لاٹھی چارج کی گئی طلبہ نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولس نے بھاگنے بھی نہیں دیا اور ان کی اندھا دھند پٹائی کی ۔ کچھ طلبہ نے لائبریری اور مسجد میں پنا لینے کی کوشش کی لیکن پولس وہاں بھی جاپہونچی ۔ملت ٹائمز کے نمائندہ منورعالم وہاں موجود تھے جنہوں نے دیکھا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں داخل ہوکر طلبہ او روہاں موجود مصلیوں کی پٹائی کی مسجد کے امام پر بھی پولس نے حملہ کیا ،لاٹھی چارج کیا جس میں مسجد کی گھڑی ، اوقات صلوة اور دیگر کئی طرح کے سامان کو بھی نقصان پہونچا ہے ۔ پولس نے جامعہ کی لائبری میں بھی داخل ہوکر طلبہ پر ظالمانہ حملہ کیا ۔
جامعہ کے طلبہ پر حملہ کے بعد ملک بھر میں پولس کے خلاف احتجاج شروع ہوگیاہے ۔ دہلی میں آئی ٹی او پرواقع دہلی پولس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے دیر رات تک عوام احتجاج کررہے ہیں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں بھی طلبہ مسلسل سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ دہلی پولس کی بربریت کے خلاف ندوة العلماءمیں بھی طلبہ نے احتجاج شروع کردیاہے ۔
متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ مسلسل کئی دنوں سے احتجاج کررہے تھے ۔ آج بھی وہ کیمپس میں پرامن احتجاج کررہے تھے ۔ اس احتجاج میں علاقے کی عوام بھی شریک ہوگئی اور انہوں متھرا روڈ کو جام کردیا جس کے بعد پولس نے احتجاج کررہے تمام طلبہ اور عوام پر قہر برسانا شروع کردیا۔ دو زائد سرکاری بس کو ندر آتش کردیاگیاہے ۔ بٹلہ ہاﺅس کی پولس چوکی بھی جلادی گئی ہے ۔ بس کو نذر آتش عوام نے کیا ہے یا خود پولس نے کیا یہ اب تک صاف نہیں ہوسکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں دیکھاجارہاہے کہ پولس بس کو آگ لگارہی ہے ۔ اوکھلا میں جگہ جگہ پولس تعینات ہے ۔ حالات فی الحال یہاں قابو میں ہے ۔

Leave a Reply