موتیہاری: ( ملت ٹائمز – فضل المبین ) بابائے قوم مہاتما گاندھی کے میدان عمل موتی ہاری میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف ایک بے نظیر احتجاجی جلوس کا انعقاد کیا گیا جس میں سبھی مذہب و برادری و مختلف تنظیموں و سیاسی جماعتوں کے تقریباً 3لاکھ لوگوں نے شرکت کی ۔
چمپارن کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اور دستور ہند کے تحفظ کے لئے اس احتجاج میں مشرقی چمپا رن کے ہر گوشے اور خطے سے لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت ہند سے اس نے قانون پر غور و فکر کرنے کی اپیل کی۔ یہ جلوس موتی ہاری ٹاون سے نکلا گیا جو کہ ہوم گارڈ میدان میں جاکر اکٹھا ہوئی ۔ وہیں انجمن اسلامیہ کے صدر پروفیسر نسیم احمد کی قیادت میں ایک وفد نے ڈی ایم رمن کمار سے ملاقات کر صدر جمہوریہ ہند و ملک کے وزیراعلی نیز وزیرداخلہ کے نام ایک میمورینڈم ارسال کیا ۔ جس میں کہا گیا کہ یہ قانون کسی ایک طبقہ کے ساتھ تعصب پر مبنی ہے ۔ جس سے ملک کے حالات کشیدہ ہیں ۔ لوگوں زبردست خوف و ہراس ہے ۔ لوگ بے چینی میں ہیں آپس میں لڑاؤ اورحکومت کروکی پالیسی پر رد عمل ہورہاہے، ملک کی معاشی صورت حال بدسے بدترہوچکی ہے، ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ حالات کو سمجھیں اور اس قانون کو ختم کر کے ملک میں امن و امان بحال رکھیں۔ اس احتجاجی جلوس کی خوبصورتی یہ رہی کہ یہاں پر امن ماحول میں احتجاج کیا گیا جس میں نوجوانوں نے اپنی تعداد دکھائی وہیں بزرگوں اور خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد تھی۔ احتجاج پر امن رہا، کسی طرح سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔ البتہ سڑکوں پر بھیڑ تھی لیکن راہگیروں کے لئے آمد و رفت جاری تھا ۔ احتجاجیوں کے بازوؤں پر کالی پٹی بندھی ہوئی تھی اور اور لوگوں کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی تختیاں تھی ۔ جن پر کچھ اس طرح کے نعرے لکھے تھے ۔ ’’ مودی تیری تاناشاہی نہیں چلے گی نہیں چلے گی ،، انقلاب زندہ باد ، ہندو مسلم سکھ عیسای ہم سب ہیں بھائی بھائی ،، آواز دو ہم ایک ہیں ،، جامعہ علی گڑھ طلبہ نہ گھبرانا تیرے پیچھے ہے زمانہ ،، جیسے نعرے لگے وہیں اکثر و بیشتر لوگ ہم سی اے اے این آر سی کا بائیکاٹ کرتے ہیں ۔

اس جلوس کو درجنوں تنظیموں کی حمایت حاصل تھی ۔ جن میں انجمن اسلامیہ موتی ہاری ، جمیعت علماء مشرقی چمپارن ، راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ، بہوجن کرانتی مورچہ ، بھارت مکتی مورچہ ، راشٹریہ مکتی مورچہ ، بھارتی ودھیارتی مورچہ ، Impa ، راشٹریہ کسان مورچہ ، راسٹریہ بےروزگار مورچہ ، بہار یوتھ آرگنازیشن سمیت کئی نام ہیں ۔ اس جلوس کی قیادت سنویدھان بچاؤ مورچہ کے تحت کیا گیا تھا ۔ وہیں جلوس کو کامیاب بنانے میں ڈھاکہ حلقہ ، ترواہ حلقہ ، کیسریا حلقہ ، رکسول ، چریا کے عوام سمیت پورے ضلع کے تقریبا ہر گاؤں سے لوگوں نے شرکت کی ہے ۔ موقع پر ڈھاکہ ایم ایل اے فیصل رحمن ، ایم ایل اے راجندر رام ، ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم احمد ، ایم ایل اے راجیش کمار ، موتی ہاری جامع مسجد کے امام قاری جلال الدین قاسمی ، ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذر المبین ندوی ، سید ساجد حسین ، پارس ناتھ امبیڈکر ، محمد اکرم ، مولانا امان اللہ مظاہری ، مولانا جاوید قاسمی ، سید مبین احمد ، صحافی عزیر انجم ، صحافی عقیل مشتاق ، کانگریس صدر شیلیندر شکلا ، راجد صدر سریش یادو ، ڈاکٹر قاسم انصاری ، توصیف الرحمن ، ڈاکٹر انجم پرویز ، ڈاکٹر صبا اختر شوخ ، ڈاکٹر تبریز عالم ، انور فاروقی ، امتیاز اختر ، انور کمال ، طارق ظفر ، زاہد یوسف زئی ، ارشد خان کے نام شامل ہیں ۔

Leave a Reply