پولس نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں، شہریت ایکٹ کے خلاف لڑائی میں اپنے طلبہ کے ساتھ ہوں : جامعہ وائس چانسلر






نئی دہلی: (ملت ٹائمز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر پولس کی بربریت کو شرمناک بتاتے ہوئے کہاکہ میں اپنے طلبہ کے ساتھ ہوں ،پولس نے جو کچھ کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔

یونیورسٹی کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے اس پورے واقعہ کے بعد طلبا کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”یہ تنہا طلباءکی لڑائی نہیں ہے، میں ان کے ساتھ ہوں۔“ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے طلبا کے ساتھ برتاو کیا گیا ہے، اس سے وہ بہت مایوس ہیں۔وائس چانسلر نجمہ اختر کا اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ اس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ”جس طریقے سے میرے طلبا کے ساتھ پیش آیا گیا ہے، اس سے میں غمزدہ ہوں۔ میں میرے طلباءکو بتانا چاہتی ہوں کہ اس لڑائی میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اس معاملے کو جہاں تک ہوگا، آگے لے کر جاوں گی۔“

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف طلبہ وطالبات پر امن احتجاج کرررہے تھے جن پر پولس نے پہلے آنس گیس کا استعمال کیا اس کے بعد کیمپس میں داخل کر ہوکر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا ۔ تقریباتین سو آنسوگیس کے گولے داغے گئے ، لاٹھی چارج کی گئی طلبہ نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولس نے بھاگنے بھی نہیں دیا اور ان کی اندھا دھند پٹائی کی ۔ کچھ طلبہ نے لائبریری اور مسجد میں پنا لینے کی کوشش کی لیکن پولس وہاں بھی جاپہونچی ۔ملت ٹائمز کے نمائندہ منورعالم وہاں موجود تھے جنہوں نے دیکھا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں داخل ہوکر طلبہ او روہاں موجود مصلیوں کی پٹائی کی مسجد کے امام پر بھی پولس نے حملہ کیا ،لاٹھی چارج کیا جس میں مسجد کی گھڑی ، اوقات صلوة اور دیگر کئی طرح کے سامان کو بھی نقصان پہونچا ہے ۔ پولس نے جامعہ کی لائبری میں بھی داخل ہوکر طلبہ پر ظالمانہ حملہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق دو طالب علم کی موت ہوچکی ہے ایک شاکر اوردوسرے عائشہ جبکہ درجنوں طلبہ شدید زخمی ہیں ۔ بیس سے زائد طلبہ کو پولس نے تھانے میں بند کررکھا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *