سائنس میں مسلمانوں کی خدمات ، ایجادات اور دیگر موضوعات پر قومی اور بین الاقوامی اسکالرس نے پیش کیا اپنا مقالہ
نئی دہلی: ڈاکٹر فواد سیزگین کی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع اور متعدد علوم وفنون پر مشتمل ہے تاہم سب سے اہم اور مشہور تاریخ التراث العربی کی تصنیف ہے جسے انہوں نے 1965 میں جرمن زبان میں لکھا تھا ، اس کتاب میں انہوں نے معروف مشترق کارل بروکلمان کی موسوعاتی کتابی تاریخ آداب اللغة العربیہ کا گہرائی سے جائزہ لیکر اس میں بیش بہااضافہ کیا اور بروکلمان کے نقائص پر گرفت کی جو 17جلدوں پر مشتمل ہے اور عربی زبان میں یہ کتاب 40 چالیس جلدوں میں ہوجائے گی ۔اسی کتاب کی بنیاد پر انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے بھی سر فراز کیاگیا ۔ 1982 میں انہوں نے گوئٹے یونیورسیٹی کی بنیاد رکھی ۔ 1983 میں انہوں نے اسی ادارے کے تحت اسلامی علوم اور ٹکنالوجی پر مبنی ایک منفرد میوزیم قائم کیا جس میں مسلم سائنسدانوں کی دریافتوں اور ایجادوں کے نادر نمونے ،نقشے اور اشارے موجود ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے زیر اہتمام کانسٹی ٹیوشن کلب دہلی میں منعقد ہونے والے انٹر نیشنل سیمنار میں شرکاءاور دانشوران نے کیا ۔ مجموعی طور پر سبھی شرکاءنے یہ بھی بتایاکہ سیزگین نے سائنسی علوم کے متعلق مسلمانوں کے لکھے ہوئے چار لاکھ مخطوطات کے آثار اور قدیم کتابوں کو تیس سال کی مدت میں مشرق وسطی ،یورپ ، افریقہ ،ترکی ، روس ، ایران ، مصر اور ہندوستان کی ذاتی وعوامی لائبریروں سے اکٹھا کیا اور ان تمام کو مختلف انداز سے ایک ہزار مطبوعات کی شکل میں شائع کیا ۔ جرمنی کی طرز پر 2008 میں ترکی میں انہوں نے ایک میوزیم قائم کیا اور اس میں مسلمانوں کے ایجادہ کردہ سائنسی آلات کے 700 ماڈل کو تیار کرکے رکھا جس اطرلاب ، گلوب ، رصدگاہیں ، پلینیٹریم، فلکیات سے متعلق آلات، مختلف النوع قسم کی گھڑیاںاور وقت کو ناپنے والے آلات ، آپٹیکس ، واٹر لفٹنگ مشینیں، اور واٹر ٹکنالوجی سے متعلق دیگر آلات ، سمت شناسی سے متعلق آلات ، فزکس سے متعلق آلات ، سمندروں میں سمت شناسی سے متعلق آلات اور کمپاس، جیومیٹری سے متعلق آلات،فن تعمیر سے متعلق ماڈل ، قدیم فنی نمونے ،شیشہ اور چینی مٹی کے برتن اور سائنس و ٹکنالوجی سے متعلق تقریباً سبھی شعبے شامل ہیں ۔

سمینار کے اختتام پر اتفاق رائے سے سات رکنی قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں کہاگیا کہ آئی او ایس اسلامی تہذیب ثقافت کو موجودہ زمانہ سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ریسرچ کا کام کرے گا ۔تعلیمی پروگرام اور اہم کورسز نمایاں انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے تیار کئے جائیں گے اور ملک بھر میں اسے نافذ بھی کیا جائے گا ۔آئی او ایس ترکی ،سعودی عرب اور ملیشائے معلومات کے تبادلہ کیلئے رابطہ کرے گا ۔پروفیسر فواد سیزگین کے نام ترکی سفارت خانہ کے تعاون سے پرانسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز ایک چیر قائم کرے گا اس کے علاو ہ آئی او ایس پروفیسر سیزگین کے اہم کاموں کا اردو اور انگریزی میں بھی ترجمہ بھی کرائے گا ۔
دو روزہ سمینار کی صدارت کا فریضہ آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے انجام دیا جبکہ ڈاکٹر علی ابراہیم ایچ نملہ سابق وزیر سعودی عرب ۔ ڈاکٹر مصطفی شاہین ریکٹر سیلک یونیورسیٹی ترکی ۔ پروفیسر ابراہیم محمد ایچ المعیزنی پروفیسر امام محمد بن سعوداسلامی یونیورسیٹی ریاض سعودی عرب ۔ پروفیسر مظہر بغلی ریکٹر نوسحر ہیکی بیکٹاس ویلی یونیورسیٹی ترکی ۔ ڈاکٹر سلیم ارگون نائب صدر محکمہ مذہبی امور ترکی ۔ ڈاکٹر زاہدہ ازکان رشیدی فرنکفٹ یونیورسٹی جرمنی ۔ ڈاکٹر شاکر ازکان ٹورونلر سفیر ترکی برائے ہندوستان ۔ پروفیسر اختر الواسع وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور ۔ڈاکٹرزید ایم خان جنرل سکریٹری آئی او ایس ۔ ڈاکٹر فہیم اختر ندوی پروفیسر مولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور ۔ مولانا عتیق احمد بستوی استاذ احمد دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو ۔ پروفیسر حسینہ حاشیہ اسسٹنٹ جنرل سکریٹری آئی او ایس ۔ پروفیسر عبید اللہ فہد صدر شعبہ اسلامیات علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی ۔ پروفیسر افضل وانی وائس چیرمین آئی او ایس ۔ پروفیسر اشیتاق دانش فائننس سکریٹری آئی او ایس ۔ ڈاکٹر لبنی ناز اسکالر علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی ۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی۔ ڈاکٹر احسان اللہ فہد ۔ڈاکٹر اعجاز احمد سمیت متعدد نامور اسکالرس نے اپنا مقالہ پیش کیا اور خیالات کا اظہار کیا ۔
دورزہ سمینار افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ چھ بزنس سیشن پر مشتمل تھا جس میں ترکی کے نامور محقق فواد سیزگین کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی گفتگو کی گئی ۔اس موقع پر ترکی کے مہمان ڈاکٹر سلیم ارگون آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کو خصوصی مومنٹو پیش کیا ۔

Leave a Reply