یوگی کی پولیس نے احتجاج متاثرین سے پرینکا – راہل کو نہیں ملنے دیا






شہریت ترمیم قانون کے خلاف میرٹھ میں ہوئے پرتشدد احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملنے جا رہے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا۔

شہریت ترمیم قانون (CAA) اور قومی شہری رجسٹر (NRC) کے خلاف میرٹھ میں گزشتہ ہفتے ہوئے پرتشدد احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملنے جا رہے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے منگل کو شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا، جس کے بعد وہ واپس دہلی لوٹ گئے ہیں۔ کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ راہل اور پرینکا گاندھی دونوں کو میرٹھ کے باہر پرتاپور سے ہی واپس لوٹا دیا گیا۔

میرٹھ میں مرنے والوں کے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے دونوں رہنماؤں کے دہلی سے روانہ ہونے کی خبر ملتے ہی بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی، راہل گاندھی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں کوئی حکم نہیں دکھایا گیا، لیکن انہیں واپس جانے کے لئے بول دیا گیا، انہوں نے کہا، “ہم نے پولیس سے کہا کہ ہم صرف تین لوگ جائیں گے، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے”۔ راہل اور پرینکا گاندھی کے ساتھ سابق ایم پی پرمود تیواری بھی موجود تھے۔

یوپی کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے راہل گاندھی اور پرینکا گندھی کے روکے جانے کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما مہلوکین کے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے اکیلے جا رہے تھے، اس دوران انتظامیہ چاہتی تو انہیں اپنی نگرانی میں لے جاتی، لیکن یوگی انتظامیہ کانگریس پارٹی سے ڈرتی ہے اور اس طرح کے بہانے بازی کر رہی ہے۔

سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) اجے ساہنی نے کہا کہ کانگریس لیڈروں کو ضلع میں دفعہ 144 نافظ ہونے کے کاغذ دکھائے گئے اور وہ خود لوٹ گئے‘‘۔ کانگریس لیڈر عمران مسعود نے مقتول کے اہل خانہ سے مبینہ طور پر فون پر راہل، پرینکا گاندھی کی بات کرائی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *