نئی دہلی: (ملت ٹائمز) جمہوریت میں مساوات ، انصاف آزادی اور تحفظ سب سے اہم ہے ،سبھی کو یکساں مقام حاصل ہوتا ہے۔ اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی تاہم ہندوستان کی موجودہ جس طرح نظام چلارہی ہے اور جو کچھ کررہی ہے وہ جمہوریت کے خلاف اور آئین کے متصادم ہے۔ جمہوریت کی اصل انسانی وقار ، عزت، خو مختاری اوربنیادی حقوق کا تحفظ ہے تاہم موجود ہ سرکار میں ایسے تمام جمہوری حقوق پر خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹر ی ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا۔
انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں احتجاج بنیادی حق ہے۔ حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنا حق حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے لیکن سرکار اس پر قدغن لگارہی ہے۔ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعما ل کررہی ہے جو جمہوریت کے بجائے آمریت کی علامت ہے۔ آج تقریبا دیش کے ہر حصے میں احتجاج ہواہے۔ لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر اتر کر اس قانون کی مذمت کی ہے۔ اسے آئین اور دستور کے خلاف بتایا ہے۔ وہ یہ قانون ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج پر توجہ دے۔لاکھوں اور کڑروں لوگوں کے جذبات کا خیال رکھے ، جمہوریت عوام سے بنتی ہے اگر عوام کی آواز کو جمہوریت میں اہمیت نہیں دی جائے گی تو پھر وہ جمہوریت بے معنی اور بے مطلب ہے۔مظاہرین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں۔ پرامن احتجاج کو ہی یقین بنائیں۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اردو اور ہندی اخبارات میں شائع اشتہار کے بارے میں کہاکہ مودی سرکارکا کوئی بھی وعدہ او رعمل ماضی میں ایسا مسلمانوں کا ساتھ نہیں رہاہے جس کی بنیاد پر ان کی باتوں پر بھروسہ کیا جائے او ر کسی طر ح کی یقین دہانی پر عمل کیا جائے۔ یہ ساری کوشش احتجاج کو دبانے کی ہے لیکن احتجاج کی یہ چنگاری اب شعلہ میں تبدیل ہوگی اور ہندو، مسلمان، سکھ عیسائی سبھی شہری اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک سرکار یہ ہندوستان کے آئین کے خلاف اس قانون کو واپس نہیں لیتی ہے۔

Leave a Reply