پانڈیچری یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ رابعہ عبدالرحیم نے بتایا کہ ایس ایس پی نے اس کو اس ہال سے باہر نکال دیا جس میں صدر جمہوریہ سے گولڈ میڈل لینے کے لئے وہ بیٹھی تھی
پانڈ یچری یونیورسٹی کی ماس کمیونیکیشن میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی رابعہ عبدل رحیم نے اس وقت احتجاج میں اپنا گولڈ میڈل لینے سے انکار کر دیا جب اس کو اس ہال سے باہر نکا ل دیا جہاں صدر جمہوریہ اسناد تقسیم کر رہے تھے۔ واضح رہے اس کو صدر جمہوریہ سے گولڈ میڈل لینا تھا لیکن ایس ایس پی اسے یہ کہہ کر باہر لے گئے کہ انہیں رابعہ سے بات کرنی ہے اور اس کو اس وقت باہر بٹھائے رکھا جب تک صدر جمہوریہ ہال میں موجود رہے۔

واضح رہے رابعہ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہو رہے احتجاج میں حصہ لیا تھا اور اس نے اپنی مخالفت کو چھپایا نہیں ہے۔ رابعہ نے ایک چینل کو بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ ’’ میں باہر سے صدر جمہوریہ کی تقریر سن رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم انہوں نے ایسا کیوں کیا شائد شہریت ترمیمی قانون کی میری مخالفت کی وجہ سے اور میرا اس کے خلاف مظاہروں میں شریک ہونے کی وجہ سے۔‘‘ رابعہ نے بتایا ’’ جب میں نے پولیس والوں سے پوچھا مجھے تقریب میں شرکت کی اجازت کیوں نہیں ہے تو انہوں نے بتایا کہ ان کو معلوم نہیں ہے لیکن ایس ایس پی ایسا چاہتے تھے ۔‘‘
#NewsAlert – Rabiha, a gold medalist from Pondicherry university rejected the gold medal because she was allegedly denied entry into the convocation hall when President Kovind arrived for the event on suspicion that she could protest against CAA.#CAAshowdown pic.twitter.com/7R70AX0Pb4
— News18 (@CNNnews18) December 23, 2019
جب اسناد تقسیم کر کے صدر جمہوریہ وہاں سے چلے گئے تو رابعہ کو اندر جانے کی جازات دی گئی۔ رابعہ نے اپنا سرٹیفیکیٹ تو لیا لیکن بطور احتجاج اس نے گولڈ میڈل لینے سے انکا کر دیا ۔اس نے کہا کہ یہ اس کی اور اس کی قوم کی بہت بے عزتی ہے اور شائد گولڈ میڈل نہ لینا مرکز کو ایک پیغام پہنچائے گا۔ اس نے نیوز 18 کو بتایا کہ ’’ جو کچھ ہندوستان میں طلباء کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے خلاف بطور احتجاج میں گولڈ میڈل نہیں لے رہی۔ یہ میری اور تمام ان طلباء کی بے عزتی ہے جو اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جو سب کچھ آج ملک میں ہو رہا ہے۔‘‘ اس نے کہا کہ وہ این آر سی کے خلاف لڑتی رہے گی۔
اس کے ساتھ کچھ خبریں یہ بھی آ رہی ہیں کہ رابعہ کو حجاب ہٹانے کے لئے کہا تھا جس سے اس نے انکار کر دیا جس کی وجہ سے اس کو ہال سے باہر نکال دیا گیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رابعہ کو باہر نکالنا مقصد ہوتا تو اس کو مدعو کیوں کیا جاتا اور اس کو تقریب کے لئے ہال میں سیٹ اور کانووکیشن کا لباس کیوں دیا جاتا۔ یونیورسٹی کی رجسٹرار بی چترا نے ایک ویبسائٹ کو بتایا ’’ ہمیں نہیں معلوم اس کو کیوں وہاں سے نکلنے کے لئے کہا گیا ۔ ہم تقریب میں مصروف تھے اور ہم پولیس سے اس بارے میں پوچھ بھی نہیں سکے۔ اس کو یونیورسٹی روک نہیں سکتی تھی کیونکہ اس نے خود کو رجسٹرد کرایا تھا، اس کو سیٹ الاٹ کی گئی اور کانووکیشن کا لباس اسے دیا گیا ۔اگر انتظامیہ کو اسے روکنا ہوتا تو اسے یونیورسٹی میں ہی داخل نہیں ہونے دیا جاتا ۔‘‘
پانڈیچری کی پولیس نے رابعہ کے تمام بیانوں اور الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ ایسی بھی خبر ہے کہ دو اور گولڈ میڈلسٹ طلباء کارتیکا اور ارون کمار نے اس تقریب میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ صدر جمہوریہ سے میڈل نہیں لینا چاہتے کیونکہ صدر جمہوریہ نے حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون پر دستخط کئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی وجہ سے ایک اور طالب علم نے اس تقریب میں حصہ نہیں لیا ۔

Leave a Reply