نئی دہلی: (ملت ٹائمز) متنازعہ شہریت ایکٹ اور این آر سی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹوڈنٹس آج تیرہویں دن بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اس دوران طلبہ پر پر دو مرتبہ پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا ،آنسوگیس کا استعمال کیا ۔15 دسمبر کو اسٹوڈنٹس کے ساتھ پولس نے جو بربریت کی اس کو پوری دنیا نے دیکھا لیکن طلباء و طالبات کے عزم اور حوصلے برقرار ہیں ہیں اور وہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے اچانک چھٹی کا اعلان کر دیا امتحان ملتوی کردیا دیا تاہم طلبہ کے عزم و ارادے اور ہمت پر پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔اوکھلا کے عوام اور ملک بھر کے لوگ اس احتجاج میں جامعہ کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ شریک ہیں۔آج تیرہویں دن کو 25 دسمبر ہے ہے ملک میں کرسمس کی سرکاری چھٹی ہے ہے لیکن طلباء آج بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور احتجاج کے دوران ہی عیسائی بھائیوں کے ساتھ خوشی شیئر کرتے ہوئے ہوئے کرسمس ڈے منا رہے ہیں۔احتجاج کر رہے جامعہ کے اسٹوڈنٹس نے نے احتجاج کو جاری رکھا ہے اور اس دوران انہوں نے کیک کاٹ کر کے کرسمس ڈے منایا ہے ہے ہندوستان سمیت دنیا بھرکے عیسائیوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔
واضح رہے کہ متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف ہندوستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے اور یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔سرکار نے نے ملک بھر میں ہو رہے ہیں احتجاج کی وجہ سے سے اپنے رویے اور لہجہ میں تبدیلی شروع کردی ہے اور ظاہر ہوگیا ہے کہ سرکار شدید دباؤ میں ہے۔ سرکار مظاہرین سے اپیل کررہی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں لیکن مظاہرین کا صاف لفظوں میں یہی کہنا ہے کہ جب تک سرکار سی اے اے کو واپس نہیں لے گی ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply