متنازع شہریت ایکٹ اور این آر سی کو لیکر آسام کے ایک پانچ سالہ بچے نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کو لکھا خط






گوہاٹی: (شعیب امام ) گیارہ سال کے یشویر عالم اسلام گوہاٹی کے ممتاز ڈان باسکو اسکول میں پانچویں کلاس کے طالب علم ہیں گوہاٹی میں شہریت قانون کے مخالفت میں پیدا حالات پر انہوں نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اینٹونیو گٹیریس کو خط لکھ کر دخل دینے کی مانگ کر دی ہے ۔ایک ننھے طالب علم کے اس جذباتی خط نے کئی لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچاہے۔طالب علم لکھتا ہے
سر مجھے اپنی خوش نما زندگی واپس چاہئے،ہفتے کے آخر میں سنیما ، ماں اور بابا کے ساتھ کے ایف سی میں پارٹی ہم بہت ہی بے بس محسوس کر رہے ہیں کیونکہ یہاں کوئی ہماری بات نہیں سن رہا اس طالب علم نے یہ بھی لکھا کہ پہلی بار اس نے ا پنے شہر کو ایسا دیکھا ہے میرا دل رو رہا ہے جب میں اپنی مادر وطن آسام کو ایسے جلتے دیکھ رہا ہوں اس طالب علم موجودہ حالات کے مد نظر لکھا کہ پولیس مظاہرینوں پرآنسو گیس کے گولے ،پانی کی بوچھار اور ربر بلیٹ استعمال کر رہی ہے پولیس کی کاروائی میں پانچ آدمی مارے گئے ہیں ۔سر کوئی ہمارے لوگو ں کی آواز نہیں سن رہا ہے ہمیں اپنی اچھی زندگی واپس چاہیے اور اقوام متحدہ انسانی بنیاد پر دخل دے کرامن و سکون لانے میں مدد کرے
میں نے اپنے سوشل سائنس کی کتاب میں اقوام متحدہ اور اس کے کام کے بارے میں پڑھا تھا اور یہ بھی پڑھا تھا کہ انسانی سوز بحران کے وقت کیسے اقوام متحدہ کو خط لکھا جائے اس دن اسکول سے لوٹتے وقت میں نے آنکھوں کے سامنے پرتشدد کارکردگی اور پولیس فائرنگ وغیرہ دیکھی میں نے اپنے چچا سے بات کی اور انہوں نے مجھے اقوام متحدہ کو خط لکھنے کا مشورہ دیا ۔
یشویر عالم کے ماں اور بابا اس معاملہ میں اس کے ساتھ ہیں ماں خود ایک خاتون صحافی ہیں اور گواہٹی سے ایک نیوز پورٹل چلاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یشویر کے کئی سارے دوست اسی کے طرح محسوس کرتے ہیں ۔
یشویر کی ماں کا کہنا ہے کہ اس نے جب مجھے بتایا تو میں نے اپنے ای میل آئی ڈی سے اس کا خط اقوام متحدہ کو میل کرنے مدد کی کیونکہ اس کے پاس انٹر نیٹ نہیں تھا بعد میں نے اس کی میل آی ڈی کھولنے میں مدد کی اور خط پھر سے میل کیا صرف بچے ہی نہیں ان حالات سے گزر رہے ہیں بڑے لوگ بھی کافی پریشان ہیں ۔
جبکہ یشویر اسی انتظار میں اب دن گن رہا ہے کہ اقوام متحدہ اس کے ای میل کا جواب دے اس نے جو جذبات ظاہر کےا ہے صرف اسی کے نہیں بلکہ اس ملک کے سیکڑو ں بچوں کے جذبات ہیں پچھلے کچھ دنوں میں اس ملک میں جو واقعہ پیش آیا ہے اور اب بھی جاری و ساری ہے یہ بچے اس سے متاثر ہیں یہ بچے اس ملک میں بھید بھاؤ نہیں چاہتے ہیں، تشدد نہیں چاہتے ہیں۔ یہ بچے چاہتے ہیں کہ اس ملک کا ایک روشن مستقبل بن کر وہ آگے بڑھیں اور اس لئے اس ملک کے لیڈروں یہ ان کو یقین دلانا پڑے گا کہ اس ملک میں پھر سے ان کے لئے ایک خوشحال زندگی ہو سکتی ہے ۔
(بحوالہ : این ڈی ٹی وی)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *