شہریت ترمیمی ایکٹ میں مسلمانوں کو بھی شامل کیا جائے۔ بی جے پی اتحادی اکالی دل کا مطالبہ






چنڈی گڑھ: (ایم این این) شریومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کے جمہوری اور سیکولر اصولوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو بھی شہریت
ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) میں شامل کیا جانا چاہیئے ۔
بی جے پی کی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے ایک پریس بیان میں کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان کے مسلمانوں کو شہریت ترمیمی قانون سے باہر نہیں کیا جانا چاہیئے۔بادل نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ واضح کر دیا تھا شہریت ترمیمی قانون سے مسلمانوں کو باہر نہیں رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، جمہوری اور سیکولر اصولوں کے ساتھ گرو صاحبان کے پیغام کو دھیان میں رکھتے ہوئے مسلمانوں کو سی اے اے سے باہر نہیں کیا جانا چاہیئے۔یاد رہے کہ شرومنی اکالی دل بی جے پی کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا ایک حصہ ہے اور اس نے پارلیمنٹ میں شہریت (ترمیمی) بل (سی اے بی) کی حمایت کی تھی لیکن مذکورہ قانون سے مسلمانوں کو نکالنے پرسوال اٹھایا تھا۔بیان کے مطابق بادل کو مسلم طبقے کے وفد کی طرف سے ایک میمورنڈم دیا گیا ہے جس میں سی اے اے میں مسلمانوں کو شامل کرنے کے ان کے موقف کی تعریف کی گئی ہے۔9 دسمبر کو پارلیمنٹ میں سی اے بی سے متعلق بحث کے دوران ، بادل نے تجویز پیش کی تھی کہ جو مسلمان ظلم کے شکار ہیں انہیں بھی اس قانون میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم مسلمانوں کے نام کیوں شامل نہیں کرتے ہیں؟ ان کے مذہب کے اندر مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جانے کے واقعات ہیں، میں آپ کو پنجاب میں احمدیہ برادری کی مثال پیش کروں گا۔ قادیان ان کا صدر مقام ہے۔ وہ پاکستان میں اقلیتی مسلمان ہیں ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *