بی جے پی کی ماتحت ریاستوں میں پولیس کی زیادتیوں کو روکنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل






نئی دہلی: ملک کے کونے کونے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں عوام کی شرکت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس غیر آئینی قانون کے خلاف عوام مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج اور مخالفت درج کر رہے ہیں۔ دیکھا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر کر مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں اور ان کے لیڈران لا اینڈ آرڈر کو بنائے رکھنے میں حکام کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کر رہے ہیں۔ چنانچہ بی جے پی کی ماتحت چند ریاستوں کو چھوڑ کر تمام ریاستوں میں انتہائی پُرامن و جمہوری طریقے سے احتجاج ہو رہے ہیں۔ ان احتجاجات کو تشدّد کا رخ دینے کی ذمہ دار صرف متعلقہ ریاستی حکومتیں ہیں، کیونکہ کسی بھی غیر بی جے پی ریاست سے کسی ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ملی ہے، حالانکہ وہاں بھی احتجاجات کی نوعیّت بڑی پُرزور اور مضبوط رہی ہے۔

مختلف بی جے پی کی ماتحت ریاستوں سے آنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پولیس کی بربرّت کا استعمال کرکے پُرامن احتجاجات کو دبانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں دہشت کا ماحول ہے، کرفیو لگایا گیا ہے، چھاپے ماری ہو رہی ہے اور مقامی لیڈران و سماجی کارکنان کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ پولیس آر ایس ایس- بی جے پی کے ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اشتعال انگیزی پھیلاتی ہے، بلاوجہ مظاہرین کو پیٹتی ہے حتیٰ کہ ہجوم پر اندھا دھند گولیاں برساتی ہے۔ جمہوری احتجاجات کو دبانے کا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کا متشدد نظریہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ وہ مودی-شاہ حکومت اور آر ایس ایس- بی جے پی قیادت کے فیصلوں کو نافذ کرنے میں لگی ہیں۔

قومی دارالحکومت میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، لیکن دیگر مختلف ریاستوں میں ہوئے کئی ظالمانہ واقعات کی حقیقت مواصلات بند ہونے کی وجہ سے میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پارہی ہے۔ اترپردیش، کرناٹک اور آسام جیسے صوبوں میں پولیس کے تشدد کی خبریں مختلف ذرائع سے آ رہی ہیں۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے کم از کم 12 اموات ہو چکی ہیں۔ ہمیں یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ میرٹھ میں کم از کم 9 اور کانپور میں 12 لوگ فائرنگ کی وجہ سے شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری طور پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کے انکار کے برخلاف، کئی مقامات سے ایسی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔ صرف بجنور میں تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میرٹھ میں 24 سماجی کارکنان کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں۔ اسی طرح لکھنؤ اور بنارس جیسے شہروں سے بھی پولیس کے ذریعہ دھر پکڑ اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی گرفتاری کی خبریں آ رہی ہیں۔یہاں دیگر مقامات کے برخلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں اب تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔ کچھ جگہوں پر ہندوتوا فرقہ پرست غنڈے بھی پولیس کے ساتھ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں اور اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اترپردیش کو ایک پولیسیا ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔

کرناٹک میں پولیس نے تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں منگلور کے اندر دو لوگوں کی موت ہو گئی اور کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ وہاں پولیس نے سیاسی انتقام کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو غیرقانونی ڈھنگ سے حراست میں لے لیا۔ آسام میں بھی مسلم سماج سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان اور لیڈران کو پولیس نے خاص طور سے نشانہ بنایا، جبکہ احتجاج میں قائدانہ رول آسام کی نسلی جماعتوں نے ادا نہیں کیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد کی دعوت پر دہلی میں جمعہ کے روز ہونے والا احتجاج پوری طرح سے پُرامن تھا، لیکن ایک درست اور جمہوری پکار لگانے کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا، جس طرح پہلے یوگیندر یادو، ڈی راجہ، پرشانت بھوشن وغیرہ جیسے لیڈران کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ہم بی جے پی کی مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ایسی تمام ظالمانہ کاروائیوں کی جو کہ غیرجمہوری، غیرقانونی اور غیرآئینی ہیں، مذمت کرتے ہیں۔ انہیں یاد ہونا چاہئے کہ شہری حقوق کے تحفظ کے لئے عوام کی اٹھتی آوازوں کو ایسی کاروائیوں سے ہرگز دبایا نہیں جا سکتا، کیونکہ یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے تفریقی ایجنڈے کے خلاف بلاتفریق پورے ملک کا ردّعمل ہے۔

ایسے حالات میں ہم درج ذیل مطالبات کرتے ہیں:

ایسے وقت میں جبکہ عوام کی بے چینی اور مخالفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، سپریم کورٹ اور متعلقہ سبھی ہائی کورٹ کو چاہئے کہ وہ تکنیکی و دفتری کاروائیوں کے پیچھے جانے کے بجائے، مؤثر اور فوری مداخلت کرتے ہوئے آپنے آئینی فریضے کو انجام دیں۔

بی جے پی کی مرکزی و ریاستی حکومتیں فوری طور پر پولیس کی زیادیتوں اور دیگر ظالمانہ کاروائیوں کو روکیں، تمام فرضی مقدمات کو واپس لیں، حراست میں لئے گئے تمام افراد کو رہا کریں اور سی اے اے و این آر سی کے خلاف ہونے والے جمہوری احتجاجات میں رکاوٹ ڈالنا بند کریں۔

دیر سے ہی سہی، بی جے پی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے اس نئے شہریت ترمیمی قانون کو ترک کرے اور ملک بھر میں این آر سی نافذ کرنے کے اپنے منصوبے کو واپس لے۔

آخر میں ہم تمام شہریوں اور صف اول میں رہ کر ان احتجاجات کی قیادت کرنے والی تمام سول سوسائٹی کی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ ان کا احتجاج پوری طرح سے پُرامن ہو اور خواہ جذبات یا دوسروں کی منصوبہ بند دخل اندازی کی وجہ سے وہ ہرگز تشدّد کا رخ اختیار نہ کرے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *