مؤناتھ بھنجن: (مظفر الاسلام) ہندوستان کے ایوان زیریں (لوک سبھا)میں ملک کے وزیرداخلہ امت شاہ کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو پیش کیے جانے اورملک کے صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے منتازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری دیے جانے کے بعد پورے ملک میں اس بل کی مخالفت میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے۔آسام سے لے کر دہلی،آگرہ اور اس جیسے بہت سے شہر اس متنازع بل کی آگ میں جلنے لگے جس سے ملک کا امن و امان برقرار نہ رہ سکا اور جگہ جگہ مظاہرین CABاور NRC کے خلاف کھل کرسامنے آنا شروع ہوگئے اور اس بل کو انسانیت کو مجروح کرنے والی بل قراردیتے ہوئے حکومت کی تاناشاہی کے خلاف آواز اٹھانی شروع کردی ۔
گزشتہ دنوں مذکورہ بل کی مخالفت میں جامعہ ملیہ دہلی میں طلباء وطالبات کی جانب سے پرزور مظاہرہ کیاگیا جس کے بعد پولیس انتظامیہ کی جانب سے ان پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس کے گولے پھینکتے ہوئے انھیں کھدیڑنے کی کوشش کی گئی،پولیس کی درندگی اور حکومت کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے طلباء میں سخت اشتعال تھا جس کے بعد گزشتہ روز وہاں پھر سے مظاہرہ شروع ہوگیاجس کے بعد پولیس انتظامیہ نے بے لگا م ہوکر کئی طلباء پر گولیاں چلادیں جس میں کئی لوگ شدیدطورپر زخمی ہوگئے،وہیں کچھ لوگوں کے مرنے کی بھی اطلاع موصول ہونے لگی،پولیس کے ذریعہ اسی پر بس نہ کرتے ہوئے یونیورسٹی میں داخل ہوکر طلبہ و طالبات پر تشدد کیا گیا اور یونیورسٹی کے باتھ روم اورلائبریری،گرلس ہاسٹل میں گھس کر زبردست توڑ پھوڑ کی گئی اور طلبہ و طالبات کو زدوکوب کیاگیا۔ اسی دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی طلباء و طالبات کے اوپر پولیس نے حملہ کردیا اور گرلس ہاسٹل میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی ساتھ ہی ہاسٹل میں گھس کر کمروں میں آگ لگادی،یہ ساری خبریں مؤ کے بہت سے طلبہ و طالبات جو وہاں زیرتعلیم ہیں ان سے موصول ہوئی تو لوگ مشتعل ہوگئے اور سخت برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد رات میں ہی ماحول کافی کشیدہ ہوگیا تھا لیکن لوگ اس لیے خاموش تھے کہ شہر کے سیاسی لیڈران و مذہبی دانشوران اس سلسلے میں کچھ کہیں گے اور مظاہرہ کرنے کی بابت منظم حکمت عملی تیار کریں گے لیکن ان کی خاموشی کسی بھی طور ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی جس کے بعد شہر کے کچھ نوجوانو ں کے ذریعہ انھیں لفافہ میں ایک خط کے ساتھ چوڑیاں رکھ کربھیج دی گئیں اور ان کی خاموشی پر سخت احتجاج کیاگیا،اس کے بعد بھی ان کی خاموشی نہیں ٹوٹی جس کے بعد مؤ کے عوام پولیس اور حکومت کی ان ساریg ناانصافیوں کو دیکھتے ہوئے مشتعل ہوگئے اوراگلے روزدوپہر قریب 2بجے شہر کے کچھ نوجوان صدر چوک پر جمع ہوگئے اور CABو NRCکے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرہ کرنے لگے۔مظاہرہ کی خبر واٹس ایپ و فیس بک کیذریعہ لوگوں تک پہنچتے ہی لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں مظاہرین کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی،مظاہرہ کی خبر ملتے ہی موقع پر پولیس بھی پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کرنے کے لیے انھیں سمجھانے بجھانے کی کوششیں کرنے لگی۔ادھر حالات کو قابو میں کرنے کی کوششیں جاری تھیں کہ شہر کے مرزاہادی پورہ میں مظاہرے شروع ہوگئے اور عوام کے ایک جم غفیر نے حکومت کی تاناشاہی اور ملک کے وزیرداخلہ امت شاہ،وزیراعظم نریندر مودی اورریاست کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے متنازع بل کو واپس لینے کا حکومت سے مطالبہ شروع کردیا۔مذکورہ مظاہرین نعرے لگاتے ہوئے مرزاہادی پورہ چوک سے صدر چوک کی طرف روانہ ہوئے اور اورنگ آباد ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ صدر چوک کی جانب سے آرہے مظاہرین بھی ان میں شامل ہوگئے جس کے بعد ان کے مظاہروں میں کافی جوش پیدا ہوگیا۔
اچانک ہوئے اس مظاہرہ سے جہاں شہر میں جام لگ گیا وہیں مختلف کاموں سے گھروں سے نکلے ہوئے مردخواتین اور بچوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،وہیں کسی حادثہ کے خوف سے شہر کی دوکانیں بھی بند ہونا شروع ہوگئیں۔ موقع پر پہنچی پولیس مظاہرین کوg سمجھانے بجھانے کی کوششیں کرنے لگی۔موقع پر سی او سٹی، ایس پی اور دیگر اعلی افسران بھی پہنچ گئے ساتھ ہی کثیر تعداد میں پولیس فورس بھی تعینات کردی گئیجس کے بعد حالات کو قابو میں کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں۔وہیں شام قریب 5بجے اچانک کچھ لوگوں نے مرزاہادی پورہ میں نعرہ بازی شروع کردی اور وہاں پہنچی پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد پولیس کے ذریعہ لاٹھی چارج کردی گئی،جس سے مشتعل لوگوں کے ذریعہ تھانہ دکھن ٹولہ پر پتھراؤ کیا جانے لگا وہیں موقع سے گزررہی دو سرکاری بسوں کو روک اس کے شیشے بھی توڑ دیے گئے جس سے حالات کشیدہ ہوگئے،بسوں میں سوار مسافروں میں سے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔مظاہرین کے اشتعال اور پتھراؤ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے گولے پھینکنے شروع کردیے گئے جس سے موقع پرافراتفری مچ گئی،وہیں کچھ لوگوں کے ذریعہ موقع پر موجود کچھ صحافیوں کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا،جس کے بعد پولیس انتظامیہ بھی مشتعل ہوگئی اور مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے ہوئے آنسوگیس کے گولے چھوڑنے شروع کردیے۔حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر ایس پی، سی او سٹی و دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔وہیں پولیس کے ذریعہ بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پراس پر قابو پانے کے لیے شام قریب 7بجے شہر میں کرفیونافذ کردیا گیا اور حساس ترین علاقوں میں فورس تعینات کردی گئی۔جس کے بعد شہر کے سبھی محلوں میں ہنگامی حالت پیدا ہوگئی۔کرفیونافذ ہونے کی اطلاع ملتے ہی شہرمیں دوکانوں پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی اور لوگ کسی انہونی کے ڈر سے خریداریوں میں مصروف ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سبھی غلہ دوکانوں سے سامان فروخت ہوگئے۔حالانکہ شہر میں نافذ ہوا کرفیوکو کچھ ہی دیر میں ہٹادیا گیا اور باقاعدہ دفعہ 144نافذ کردی گئی لیکن پھر بھی لوگوں کے اندرڈر اور غصہ کے ملے جلے اثرات پائے گئے اور لوگ جگہ جگہ گلیوں،محلوں میں کھڑے ہوکر مذکورہ حالات پر تبادلہئ خیالات کرتے ہوئے نظر آئے اورمظاہرہ میں شامل ان شرپسندوں کوکوستے ہوئے شہر کے بگڑے ہوئے حالات کا ذمہ دار قرار دیا۔کچھ لوگوں کے ذریعہ یہ بھی بتایا گیا کہ بسوں کو توڑنے،پتھراؤ کرنے والے اور گاڑیوں کو جلانے والے مظاہرین شہر کے نہیں تھے اور نہ ہی کوئی انھیں پہچانتا تھا،موقع پر انھیں اس سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور بس کے شیشے کو توڑ نے لگے۔بتایاگیا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے منہ سے شراب کی بو بھی آرہی تھی جس سے ہمیں شبہ ہے کہ وہ لوگ شہر میں فساد پیدا کرنے کی نیت سے ہی آئے تھے اور کسی طرح مظاہرہ میں شامل ہوگئے اور پتھراؤ شروع کردیا جس سے شہر کے حالات انتہائی خراب ہوگئے۔
پولیس کے ذریعہ حالات پر پوری طرح قابو پاتے ہوئے شہر میں پولیس فورس کو تعینات کردی گئی ہے۔وہیں پولیس کی گاڑیاں مسلسل گشت کررہی ہیں۔حادثہ میں کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔شہر کے اعلی افسران کے ذریعہ حالات معمول پر لانے کی کوششیں کی جاری تھیں،لوگ اپنے اپنے گھروں اور محلوں تک ہی محدود ہوگئے تھے۔خبر لکھے جانے تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی اور شہر کے حالات بھی پوری طرح قابو میں تھے۔

Leave a Reply